Updated: September 14, 2026, 4:58 PM IST
| Mumbai
اداکار سیف علی خان نے جنوری 2025 میں اپنے گھر پر چاقو سے ہونے والے حملے کے خوفناک تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آج بھی اس صدمے سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے دوران وہ تقریباً مفلوج ہو گئے تھے اور خون میں لت پت حالت میں انہیں اپنی موت کا خیال آیا، تاہم خوش قسمتی سے ان کی جان بچ گئی۔
سیف علی خان ۔ تصویر: آئی این این
جنوری۲۰۲۵ءمیں اداکار سیف علی خان کو ممبئی میں واقع ان کے گھر میں چوری کی کوشش کے دوران کئی بار چاقو سے حملہ کر کے زخمی کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود سیف علی خان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اس صدمے سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں اداکار نے حملے کے جسمانی اثرات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک وقت میں وہ تقریباً ’’مفلوج‘‘ ہو گئے تھے اور خون میں لت پت حالت میں انہیں خیال آیا تھا کہ وہ ’’ایک جنگجو کی طرح مرنا‘‘ چاہتے ہیں۔
’’میں ملزم کو خوشی سے معاف کر دوں گا‘‘
بمبئی ٹائمز سے گفتگو کے دوران جب سیف علی خان سے حملے کے بعد کے حالات سے نمٹنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس صورتحال کا غیر معمولی طور پر اچھی طرح سامنا کیا۔ ان کے مطابق اس واقعے سے سب سے زیادہ متاثر ان کی اہلیہ کرینہ کپور ہوئیں، جو عمومی طور پر بہت حساس طبیعت کی حامل ہیں۔ سیف نے کہا، ’’ہم اس سے کافی جلد باہر نکل آئے، لیکن یہ واقعہ انتہائی خوفناک تھا۔ میں اب بھی سو فیصد اس صدمے سے باہر نہیں آیا ہوں، کیونکہ جب بھی میں چاقو دیکھتا ہوں تو میرا ردِعمل فوراً بدل جاتا ہے۔ ‘‘حملے کے دوران شدید زخمی ہونے کے باوجود جان بچ جانے پر بات کرتے ہوئے سیف نے کہا کہ وہ انتہائی خوش قسمت تھے کیونکہ حملہ آور کا چاقو ٹوٹ گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر اس کے پاس ایک مناسب مضبوط چاقو ہوتا تو میں مر چکا ہوتا۔ چاقو کا وار کہیں بھی لگ سکتا ہے۔ میرے جسم پر کئی جگہ زخم آئے، لیکن وہ جان لیوا ثابت نہیں ہوئے۔ میں اب بھی یقین نہیں کر پاتا کہ میں کتنا خوش قسمت تھا۔ ‘‘سیف نے مزید کہا کہ وہ حملہ آور کو معاف کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کے بقول، ’’میں اس شخص کو بھی خوشی سے معاف کر دوں گا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: آیوشمان نے بچوں کے محفوظ بچپن کی اپیل کی
اداکار نے حملہ آور کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے وہ پیسوں کی شدید ضرورت میں مبتلا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات معاشی عدم مساوات کی وجہ سے بھی پیش آتے ہیں، جب کوئی شخص پیسوں کے لیے انتہائی مجبور ہو جاتا ہے۔ سیف کے مطابق ممکن ہے حملہ آور کو خود بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے یا کیا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ تقریباً مفلوج ہو گئے تھے اور کچھ دیر تک اپنی ٹانگ محسوس نہیں کر پا رہے تھے۔ چاقو نے ان کی ریڑھ کی ہڈی کو چھوا تھا، تاہم اسے کاٹا نہیں تھا۔ سیف نے اسے ’’ناقابل یقین‘‘ قرار دیا۔
’’مجھے مفلوج ہونا قبول نہیں تھا‘‘
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس حملے نے زندگی کے بارے میں ان کا نظریہ بدل دیا ہے، سیف نے کہا کہ شاید اس واقعے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ انہیں زندگی میں زیادہ حاضر اور باخبر رہنا چاہیے۔ انہوں نے اسپتال میں گزرے لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت سوچ رہے تھے کہ وہ اپنے اچھے دوستوں کے ساتھ اچھی شراب پینا اور زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ سیف نے کہا، ’’اگر میری زندگی وہیں ختم ہو جاتی تو بھی مجھے کوئی افسوس نہ ہوتا، کیونکہ میرا خیال ہے کہ جنگجوؤں کی موت بھی اچھی ہوتی ہے۔ ‘‘اداکار نے مزید کہا کہ خون میں لت پت حالت میں انہیں یہ احساس ہوا تھا کہ ان کی زندگی بہت اچھی گزری ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے بس یہی یاد ہے کہ میں سوچ رہا تھا کہ یہ ایک شاندار زندگی رہی ہے۔ یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز اور ایک زبردست سفر تھا۔ میں صرف کسی کا ہاتھ تھام کر رخصت ہونا چاہتا تھا۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا، لیکن جس چیز کو میں قبول نہیں کر سکتا تھا وہ مفلوج ہو کر زندگی گزارنا تھا۔ ‘‘
بتا دیں کہ سیف علی خان کو۱۶؍ جنوری۲۰۲۵ء کی علی الصبح ممبئی میں ان کے گھر میں چوری کی کوشش کے دوران کئی بار چاقو سے حملہ کر کے زخمی کیا گیا تھا۔ انہیں مجموعی طور پر چھ زخم آئے تھے، جن میں ریڑھ کی ہڈی کے حصے میں لگنے والا ایک گہرا زخم بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ گردن اور بائیں ہاتھ پر بھی زخم آئے تھے۔ انہیں فوری طور پر لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ہنگامی بنیادوں پر سرجری کی گئی۔ ڈاکٹروں نے ان کی ریڑھ کی ہڈی میں پھنسا ہوا چاقو کا ٹکڑا بھی آپریشن کے ذریعے نکالا۔ سیف علی خان کو پانچ روز بعد اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ فلمی محاذ پر سیف علی خان کی تازہ فلم ’’حیوان‘‘، جس میں وہ اکشے کمار کے ساتھ نظر آئے ہیں، جمعہ کو سنیماگھروں میں ریلیز ہوئی۔