Updated: September 10, 2026, 7:05 PM IST
| London
پاکستان کے مڈل آرڈر بلے باز سعود شکیل نے ایجبسٹن ٹیسٹ میں ایک اور مایوس کن کارکردگی کے بعد مشکل حالات کا مقابلہ کرنے میں ٹیم کی ناکام بلے بازی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی بلے باز بار بار وہی غلطیاں دُہرا رہے ہیں اور انہیں مشکل مرحلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
پاکستان کے مڈل آرڈر بلے باز سعود شکیل نے ایجبسٹن ٹیسٹ میں ایک اور مایوس کن کارکردگی کے بعد مشکل حالات کا مقابلہ کرنے میں ٹیم کی ناکام بلے بازی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی بلے باز بار بار وہی غلطیاں دُہرا رہے ہیں اور انہیں مشکل مرحلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پاکستانی ٹیم بظاہر سیریز کی بہترین بیٹنگ پچ پر صرف ۵ء۳۳؍ اوورز میں آل آؤٹ ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے:’’رن بالی‘‘ کا ٹیزر جاری، وجے دیوراکونڈا اور ’’دی ممی‘‘ کے ویلن آرنالڈ ووسلومیں مقابلہ
سعود شکیل نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں پچ میں نمی موجود تھی اور ابر آلود موسم نے انگلینڈ کے گیند بازوں کو مدد فراہم کی، تاہم دن گزرنے کے ساتھ پچ بیٹنگ کے لیے بہتر ہوگئی تھی۔ ان کے مطابق اس موقع پر شراکت قائم کرنا اور نئی گیند کا سامنا کرنا انتہائی اہم تھا۔ انہوں نے کہاکہ ٹیسٹ آگے بڑھنے کے ساتھ پچ بہتر ہوگی، لیکن ابتدا میں اس میں نمی تھی۔ ٹاس ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتا، ہم ٹاس ہار گئے اور پہلے بیٹنگ کرنا پڑی، جبکہ ابر آلود حالات انگلینڈ کے حق میں تھے۔ یہ شراکت قائم کرنے کا موقع تھا کیونکہ دن گزرنے کے ساتھ پچ بہتر ہوگئی۔ نئی گیند کے ساتھ انگلینڈ کے ٹاپ آرڈر کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے ہمارے لیے نئی گیند کا مقابلہ کرنا ضروری تھا۔ تاہم پاکستان ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ٹیم کے ابتدائی پانچ بلے بازوں میں سے کوئی بھی دُہرے ہندسے تک نہ پہنچ سکا، جو انگلینڈ میں کسی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ وکٹ پر قیام کے اعتبار سے بھی صورتحال بہتر نہیں تھی اور محمد عباس اور محمد علی کی دسویں وکٹ کی شراکت میں کھیلی گئی ۴۶؍ گیندیں اننگز کی سب سے طویل شراکت ثابت ہوئیں۔
سعود شکیل نے کہاکہ یہ افسوسناک ہے، ہم بحیثیت بیٹنگ یونٹ وہی غلطی کر رہے ہیں۔ ہم گروپ کی صورت میں آؤٹ ہو رہے ہیں اور آج بھی کئی غیر ضروری انداز میں وکٹیں گنوائیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ مایوس کن ہے کہ ہم بار بار وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ اعتماد کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر آپ کو اس سطح پر کھیلنے کا اعتماد نہیں تو آپ یہاں کھیلنے کے مستحق نہیں ہیں۔ لیکن مشکل حالات میں خراب فارم سے نکلنا کافی مشکل ہوسکتا ہے۔ مشکل دور سے نکلنے کی سب سے زیادہ صلاحیت خود سعود شکیل نے دکھائی ہے۔ ایشیا سے باہر خراب کارکردگی کے لیے جانے جانے والے شکیل نے اپنی گزشتہ دو اننگز میں ۱۴۰؍ رنز بنائے ہیں اور وہ سیریز میں پاکستان کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ہیں۔ انہوں نے مشکل حالات میں اپنی فطری دفاعی طرزِ بیٹنگ سے ہٹ کر حالات کے مطابق کھیلنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے:ژینگ کو شکست دے کر ریباکینا یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں پہنچ گئیں
انہوں نے مزیدکہا کہ میں ہر صورتحال کے تقاضوں کے مطابق کھیلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے آس پاس وکٹیں گر رہی تھیں، اس لیے میرے لیے بہترین راستہ زیادہ سے زیادہ رنز بنانا تھا۔ چنانچہ میں اپنے اردگرد کی صورتحال کے مطابق تیز رفتاری سے بیٹنگ کر رہا تھا۔ شکیل نے تسلیم کیا کہ پاکستان کو انگلینڈ میں توقع سے زیادہ سازگار بولنگ حالات کا سامنا کرنا پڑا اور ٹیم اس کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ لارڈز میں بھی حالات مشکل تھے، جہاں جو روٹ جیسے بلے باز کو بھی مشکلات پیش آئیں، جبکہ ایجبسٹن میں بھی گیند نے توقع سے زیادہ سوئنگ اور سیم کیا۔ انہوں نے کہاکہ حالات خاص طور پر لارڈز میں چیلنجنگ تھے۔ وہاں جو روٹ جیسے بلے باز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی سیریز مشکل رہی ہے۔ یہاں کے حالات نے مجھے حیران کیا۔ اگر آپ نیوزی لینڈ سیریز سے اس کا موازنہ کریں تو یہاں گیند نے پچ سے خاصی حرکت کی ہے۔ شاید ہم اس کے عادی نہیں ہیں۔ لیکن ہم نے اپنی پوری کوشش کی۔ ہم اپنی بیٹنگ کی ناکامی تسلیم کرتے ہیں، لیکن حالات بھی گیند بازوں کے حق میں ہیں۔