ماہر اطفال منوج شرورے سے گھنٹوں پوچھ تاچھ کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا ، کئی اہم دستاویز ضبط، مزید افراد کی گرفتاری کا امکان۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 10:35 AM IST | Latur
ماہر اطفال منوج شرورے سے گھنٹوں پوچھ تاچھ کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا ، کئی اہم دستاویز ضبط، مزید افراد کی گرفتاری کا امکان۔
نیٹ سوالیہ پرچہ لیک معاملے کی تحقیقات میں سی بی آئی نے ایک اور اہم کارروائی انجام دیتے ہوئے لاتور کے معروف ماہر اطفال ڈاکٹر منوج شرورے کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کیلئے امتحان سے قبل مبینہ طور پر لیک شدہ نیٹ سوالیہ پرچہ حاصل کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق جانچ ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ ڈاکٹر منوج شرورے نے یہ سوالیہ پرچہ مبینہ ملزم موٹےگاؤنکر کے ذریعے حاصل کیا تھا۔ اس معاملے کی کڑیاں سامنے آنے کے بعد سی بی آئی نے گزشتہ کئی دنوں سے لاتور میں مستقل تفتیشی کارروائیاں تیز کر رکھی تھیں۔اطلاع کے مطابق بدھ کو سی بی آئی نے پونے میں کئی طلبہ کے گھروں پر چھاپے مارنے کے بعد رات دیر گئے لاتور میں کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر شرورے کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیا۔ بعد میں طویل تفتیش کے بعد انہیں باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے اشتراک سے فروغ علم و ہنر کیلئے مشاورتی نشست
ڈاکٹر منوج شرورے لاتور کے جونا اوسا روڈ علاقے میں واقع ’سدھی ونایک بال اسپتال‘ چلاتے ہیں اور شہر میں ماہر اطفال کے طور پر مشہور ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد طبی حلقوں سمیت پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔سی بی آئی اس سے پہلے مبینہ ملزم موٹےگاؤنکر کو گرفتار کر چکی ہے۔ تفتیش کے دوران اس سے حاصل معلومات کی بنیاد پر ہی جانچ ایجنسی ڈاکٹر شرورے تک پہنچی۔ بتایا جا رہا ہے کہ سی بی آئی نے ڈاکٹر شرورے کے اسپتال پر بھی چھاپہ مارا، جہاں تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تک ان سے سخت پوچھ تاچھ کی گئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تفتیش کے دوران مختلف سوالات کے جواب میں ڈاکٹر شرورے نے مبینہ طور پر بعض اہم حقائق قبول کئے، جس کے بعد سی بی آئی نے گرفتاری کی کارروائی انجام دی۔ اس معاملے میں والدین کے خلاف یہ پہلی بڑی کارروائی سمجھی جا رہی ہے، جس کے باعث مہاراشٹر بھر میں حیرت اور تشویش کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ جانچ ایجنسی نے ڈاکٹر شرورے کا موبائل فون بھی ضبط کر لیا ہے۔ سی بی آئی اب ان کے رابطوں، کال ریکارڈ اور پیغام رسانی کی تفصیلات کی جانچ کرے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کے موٹےگاؤنکر کے ساتھ روابط کب سے تھے اور آیا لیک شدہ سوالیہ پرچہ مزید افراد تک پہنچایا گیا تھا یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ہم شرد پوار کے بیان سے اتفاق نہیں کرتے‘‘
اسکے علاوہ اسپتال سے کئی اہم دستاویزات بھی ضبط کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم ڈاکٹر شرورے کے بینک کھاتوں اور مالی لین دین کی بھی چھان بین کرے گی تاکہ مبینہ رقم کی ادائیگی یا کسی مشتبہ ٹرانزیکشن کا پتہ لگایا جا سکے۔ سی بی آئی اس پورے ریکیٹ میں شامل دیگر افراد کی تلاش میں مزید کارروائی کر رہی ہے۔ امکان ہے کہ جلد مزید گرفتاریاں ہوں گی۔