سرکاری اسکولوں کی ساکھ بحال کرنے کی کوشش،میونسپل کمشنر کی جانب سے’طلبہ کی تعداد بڑھاؤ‘ مہم کا اعلان۔
اسکول۔ تصویر:آئی این این
شہر کے میونسپل اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد میں مسلسل گراوٹ نے محکمہ تعلیم اور مقامی انتظامیہ کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بالخصوص پہلی جماعت میں داخلوں کی مایوس کن صورتحال کو دیکھتے ہوئے میونسپل انتظامیہ نے اب کمر کس لی ہے۔اس ضمن میں الہاس نگر پیٹرن کے نام سے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے کارپوریشن اسکولوں کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے اور طلبہ کو دوبارہ اسکولوں کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
مہاراشٹر کے اسٹیٹ ایجوکیشن کمشنر کی ہدایات اور ریاستی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کی کمشنر منیشا آوہالے نے شہر کے تمام پرنسپل اور تعلیمی افسران کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ کمشنر نے واضح کیا کہ رائٹ ٹو ایجوکیشن (آر ٹی ای) ایکٹ کے تحت طلبہ کی تعداد میں اضافہ اب انتظامیہ کی اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے تمام اسکول سربراہان کو پابند کیا ہے کہ وہ نئے تعلیمی سال کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مہم چلائیں۔ انتظامیہ نے داخلوں کی شرح بڑھانے کیلئے ۲؍ مرحلوں پر مشتمل ایک اختراعی مہم ’طلبہ کی تعداد بڑھاؤ‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس مہم کی خاص بات یہ ہے کہ اب صرف اساتذہ ہی نہیں بلکہ مقامی عوامی نمائندے اور سماجی کارکنان بھی گھر گھر جا کر والدین کی کونسلنگ کریں گے۔جون تک جاری رہنے والی اس مہم میں انٹریس فیسٹیول اور عوامی بیداری کے پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔میونسپل اسکولوں کو نجی اسکولوں کے ہم پلہ لانے کیلئے کئی اہم اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔شالا آپلیا داری (اسکول آپ کی دہلیز پر) کے تحت اساتذہ والدین سے براہِ راست رابطہ کریں گے۔ والدین کے ساتھ بہتر تال میل کے لئے وہاٹس ایپ گروپس اور دیگر تکنیکی ذرائع کا استعمال کیا جائے گا۔انگریزی میڈیم کی جانب والدین کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے مزید اسکولوں میں سیمی انگلش کا آغاز کیا جائے گا۔ اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے اور فزیکل سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے کارپوریٹ فنڈ کی مدد لی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت نصاب میں تبدیلی اور بنیادی خواندگی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ان اصلاحات اور منظم مہم کے نتیجے میں کارپوریشن اسکولوں کے بارے میں عوامی تاثر تبدیل ہوگا اور رواں تعلیمی سال میں طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ درج کیا جائے گا۔