Updated: October 22, 2026, 9:04 PM IST
| Mumbai
کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ کی جاسوسی اور ایکشن سے بھرپور فلمی سیریز ’’دُھرندر‘‘ پر تنقید کرتے ہوئے اس میں دکھائے گئے حد سے زیادہ خونریز تشدد اور ہندوستان۔پاکستان تعلقات سے متعلق سیاسی پیغام پر سوال اٹھائے ہیں۔
ششی تھرور اور رنویرسنگھ۔ تصویر:آئی این این
کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ کی جاسوسی اور ایکشن سے بھرپور فلمی سیریز ’’دُھرندر‘‘ پر تنقید کرتے ہوئے اس میں دکھائے گئے حد سے زیادہ خونریز تشدد اور ہندوستان۔ پاکستان تعلقات سے متعلق سیاسی پیغام پر سوال اٹھائے ہیں۔ تاہم، انہوں نے فلم کی کہانی، اداکاری، ہدایت کاری، منظر نگاری اور دوسرے حصے کی تفریحی خوبیوں کی تعریف بھی کی۔ ششی تھرور کے مطابق فلم میں کئی ایسے مناظر ہیں جن میں تشدد کو ضرورت سے زیادہ نمایاں کیا گیا ہے، جبکہ اس کے اندر واضح طور پر پروپیگنڈا بھی شامل محسوس ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دلجیت دوسانجھ کے دہلی کنسرٹ کو پولیس کی اجازت دینے سے انکار
ششی تھرور نے اپنے سرکاری یوٹیوب چینل پر تقریباً سات منٹ کی ایک ویڈیو میں دونوں فلموں کے بارے میں اپنی رائے پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ فلم میں خونریزی، تشدد، تباہی اور سفاکی کو ضرورت سے زیادہ دکھایا گیا ہے۔ ان کے خیال میں کہانی کو اتنا ہی مؤثر بنانے کے لیے اس قدر بھیانک مناظر شامل کرنا ضروری نہیں تھا۔ تھرور نے فلم کے تشدد کو حد سے تجاوز کرنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی سنیما کے بعض انتہائی ناگوار مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، فلم ساز کم تشدد کے ساتھ بھی ایک مضبوط اور دلچسپ کہانی پیش کرسکتے تھے۔
ان کے اس تبصرے نے ایک بار پھر اس بحث کو نمایاں کردیا ہے کہ فلموں میں ایکشن اور حقیقت پسندی کے نام پر تشدد کی کتنی شدت دکھائی جانی چاہیے اور اس کا ناظرین پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ ششی تھرور نے فلم کے سیاسی پیغام اور پاکستان کی تصویر کشی پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلم میں پروپیگنڈہ کے عناصر واضح طور پر موجود ہیں۔ ان کے مطابق، انہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فلموں کو پاکستان کے علاوہ خلیجی ممالک میں بھی نمائش سے متعلق پابندیوں یا رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔ ان پابندیوں کے حوالے سے یہ خدشات سامنے آئے کہ فلم کا مواد ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
تھرور نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر پاکستانی ناظرین یہ فلمیں دیکھیں تو ان کا ردعمل کیا ہوگا۔ ان کے خیال میں بعض مکالمے پاکستانی ناظرین کو ہنسنے پر مجبور کرسکتے ہیں، جبکہ کچھ مناظر اور واقعات انہیں اس بات پر غور کرنے کی طرف لے جاسکتے ہیں کہ ان کے ملک کے نام پر کیا کچھ کیا گیا ہے۔ان کے تبصرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فلم کی تفریحی قدر کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کے سیاسی پیغام اور پڑوسی ملک کے بارے میں پیش کیے گئے تصور کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’ ’رامائن‘‘ او ٹی ٹی پر بھی مفت نہیں دیکھی جا سکے گی، فلم کیلئے الگ سے رقم ادا کرنا ہوگی
