Updated: February 08, 2026, 5:06 PM IST
| Mumbai
۳۰؍ سال سے زیادہ عرصے سے شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان بالی ووڈ میں مضبوط ہیں، جبکہ بہت سے دیگر اداکار آئے اور چلے گئے۔ پہلے لوگ ان کی فلمیں صرف اس لیے دیکھتے تھے کیونکہ وہ بڑے ستارے تھے، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ آج کے ناظرین ایسی فلموں کو جلدی مسترد کر دیتے ہیں جو ان سے جڑتی نہ ہوں، چاہے اداکار کوئی بھی ہو۔
عامر ، سلمان اور شاہ رخ خان۔ تصویر:آئی این این
۳۰؍ سال سے زیادہ عرصے سے شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان بالی ووڈ میں مضبوط ہیں، جبکہ بہت سے دیگر اداکار آئے اور چلے گئے۔ پہلے لوگ ان کی فلمیں صرف اس لیے دیکھتے تھے کیونکہ وہ بڑے ستارے تھے، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ آج کے ناظرین ایسی فلموں کو جلدی مسترد کر دیتے ہیں جو ان سے جڑتی نہ ہوں، چاہے اداکار کوئی بھی ہو۔ عامر خان کے بھانجے عمران خان کا کہنا ہے کہ اس نسل کے ستاروں کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ اپنی عمر کو قبول کریں اور ایسے کردار ادا کریں جو ان کی زندگی کے مرحلے کے مطابق ہوں۔انہوں نے کہاکہ آپ کسی ایک عمر کے بعد مرکزی کردار نہیں نبھا سکتے۔‘‘
ایک انٹرویو کے دوران عمران نے خان صاحبان کی صنعت میں لمبی عمر پر جائزہ لیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’ایک مرکزی اداکار کے طور پر، اداکار بھی عمر کے ساتھ مرکزی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ کچھ سال ایسے ہوتے ہیں جب آپ مرکزی کردار کے طور پر کام کر سکتے ہیں اور پھر ایک عمر آتی ہے جب آپ وہ کردار نہیں کر سکتے۔ تینوں خان اب ۶۰ء کی دہائی میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس تیس سال کی شہرت ہے، جس کی مثال دینا یا اس کا موازنہ کرنا مشکل ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کا ایک حصہ قدرتی ہے، کسی بھی اداکار کے سفر کا ناگزیر حصہ، کہ جیسے جیسے آپ کی عمر بڑھتی ہے، آپ ان کرداروں کی طرف منتقل ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو آپ کی عمر کے مطابق ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ شہرت بھی وقت کے ساتھ قدرتی طور پر بدلتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’آپ کی شہرت بھی بدلتی ہے کیونکہ ناظرین کا ایک طبقہ ایساہوتا ہے جو آپ کو جانتا ہے اور آپ کے ساتھ بڑھتا ہے، اور پھر ایک نئی نوجوان نسل آتی ہے جو اپنے عمر اور تجربے کے قریب لوگوں کے ساتھ جڑتی ہے۔ جب ہم فلمیں یا شوز دیکھتے ہیں، سب سے پہلے، ہم ان کہانیوں اور کرداروں میں خود کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو آپ کے ساتھ گونجتی ہے۔ آپ خود بخود اس شخص سے جڑتے ہیں جو آپ کی عمر اور زندگی کے تجربے کے قریب ہو۔ نئی نسل شاید ایک ۷۰؍ سالہ آدمی کی کہانی دیکھنا نہ چاہے۔”
یہ بھی پڑھئے:’’میرے ڈھولنا ۳‘‘ کیلئے اداکار کی ٹیم اریجیت سنگھ کو سائن کرنا چاہتی تھی
یہ گفتگو زیادہ معنی رکھتی ہے جب حالیہ باکس آفس کے رجحانات کے ساتھ دیکھی جائے۔ ’زیرو‘ کے بعد، شاہ رخ خان نے چار سال کا وقفہ لیا اور پھر دو بڑی ہٹ فلموں ’پٹھان‘ اور’جوان‘ کے ساتھ شاندار واپسی کی۔ تاہم، اسی سال کی ان کی تیسری ریلیز ’ڈنکی‘ باکس آفس پر توقع کے مطابق کامیاب نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے:ناسا کے خلا بازوں کو چاند کی مہم پر جدید ترین اسمارٹ فون لے جانے کی اجازت ہوگی
اسی طرح، عامر کی ’لال سنگھ چڈھا‘ باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی جبکہ ’ستارے زمین پر‘زیادہ تر مضبوط معاون کردار کی وجہ سے سراہا گیا، نہ کہ عامر کو ایک روایتی ہیرو کے طور پر دکھانے کے لیے۔ دریں اثنا، سلمان خان کا بھی ۲۰۱۸ء کے بعد مشکل وقت گزرا، ان کی زیادہ تر فلمیں کامیاب نہیں ہوئیں، سوائے ’ٹائیگر۳‘ کے، جو ایک نایاب کامیابی ثابت ہوئی۔