سیف کے مطابق پٹودی نے بحیثیت کپتان ٹیم کے کھلاڑیوں کی ذہنیت بدلنے پر خاص توجہ دی تھی۔ ان کو یقین تھا کہ ہندوستانی کھلاڑی عالمی کرکٹ پر اپنی دھاک جما سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 9:50 AM IST | Mumbai
سیف کے مطابق پٹودی نے بحیثیت کپتان ٹیم کے کھلاڑیوں کی ذہنیت بدلنے پر خاص توجہ دی تھی۔ ان کو یقین تھا کہ ہندوستانی کھلاڑی عالمی کرکٹ پر اپنی دھاک جما سکتے ہیں۔
وہ شام تھی منصور علی خان پٹودی کے نام،جنہیں ٹائیگر کہا جاتا ہے۔ اپنے دور کے کامیاب اور ہندوستانی کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی اور کپتان پٹودی سے منسوب ایک یادگاری خطبہ کا اہتمام۲۰۱۳ء سے ہر سال کیا جاتا ہے۔ پہلے سال یہ تقریب ۲۰؍ فروری۲۰۱۳ء کو منعقد کی گئی تھی جس میں یادگاری خطبہ کیلئے لٹل ماسٹر سنیل گاوسکر کو مدعو کیا گیا تھا۔ کولکاتا میں یادگاری خطبہ گزشتہ ہفتے جی ڈی برلا سبھا گرہ میں منعقد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی انگلینڈ کے عظیم آل رائونڈر ایان بوتھم تھے۔
بلاشبہ یادگاری خطبہ ایام بوتھم نے دیا مگر اس تقریب کی ایک خاص بات سیف علی خان، جو خود بھی کامیاب اداکار ہیں، کی تقریر تھی جس میں انہوں نے اپنے والد کو بڑے جذباتی انداز میں یاد کیا۔ سیف نے کہا کہ ان کے والد کو ہندوستان کے عظیم کپتانوں میں شمار کیا جاتا ہے، انہیں بے خوف کھلاڑی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے مگر ان کیلئے وہ خاموش طبع اور پروقار شخصیت تھے جن کا ہر خاص و عام دل سے احترام کرتا تھا۔ بقول سیف: ’’وہ کم گو تھے مگر ہر وہ بات جو ضروری ہوتی تھی کہہ دیتے تھے۔ ہمارے گھر میں کرکٹ ہی کرکٹ تھا۔ ہم بچوں کی پرورش اسی ماحول میں ہوئی۔ ہر شخص کرکٹ کا شیدائی تھا اور کھیلنا بھی جانتا تھا خواہ وہ فیملی کے لوگ ہوں، میرے کزن ہوں، ڈرائیور ہو، دیگر خادم ہوں، باغبان ہو یا کوئی اور۔ کرکٹ ہم سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیتا تھا جس نے ہمیں کمسنی میں سکھا دیا تھا کہ سب برابر ہیں اور ہر ایک کی عزت کرنی چاہئے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اکشے کمار نئے اداکار کی طرح کام کرتے ہیں: سعدیہ خطیب کا انکشاف
سیف، جو کامیاب اداکاروں میں شمار کئے جاتے ہیں، اپنے والد کو نہ تو پاپا کہتے تھے نہ ڈیڈی، وہ ابا کہتے تھے۔ یادگاری خطبہ کیلئے منعقدہ محفل میں بھی انہوں نے اسی لفظ (ابا) کا استعمال کیا اور بتایا کہ انہوں نے کپتان کی حیثیت سے ٹیم کے کھلاڑیوں کی ذہنیت بدلنے پر زیادہ توجہ دی۔ ان کا یقین تھا کہ ہندوستانی کھلاڑی عالمی کرکٹ پر اپنی دھاک جما سکتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب ٹیم سے بہت کم توقعات وابستہ کی جاتی تھیں۔ ٹائیگر پٹودی نے یہ بات ٹیم کے کھلاڑیوں کے ذہن نشین کروائی کہ آپ عالمی کرکٹ پر اپنا دبدبہ قائم کرسکتے ہیں۔ ان سے پہلے یہ بات کسی نے نہیں کہی تھی۔ اس دور میں ٹورنامنٹ میں شرکت ہی کو کافی سمجھا جاتا تھا مگر انہوں نے ٹیم کے کھلاڑیوں میں مقابلہ کرنے اور جیتنے کا جذبہ پیدا کیا۔
بقول سیف علی خان، ان کے نام سے کئی کامیابیاں جڑی ہوئی تھیں مگر گھر پر انہوں نے کبھی ان کا تذکرہ نہیں کیا۔ میری والدہ اس بات سے ناراض ہوا کرتی تھیں کہ جب وہ کہیں ڈنر پر جاتی ہیں یا گیٹ ٹو گیدرس میں شریک ہوتی ہیں تو کئی لوگ جو کرکٹ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے وہ بھی ان کی کامیابیوں کا خوشی خوشی تذکرہ کرتے ہیں (مگر وہ نہیں کرتے)، اس پر وہ اتنا کہہ کر خاموش ہو جاتے تھے کہ مجھ سے کسی نے پوچھا ہی نہیں۔
تقریر کے دوران سیف نے اپنے والد ٹائیگر پٹودی کو اپنا ہیرو قرار دیا اور کہا کہ وہ کرکٹ کی دنیا کی سب سے بڑی ٹریجڈی سے دوچار ہوئے مگر سب سے عظیم واپسی بھی درج کرائی۔ بقول سیف: ’’اگر آج وہ اس محفل میں ہوتے تو بڑی الجھن محسوس کرتے (کیونکہ انہیں اپنی تعریف سننا پسند نہیں تھا) مگر پھر یہ سوچ کر اطمینان کرلیتے کہ جو باتیں ہوئیں وہ کرکٹ ہی کے بارے میں تھیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: باپ کی ڈانٹ میں بھی پیار تھا: بوبی دیول جذباتی ہوگئے
نوجوان قارئین کیلئے بتا دیں کہ انگلینڈ ہی میں ایک کار حادثے میں منصور علی خاں پٹودی کی دائیں آنکھ میں کار کے شیشے کا چھوٹا سا ٹکڑا دھنس گیا تھا جس سے اس آنکھ کی بینائی زائل ہوگئی تھی اس کے باوجود انہوں نے صرف ایک آنکھ سے گیند دیکھ کر بلے بازی کی اس قدر دل لگا کر مشق کی کہ حادثہ کے صرف چھ ماہ بعد میدان میں دوبارہ آگئے تھے۔ انہوں نے معذوری کے سبب کرکٹ کو خیرباد نہیں کہا بلکہ انگلینڈ کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ یہ تب کی بات ہے جب ان کی عمر صرف ۲۰؍ سال تھی۔ ۲۱؍ سال کی عمر میں وہ سب سے کم عمر کپتان بننے کا اعزاز پا چکے تھے۔ ۱۹۶۴ء میں انگلینڈ کے خلاف دہلی میں انہوں نے اپنے کریئر کے سب سے زیادہ۲۰۳؍ دن بنائے تھے۔ اتنا ہی نہیں، فروری۱۹۶۸ء میں ان کی جارحانہ قیادت میں ہندوستان کو بیرونی سرزمین پر اولین فتح (نیوزی لینڈ کے خلاف) حاصل ہوئی تھی۔ اسی سال ان کی شادی اپنے وقت کی کامیاب اور مقبول اداکارہ ’’کشمیر کی کلی‘‘ شرمیلا ٹیگور کے ساتھ ہوئی تھی۔