فلم پر سخت تنقید کے باوجود ششی تھرور نے اس کے دوسرے حصے ’’دُھرندر: دی ریوینج‘‘ کو پہلے حصے کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا۔ انہوں نے کہا کہ افسانوی کہانی اور تفریح کے نقطۂ نظر سے دوسری فلم شاندار ہے۔ تھرور نے کہانی کی ترتیب، غیر متوقع موڑ اور واقعات کو آگے بڑھانے کے انداز کی تعریف کی۔ ان کے مطابق، پہلی فلم کے اختتام پر کئی سوالات اور کہانی کے بعض پہلو نامکمل محسوس ہوتے ہیں، لیکن دوسرے حصے میں ان کڑیوں کو بہتر انداز میں جوڑا گیا ہے، جس سے فلم زیادہ دلچسپ بن گئی ہے۔ انہوں نے اداکاروں کی کارکردگی کو بھی سراہا، بالخصوص اکشے کھنہ اور ارجن رامپال کی اداکاری کی تعریف کی۔ دونوں اداکاروں نے فلمی سیریز میں اہم مخالف کردار ادا کیے ہیں۔ تھرور کے مطابق، دونوں نے اپنے کرداروں کو مؤثر انداز میں پیش کیا اور ان کی اداکاری فلم کے نمایاں پہلوؤں میں شامل ہے۔
فلم میں رنویر سنگھ نے جاسوسی کے مشن پر مامور کردار جسکیرت سنگھ رنگی کو پیش کیا ہے، جو پاکستان میں حمزہ علی مزاری کی شناخت اختیار کرتا ہے۔ کہانی میں خفیہ کارروائیوں، سرحد پار مشنوں اور دہشت گردی سے متعلق واقعات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ششی تھرور نے اپنے سفارتی تجربے اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ذاتی تجربہ فلم میں دکھائی گئی کارروائیوں سے مختلف رہا ہے۔ ان کے مطابق، ان کی بات چیت عموماً تجزیے، معلومات کے تبادلے اور معاملات پر گفتگو تک محدود رہی، نہ کہ فلموں کی طرح سنسنی خیز خفیہ مشنوں اور دور دراز مقامات پر دھماکوں تک۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلم میں دکھائی گئی جاسوسی کی دنیا کو حقیقی انٹیلی جنس نظام کی مکمل عکاسی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے خیال میں فلم میں حقیقت سے متاثر عناصر ضرور ہوسکتے ہیں، لیکن کہانی کو افسانوی تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:بنگلہ دیش کو باہر کرکے افغانستان سہ فریقی سیریز کے فائنل میں
ششی تھرور نے اداکار آر مادھون کے کردار اجے سنیال کے بارے میں بھی اپنی رائے ظاہر کی، جسے ہندوستان کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول سے متاثر سمجھا جاتا ہے۔ تھرور نے اس تصور پر سوال اٹھایا کہ ایک ہی افسر کئی دہائیوں تک قومی سلامتی کے نظام میں اسی نوعیت کے عہدے پر برقرار رہ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری نظام اور انتظامی ڈھانچے میں وقت کے ساتھ ذمہ داریاں مختلف افراد کو منتقل ہوتی رہتی ہیں، اس لیے فلم میں ایک ہی کردار کو طویل عرصے تک مرکزی حیثیت دینا حقیقی صورت حال کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ افسانوی فلم میں ایک نمایاں کردار کے ذریعے پوری کہانی کو جوڑنا فلم سازی کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے۔ تھرور نے اسی لیے زور دیا کہ فلم کے واقعات کو تاریخی یا حقیقی سرکاری کارروائیوں کا مستند ریکارڈ سمجھنے کے بجائے ایک افسانوی کہانی کے طور پر دیکھا جائے۔
ششی تھرور نے اپنی تنقید کے ساتھ فلم کی فنی خوبیوں کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے فلم کے بڑے پیمانے پر کیے گئے کام، شاندار سیٹوں، منظر نگاری، ہدایت کاری اور اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فلمیں مجموعی طور پر ایک بڑے سنیما تجربے کا احساس دلاتی ہیں۔ ان کے مطابق، فلم کی پیش کش اور کہانی کے اتار چڑھاؤ نے اسے ایک قابل ذکر سنیما تجربہ بنایا ہے۔ اس طرح تھرور کی رائے محض مخالفت یا تعریف تک محدود نہیں رہی، بلکہ انہوں نے فلم کی فنی کامیابی اور اس کے سیاسی و تشدد پر مبنی پہلوؤں کے درمیان فرق واضح کیا۔ان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ کسی فلم کی بہترین اداکاری، شاندار ہدایت کاری اور تفریحی قدر کو سراہنے کے باوجود اس کے پیغام، تشدد اور قومی جذبات کی پیش کش پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں۔