ہندی اور مراٹھی فلموںکی تاریخ میں کچھ فنکار ایسے گزرے ہیں جنہوںنےاپنی اداکاری سے کرداروں کو صرف نبھایا نہیں بلکہ انہیں امرکردیا۔سداشیو امراپورکربھی انہی غیر معمولی اداکاروں میں شمار ہوتےہیں۔ان کا چہرہ، آواز، مکالمہ ادا کرنے کا انداز اور آنکھوں کی عجیب سی سنجیدگی ناظرین کے ذہن میں دیر تک نقش رہتی تھی۔
سداشیو امراپورکرکرداروں میں جان ڈالنے کا ہنر جانتے تھے- تصویر:آئی این این
ہندی اور مراٹھی فلموںکی تاریخ میں کچھ فنکار ایسے گزرے ہیں جنہوںنےاپنی اداکاری سے کرداروں کو صرف نبھایا نہیں بلکہ انہیں امرکردیا۔سداشیو امراپورکربھی انہی غیر معمولی اداکاروں میں شمار ہوتےہیں۔ان کا چہرہ، آواز، مکالمہ ادا کرنے کا انداز اور آنکھوں کی عجیب سی سنجیدگی ناظرین کے ذہن میں دیر تک نقش رہتی تھی۔ وہ صرف ولن نہیں تھے، نہ محض کیریکٹر آرٹسٹ، بلکہ ایک ایسے فنکار تھے جو اپنے ہر رول میں نئی روح پھونک دیتے تھے۔ ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کی دہائی میں جب بالی ووڈ میں ولن اکثر ایک جیسے انداز میں پیش کیے جاتے تھے، اس وقت سداشیو امراپورکرنے منفی کرداروں کو نفسیاتی گہرائی، خوف اور حقیقت سے جوڑ دیا۔ ان کے ادا کیے گئے کئی کردار آج بھی ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں یاد کیے جاتے ہیں۔
سداشیو امراپورکرکی پیدائش ۱۱؍مئی ۱۹۵۰ء کو احمد نگرکے ایک متوسط گھرانے میں ہوئی۔ ان کا اصل نام گنیش کمار نارائن امراپورکر تھا۔ بچپن ہی سے انہیں اداکاری اور اسٹیج سے دلچسپی تھی۔ اسکول اور کالج کے دنوں میں وہ ڈراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔
سداشیو امراپورکرنےاپنے فنی سفر کا آغاز مراٹھی تھیٹر سے کیا۔ تھیٹرنےان کی اداکاری کو مضبوط بنیاد دی۔ اسٹیج پر مسلسل کام کرنے سےان کے مکالمے کی ادائیگی، چہرے کے تاثرات اور کردار میں ڈوب جانے کی صلاحیت غیر معمولی ہو گئی۔انہیںفلمی دنیا میں پہچان ۱۹۸۳ءمیں آئی فلم اردھ ستیہ سے ملی۔ گووند نہلانی کی اس فلم میں انہوں نے ایک بے رحم اور طاقتور سیاست داں کا کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ ان کا رول بہت طویل نہیں تھا، لیکن ان کی اداکاری نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ یہی فلم ان کے کریئر کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔
۱۹۸۰ءکی دہائی میں بالی ووڈ میں ولن اکثر شور مچانے والے یا حد سے زیادہ ڈرامائی انداز میں پیش کیے جاتے تھے، مگر سداشیو امراپورکرکا انداز مختلف تھا۔ وہ خاموش لہجےمیں بھی خوف پیدا کر دیتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں ایسی سرد مہری دکھائی دیتی تھی جو کردار کو حقیقت کے قریب لے آتی تھی۔سڑک میں ان کا ادا کیا گیا ’مہارانی‘ کا کردار ہندوستانی سنیما کے یادگار ولنوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایک ظالم خواجہ سرا کے روپ میں انہوں نے ایسی خوفناک اداکاری کی کہ ناظرین برسوں تک اس کردار کو نہیں بھلا سکے۔ اس کردار نے انہیں نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔یہ کہنا غلط ہوگا کہ سداشیوامراپورکرصرف منفی کرداروں تک محدود تھے۔ انہوں نے مزاحیہ، جذباتی اور سنجیدہ ہر قسم کے کردار ادا کیے۔ آنکھیں،قلی نمبرون اور ہم ساتھ ساتھ ہیںجیسی فلموں میں ان کا انداز بالکل مختلف دکھائی دیا۔ کہیں وہ سخت گیر باپ بنے، کہیں مزاحیہ کردار، تو کہیں ایک موقع پرست سیاست دان۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ وہ ہر کردار کو حقیقت کے قریب لے آتے تھے۔ ان کی اداکاری میں بناوٹ کم اور زندگی زیادہ محسوس ہوتی تھی۔سداشیو امراپورکرکو اپنے فلمی سفر میں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ اردھ ستیہ کے لیے انہیں بہترین معاون اداکار کے طور پر بے حدسراہا گیا، جبکہ سڑک میں’مہارانی‘ کے کردار نے انہیں ہندوستانی سنیما کے عظیم ولنوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔زندگی کے آخری برسوں میں وہ بیماریوں کا شکار رہے۔۳؍ نومبر۲۰۱۴ءکوممبئی میں انہوں نے آخری سانس لی۔