مہاراشٹر کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ( ڈی جی پی ) سنجے پانڈے کو اس وقت راحت مل گئی جب بامبے ہائی کورٹ نے سنجے پانڈے اور دیگر کے خلاف درج کردہ ہفتہ وصولی ، مجرمانہ سازش اور جعلسازی کے تحت درج کردہ کیس کو خارج کرنے کا حکم دیا۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 10:59 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai
مہاراشٹر کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ( ڈی جی پی ) سنجے پانڈے کو اس وقت راحت مل گئی جب بامبے ہائی کورٹ نے سنجے پانڈے اور دیگر کے خلاف درج کردہ ہفتہ وصولی ، مجرمانہ سازش اور جعلسازی کے تحت درج کردہ کیس کو خارج کرنے کا حکم دیا۔
مہاراشٹر کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ( ڈی جی پی) سنجے پانڈے کو اس وقت راحت مل گئی جب بامبے ہائی کورٹ نے سنجے پانڈے اور دیگر کے خلاف درج کردہ ہفتہ وصولی ، مجرمانہ سازش اور جعلسازی کے تحت درج کردہ کیس کو خارج کرنے کا حکم دیا ۔ سنجے پانڈے پر ایک تاجر نے نہ صرف ہفتہ وصولی کا الزام لگایا تھا بلکہ ایک زمین گھوٹالہ معاملہ میں وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے علاوہ سابق پولیس کمشنر کو بھی ملوث کرنے پر دباؤڈالنے کا دعویٰ کیا تھا ۔
سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سنجے پانڈے اور وکیل شیکھر جگتاپ کے علاوہ دیگر کئی پولیس افسران پر تاجر سنجے پونامیا نے ۲۰۱۶ء میں ڈی جی پی کے عہدے پر فائز ہونے کے دوران ایک زمین گھوٹالہ معاملہ میں لاکھوں روپے رشوت لینے کا الزام لگاتے ہوئے تھانے اور قلابہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی تھی ۔ تاہم مذکورہ معاملہ میں سابق ڈی جی پی سنجے پانڈے ، وکیل شیکھر جگتاپ اور دیگر نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے خارج کرنے کی اپیل کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: این سی پی کے دونوں گروپ ایک نہیں ہوں گے
مذکورہ معاملہ میں داخل کردہ عرضداشت پر پہلے بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس بھارتی ڈانگرے اور منجوشا دیس پانڈے کے روبرو شنوائی ہوئی تھی اور عدالت نے مذکورہ معاملہ پر دسمبر تک شنوائی کو ملتوی کر دیاتھا ۔ تاہم درخواست گزاروں نے مذکورہ معاملہ کو بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور جسٹس سمن شیام کے روبرو پیش کیا ۔ دوران سماعت سابق ڈی جی پی سنجے پانڈے نے مذکورہ بالا عائد کردہ الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی رنجش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئےدرج کردہ کیس کو خارج کرنے کی اپیل کی تھی ۔ ان کی پیروی کرتے ہوئے وکلاء مہیر دیسائی اور راہل کامرکر نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ’’ شکایت کنندہ نے ۲۰۱۶ء میں میرے موکل پر ہفتہ وصولی کرنے کاالزام لگایا ہے جبکہ الزام کے ۳؍ سال بعد ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔یہی نہیں سنجے پانڈے کی ڈی جی پی کے عہدے سے عین سبکدوشی کے بعد شکایت درج کرائی گئی اور جھوٹا و بے بنیاد الزام لگایا گیا ۔‘‘یہی نہیں وکلاء نے ایف آئی آر درج کرانے والے تاجر کے مجرمانہ ریکارڈ اور لوگوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے پر کورٹ کی سرزنش کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ شکایت کنندہ کے خلاف کئی پولیس اسٹیشنوں میں مجرمانہ کیس درج ہے۔بعد ازیں کورٹ نے دفاع کی دلیل کو قبول کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ سابق ڈی جی پی سنجے پانڈے اور دیگر کے خلاف درج کردہ کیسوں کو خارج کر دیا جائے ۔یا د رہے کہ اس سے قبل سنجے پانڈے کو ڈی جی پی کے عہدے سے سبکدوشی کے فوراً بعد منی لانڈرنگ اور فون ٹیپنگ معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ تاہم پانڈے کو ہائی کورٹ نے دونوں کیسوں میں راحت دیتے ہوئے ضمانت پر رہا کیا ہے۔