Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا ایک بہت بڑی اور غیر معمولی طاقت بن چکا ہے: روی کشن

Updated: July 27, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

اداکار اور رکنِ پارلیمنٹ روی کشن نے جنتر منتر پر جاری احتجاج، سینسرشپ، اتر پردیش اسمبلی انتخابات اور ایک اداکار و سیاست دان کے طور پر اپنے سفر پر اظہارِ خیال کیا۔

Ravi Kishan.Photo:INN
روی کشن۔ تصویر:آئی این این

اداکار اور رکنِ پارلیمنٹ  روی کشن نے جنتر منتر پر جاری احتجاج، سینسرشپ، اتر پردیش اسمبلی انتخابات اور ایک اداکار و سیاست دان کے طور پر اپنے سفر پر اظہارِ خیال کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے رات گئے اپنے خطاب میں کہا کہ مظاہرین کے بعض مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ایک نیا قانون لایا جائے گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ کیا صرف نیا قانون تجویز کرنا اور فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنا اس خلا کو پُر کرنے کے لیے کافی ہوگا؟اس سوال کے جواب میں روی کشن نے کہاکہ’’ جی ہاں، یہ نہایت اہم ہے اور یہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔ میں دل کی گہرائیوں سے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جے پی نڈا جی سونم وانگ چک سے ملے اور انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کیا۔ وزیر اعظم نے رات گئے اپنے ویڈیو پیغام میں گہری تشویش کا اظہار کیا۔ میرے چار بچے ہیں اور سب طالب علم ہیں، اس لیے میں ان طلبہ کے دکھ کو اچھی طرح محسوس کر سکتا ہوں۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ حال ہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیر اعظم کے ساتھ ہماری ایک ’’منگل میٹنگ‘‘ ہوئی تھی۔ حکومت اپوزیشن کے ساتھ بات چیت چاہتی ہے۔ قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی بھی وہاں موجود تھے، لیکن بات چیت آگے نہیں بڑھ سکی۔‘‘ روی کشن نے کہاکہ وزیر اعظم فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کے حامی ہیں۔ انہوں نے منگل کی میٹنگ میں بھی یہی بات کہی، کیونکہ ہم قانون ساز ہیں اور نیا قانون بنا سکتے ہیں۔ اگر اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہو تو ایسا سخت قانون بنایا جانا چاہیے کہ آئندہ کوئی بھی پرچہ لیک کرنے کی جرات نہ کرے۔ اس جرم کی سزا عمر قید ہونی چاہیے، کیونکہ آپ لاکھوں خاندانوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔  

یہ بھی پڑھئے:نیٹ پرچہ لیک احتجاج میں عمر خالد و شرجیل امام کی حمایت کرنے پر دو نوجوان گرفتار


مظاہرین کو اب بھی کیا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کس معاملے کو حل نہیں کر رہی؟ حکومت کی جانب سے رابطے کے باوجود انہیں لگتا ہے کہ ابھی بھی کچھ کمی باقی ہے۔اس سوال کے جواب میں  روی کشن  نے کہا کہ  اگر وزیر اعظم آدھی رات کو ویڈیو پیغام جاری کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ عوام کی آواز سن رہے ہیں۔ یقیناً طلبہ کی آواز ان تک پہنچی، اسی لیے انہوں نے بات کی۔ انہوں نے ہم سے بھی اس موضوع پر گفتگو کی۔ اس مسئلے پر کافی سنجیدگی سے بحث ہو رہی ہے۔ آخر وزیر اعظم اپنے ملک کے ۶۵؍ فیصد نوجوانوں کی بات کیوں نہیں سنیں گے؟ یہی نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:’’روایتی شوز کو ختم کرنے کیلئے میں نے اپنا پروڈکشن ہاؤس شروع کیا ہے‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’جنتر منتر یا مختلف کالجوں میں احتجاج کرنے والے طلبہ ایک حساس عمر میں ہوتے ہیں، جہاں کوئی بھی انہیں آسانی سے گمراہ کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تحریک کسی اور سمت نہیں جانی چاہیے۔ اس پر سیاست کا اثر نہیں پڑنا چاہیے اور نہ ہی اس میں دوسرے نعرے شامل ہونے چاہئیں۔ طلبہ خود بھی چاہتے ہیں کہ جس مقصد کے لیے وہ آئے ہیں، صرف اسی کی آواز بلند ہو اور صرف اسی مطالبے پر توجہ دی جائے۔ دوسرے لوگ اس تحریک کا رخ نہ بدلیں۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ طلبہ کے تمام مطالبات پورے کیے جائیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK