آئی سی سی مینز ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے بنگلہ دیش نے اپنے ۱۵؍ رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ اسٹار اوپنر لٹن کمار داس ہندوستان اور سری لنکا میں فروری اور مارچ میں ہونے والے اس میگا ایونٹ میں ٹیم کی قیادت کریں گے۔
EPAPER
Updated: January 04, 2026, 4:13 PM IST | Dhaka
آئی سی سی مینز ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے بنگلہ دیش نے اپنے ۱۵؍ رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ اسٹار اوپنر لٹن کمار داس ہندوستان اور سری لنکا میں فروری اور مارچ میں ہونے والے اس میگا ایونٹ میں ٹیم کی قیادت کریں گے۔
آئی سی سی مینز ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے بنگلہ دیش نے اپنے ۱۵؍ رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ اسٹار اوپنر لٹن کمار داس ہندوستان اور سری لنکا میں فروری اور مارچ میں ہونے والے اس میگا ایونٹ میں ٹیم کی قیادت کریں گے۔ بنگلہ دیش اب تک ہونے والے تمام ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ مقابلوں کا حصہ رہا ہے، لیکن وہ کبھی سیمی فائنل تک رسائی نہیں کر سکا۔ اس بار بنگلہ دیشی سلیکٹرز نے ایک متوازن ٹیم میدان میں اتاری ہے۔
ٹیم کا سب سے مضبوط پہلو ان کا بولنگ اٹیک ہے جس کی قیادت مستفیض الرحمان اور تسکین احمد کریں گے۔ اسپن بولنگ میں مہدی حسن، نسیم احمد اور رشاد حسین ہندوستانی اور سری لنکن پچوں پر حریف ٹیموں کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔بیٹنگ کی ذمہ داری کپتان لٹن داس، تنزید حسن اور پرویز حسین ایمون کے کندھوں پر ہوگی۔ بنگلہ دیش کو ایک مشکل گروپ میں رکھا گیا ہے جہاں ان کا مقابلہ انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، نیپال اور اٹلی سے ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:وینزویلاپر امریکی حملہ: خام تیل اور دیگر زمروں میں اتار چڑھاؤ کا امکان
ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیش کا مکمل اسکواڈ: لٹن کمار داس (کپتان)، تنزید حسن، محمد پرویز حسین ایمون، محمد سیف حسن، توحید ہردوئے، شمیم حسین، قاضی نور الحسن سوہن، شاک مہدی حسن، رشاد حسین، نسوم احمد، مستفیض الرحمان، تنزیم حسن ثاقب، تسکین احمد، سیف الدین اور شریف الاسلام۔ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ پرامید ہے کہ لٹن داس کی قیادت میں یہ نوجوان اسکواڈ ایونٹ میں تاریخ رقم کرنے میں کامیاب رہے گا۔
یہ بھی پڑھئے:فٹبال ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کی ٹرافی کا عالمی سفر شروع، پہلا پڑاؤ سعودی عرب
میں ابھی کہیں نہیں جا رہا، اسٹیو اسمتھ نے ریٹائرمنٹ کی خبروں کو مسترد کر دیا
عثمان خواجہ کے بعد کیا اسٹیو اسمتھ بھی ریٹائرڈ ہو رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب خود اسمتھ نے دوٹوک انداز میں دے دیا ہے۔ سڈنی ٹیسٹ سے قبل گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ وہ ابھی کرکٹ سے بھرپور لطف اندوز ہو رہے ہیں اور ان کا ریٹائرمنٹ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اسٹیو اسمتھ نے عثمان خواجہ کے نقشِ قدم پر چلنے سے انکار کر دیا ہے۔اسمتھ نے عثمان خواجہ کے ساتھ اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ نے ہمیشہ اپنی محنت سے مشکلات کا مقابلہ کیا۔ عثمان ایک کمال کے کھلاڑی ہیں، ان کے خلاف بچپن سے کھیلنا ایک اعزاز رہا۔ ۲۰۱۸ء میں پاکستان کے خلاف خواجہ کی پرفارمنس کو کریئر کا بہترین قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیم میں سینئر کھلاڑیوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے میرا میدان میں موجود رہنا ضروری ہے۔ اسٹیو اسمتھ نے امید ظاہر کی کہ عثمان خواجہ اپنے آخری ٹیسٹ کو یادگار بنائیں گے۔