• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب ملک میں وہ امن محسوس نہیں ہوتا: سنجے دت، ’منا بھائی‘ کے انداز میں طنز پیش کیا

Updated: October 04, 2026, 10:09 AM IST | Mumbai

اداکار سنجے دت نے گاندھی جینتی کے موقع پر شیکھر سمن کے شو ’شیکھر ٹونائٹ‘ کی خصوصی قسط میں اپنے معروف کردار ’منّا بھائی‘ کے انداز میں سیاسی طنز پیش کیا۔ تقریباً ۵؍ منٹ کے اس طنزیہ حصے میں انہوں نے فرضی طور پر خود کو ملک کا وزیراعظم تصور کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی غیر ملکی دوروں، سرکاری مقامات پر سیاسی لیڈروں کی تصاویر اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر طنزیہ تبصرے کئے۔ سنجے دت نے موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اب ملک میں پہلے جیسا امن و سکون محسوس نہیں ہوتا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کے تین بندروں کا حوالہ دیتے ہوئے ’’چوتھے بندر‘‘ کی ضرورت بھی بیان کی، جو غلط ہوتا دیکھ کر اسے درست کرنے کی کوشش کرے۔

Sanjay Dutt on Shekhar Suman`s show `Shekhar Tonight`. Photo: INN
سنجے دت شیکھر سمن کے شو ’شیکھر ٹونائٹ‘ میں۔ تصویر: آئی این این

معروف اداکار سنجے دت نے گاندھی جینتی کے موقع پر شیکھر سمن کے شو ’شیکھر ٹونائٹ‘ کی خصوصی قسط میں اپنے مشہور کردار ’منّا بھائی‘ کے انداز میں سیاسی طنز پیش کیا۔ جمعہ کو نشر کی گئی خصوصی قسط کے ایک حصے میں سنجے دت نے تقریباً ۵؍ منٹ کیلئے خود کو فرضی طور پر ہندوستان کا وزیراعظم تصور کیا اور اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں ملک کے سیاسی حالات، مہاتما گاندھی، وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا حوالہ دیا۔ طنزیہ سیشن سے قبل ملک کے موجودہ حالات پر گفتگو کرتے ہوئے سنجے دت نے کہا کہ انہیں اب ہندوستان میں پہلے جیسا امن و سکون محسوس نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا، ’’اس ملک کے لوگ بہت پیارے ہیں اور یہاں امن ہونا چاہئے۔ میں اب اپنے ملک میں وہ سکون محسوس نہیں کر پاتا۔ ہم ہندوستانی بڑے دل والے اور مہمان نواز لوگ ہیں، ہم نے بہت کچھ دیا ہے اور ہمیں ہمیشہ ایسا ہی رہنا چاہئے۔ میں شیو جی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ پرانے دن جلد واپس آ جائیں۔ ‘‘

یی بھی پڑھئے: سلمان خان کی ’’ماتربھومی‘‘ کو حکومت کی منظوری، نومبر میں ریلیز کا امکان

’’میں جشن منانے کیلئے بیرون ملک نہیں جاؤں گا‘‘
شو کے آخری حصے میں سنجے دت سے کہا گیا کہ وہ ۵؍ منٹ کیلئے خود کو وزیراعظم تصور کرکے عوام سے خطاب کریں۔ اس پر وہ فوراً اپنے معروف کردار ’منّا بھائی‘ کے انداز میں آگئے۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا، ’’چلو ملک میں کچھ تو چل رہا ہے۔ میرے پیارے دیش واسیو، آج آپ کا پی ایم بن کے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ یعنی جسم میں ایک عجیب قسم کی لہر دوڑ رہی ہے۔ اتنا بڑا ملک ہے، اتنے سارے لوگ ہیں اور اب ان سب کی ذمہ داری میرے اوپر ہے۔ ‘‘ اس کے بعد انہوں نے وزیر اعظم مودی کے غیر ملکی دوروں کی طرف بالواسطہ اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم بننے کی خوشی میں ملک سے باہر نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’لیکن آپ لوگ بالکل ٹینشن نہ لیں۔ میں اس خوشی کا جشن منانے کیلئے بیرون ملک نہیں جانے والا۔ میں ادھر ہی رہوں گا، آپ سب کے درمیان۔ ورنہ پی ایم اور عوام کے درمیان تعلق کیسے بنے گا؟‘‘ ’’گاندھی جی کے چوتھے بندر کی ضرورت ہے‘‘ سنجے دت نے مہاتما گاندھی کے مشہور تین بندروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں ایک ’’چوتھے بندر‘‘ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں گاندھی جی کو بہت مانتا ہوں۔ گاندھی جی کے تین بندروں کو تو سب جانتے ہیں، برا مت دیکھو، برا مت سنو، برا مت کہو۔ لیکن آج ایک چوتھے بندر کی بھی ضرورت ہے۔ اگر کوئی کچھ غلط ہوتے دیکھے گا، تو اسے ٹھیک کون کرے گا؟ اگر تینوں بندر آنکھ، کان اور منہ بند کرکے بیٹھ جائیں گے تو ملک کیسے چلے گا؟‘‘ان کے اس تبصرے میں سیاسی اور سماجی حالات پر طنزیہ اشارہ بھی نظر آیا، جس میں انہوں نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے غلط چیزوں کی اصلاح کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان کو شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کا کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا

