Updated: June 30, 2026, 5:05 PM IST
| Mexico City
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ایران کی فٹ بال ٹیم (ٹیم ملی) کا سفر اگرچہ لاجسٹک مسائل، سیاسی تناؤ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد مایوس کن انداز میں ختم ہو گیا، لیکن میکسیکو کے سرحدی شہرٹیجوانا کے عوام نے ایرانی کھلاڑیوں کو جس محبت اور احترام کے ساتھ الوداع کیا، اس نے اس تلخ سفر کو یادگار بنا دیا۔
ایرانی فٹبال ٹیم۔ تصویر:ایکس
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ایران کی فٹ بال ٹیم (ٹیم ملی) کا سفر اگرچہ لاجسٹک مسائل، سیاسی تناؤ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد مایوس کن انداز میں ختم ہو گیا، لیکن میکسیکو کے سرحدی شہرٹیجوانا کے عوام نے ایرانی کھلاڑیوں کو جس محبت اور احترام کے ساتھ الوداع کیا، اس نے اس تلخ سفر کو یادگار بنا دیا۔
ہفتے کے روز آسٹریا اور الجزائر کے درمیان میچ کے آخری منٹوں میں ہونے والے گول کی وجہ سے ایران بہترین پوزیشن والی تیسری ٹیموں کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔ اس سے قبل جمعہ کو مصر کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ایران کا آخری لمحات میں کیا گیا فیصلہ کن گول وی اے آر کے متنازع فیصلے کی وجہ سے آف سائیڈ قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد میچ ۱۔۱؍گول سے برابر رہا اور ایران کی قسمت دوسروں کے ہاتھ میں چلی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:نمرت کور اہلووالیا نے اپنے یادگار لمحے کو یاد کیا
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے ایرانی ٹیم کو ورلڈ کپ کے دوران انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ویزا کی ممکنہ پیچیدگیوں کے خوف سے ایران نے ٹورنامنٹ شروع ہونے سے ٹھیک پہلے اپنا بیس کیمپ امریکی ریاست ایریزونا سے منتقل کر کے میکسیکو کے شہر ٹیجوانا میں قائم کیا تھا۔سخت ترین سیکوریٹی اور لاجسٹک قوانین کے تحت، ایرانی ٹیم کو امریکہ میں میچ ختم ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی واپس میکسیکو روانہ ہونا پڑتا تھا۔ ایران نے فیفا سے میچز کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کی درخواست بھی کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:وہ مہاجر بیٹے جنہوں نے کنیڈا کو پہلی بار ورلڈ کپ کے آخری ۱۶؍ مرحلے تک پہنچایا
ان تمام تر مشکلات کے بیچ، میکسیکو کے عوام ایرانی ٹیم کے لیے ڈھال بن گئے۔ تین ہفتوں کے دوران ٹیجوانا کے ہوٹل کے باہر روزانہ سیکڑوں مقامی مداح ایرانی کھلاڑیوں کے آٹوگراف لینے اور ان یکجہتی کے لیے جمع ہوتے رہے۔ ٹیم کی رخصتی کے دن مداحوں نے ایسی کیپس پہن رکھی تھیں جن پر لکھا تھا’’ایران بھائی، اب تم میکسیکن ہو چکے ہو!‘‘
میکسیکو میں متعین ایرانی سفیر ابوالفضل پسندیدہ اور فٹ بال فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل ہدایت ممبینی نے مقامی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ میکسیکو میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا (X) پر جاری اپنے پیغام میں کہا’’ٹیجوانا کے شہریوں کی سخاوت اور حقیقی مہمان نوازی نے ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ ہم اپنے گھر سے دور ہیں۔ ہمارے وفد کے ساتھ جو غیر منصفانہ اور غیر کھیلانہ سلوک (امریکہ کی طرف سے) کیا گیا، اس کے باوجود آپ نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔‘‘دوسری جانب، سرائیوو میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر فیفا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ’’فیفا کو مستقبل میں میزبان ممالک کا انتخاب کرتے وقت زیادہ احتیاط برتنی چاہیے، اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ میزبان ملک انسانی اصولوں کا پاسدار ہو۔