وزیراعظم کی تصاویر پر بھی طنز
سنجے دت نے سرکاری اشتہارات اور عوامی مقامات پر وزیراعظم کی تصاویر کے استعمال پر بھی طنزیہ انداز اختیار کیا۔ فرضی وزیراعظم کے طور پر انہوں نے کہا کہ وہ ملک میں جہاں جہاں اپنی تصاویر دیکھیں گے، انہیں ہٹانے کا حکم دیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’پی ایم بن کے مجھے ملک کیلئے بہت کچھ کرنے کا موقع ملا ہے، تو میں ایک اور کام کروں گا۔ جہاں جہاں میری فوٹو لگی ہے، میں اسے ہٹا دوں گا۔ ملک کو ملک کی تصویر دکھنی چاہئے۔ جہاں میرا فوٹو لگانے کا دل کرے گا، وہاں میں گاندھی جی کا فوٹو لگاؤں گا۔ گاندھی جی کے افکار کو دیکھنا زیادہ ضروری ہے۔ میری فوٹو دیکھ کر عوام کیا کرے گی؟ میری فوٹو تو بعد میں بھی کھنچوائی جا سکتی ہے، لیکن ملک کو پہلے فریم میں رکھنا چاہئے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’مَیں ہوں نا ۲‘ کے متعلق فرح خان کا پراسرار جواب

’’ٹرمپ ماموں کو تھوڑی گاندھی گیری سکھانی پڑے گی‘‘
فرضی وزیراعظم کے طور پر سنجے دت نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی اپنے ’منّا بھائی‘ انداز میں طنز کیا۔ انہوں نے ٹرمپ کو مزاحیہ طور پر ’’ٹرمپ ماموں ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے امن اور بات چیت کو ترجیح دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ملک کو فریم میں لانا ہے تو تھوڑا دنیا کو بھی فریم میں لانا پڑے گا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ ٹرمپ ماموں پوری دنیا کو فریم سے باہر کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ‘‘ اس کے بعد انہوں نے ’گاندھی گیری‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’امن پیار سے بنتا ہے اور پیار گاندھی گیری سے آتا ہے۔ یعنی ٹرمپ ماموں کو تھوڑی گاندھی گیری سکھانی پڑے گی۔ ‘‘سنجے دت نے میزائلوں اور دھمکیوں کے بجائے پھولوں اور مذاکرات کو ترجیح دینے کا مشورہ بھی دیا۔ ان کے بقول، ’’دیکھو ٹرمپ ماموں، زیادہ تناؤ نہیں پالنے کا۔ دنیا میں پہلے ہی بہت میزائل ہو چکے ہیں، اب تھوڑا پیار بھی ایکسپورٹ کرو۔ اگر کہیں میزائل بھیجنے کا دل کرے تو پہلے گلدستہ بھیجو۔ اگر کسی کو دھمکی دینے کا دل کرے تو اسے فون کرکے گھر بلاؤ اور چائے پیتے پیتے بات سلجھاؤ۔ میں امریکہ آ رہا ہوں تمہیں جادو کی جھپی دینے!‘‘
بتا دیں کہ سنجے دت کا یہ پورا طنزیہ انداز ان کی ۲۰۰۶ء کی فلم ’لگے رہو منّا بھائی‘ کے بنیادی تصور سے جڑا ہوا تھا، جس میں ’منّا بھائی‘ کا کردار مہاتما گاندھی کے افکار اور عدم تشدد کو روزمرہ زندگی کے مسائل سے نمٹنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ شو کی اسی خصوصی قسط میں اداکارہ نصرت بھروچا سے متعلق خبر کا بھی ذکر کیا گیا، جو بالی میں ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگنے کے بعد ایئر ایمبولینس کے ذریعے ممبئی واپس آنے کی اطلاعات کے حوالے سے تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK