• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آدرش گورو اور شنایا کپور کی فلم ’’تو یا میں‘‘ کا ٹیزر جاری

Updated: January 10, 2026, 5:03 PM IST | Mumbai

اداکار سنجے کپور کی بیٹی شنایا کپور اپنی پہلی فلم کی ناکامی کے بعد بقا پر مبنی تھریلر ’’تو یا میں‘‘ کے ذریعے بڑے پردے پر واپسی کر رہی ہیں۔ ٹیزر کو سوشل میڈیا پر ملا جلا مگر دلچسپ ردِعمل ملا ہے۔ یہ فلم ۱۳؍ فروری کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوگی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

سنجے کپور کی بیٹی شنایا کپور نے رومانوی ڈرامہ ’’آنکھوں کی گستاخیاں‘‘ سے فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا، تاہم یہ فلم تنقیدی اور تجارتی دونوں سطحوں پر ناکام رہی۔ اب شنایا ایک بالکل مختلف انداز کی فلم ’’تو یا میں‘‘ کے ساتھ ناظرین کے سامنے آ رہی ہیں۔ یہ بقا پر مبنی تھریلر فلم بیجوئے نمبیار کی ہدایتکاری میں بنائی گئی ہے، جس میں شنایا کے ساتھ آدرش گورو مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم کے ۲؍ منٹ ۱۵؍ سیکنڈ کے ٹیزر میں شنایا کو ایک مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر کے طور پر دکھایا گیا ہے، جو ایک ریپر اور انفلوئنسر آدرش گورو کے ساتھ آن لائن تعاون شروع کرتی ہے۔ یہ پیشہ ورانہ شراکت رفتہ رفتہ محبت میں بدل جاتی ہے، مگر کہانی اس وقت خطرناک موڑ اختیار کر لیتی ہے جب ان کا ابھرتا ہوا رومان ایک قاتل مگرمچھ کی صورت میں جان لیوا آزمائش بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:شاہد کپور اور وشال بھردواج کی ’’او رومیو‘‘ کا ٹیز رجاری

ٹیزر شیئر کرتے ہوئے فلم کے پروڈیوسر آنند ایل رائے نے لکھا:’’یہ ویلنٹائنز، محبت واپس آ گئی ہے۔ محبت کے لیے لائک کریں اور بقا کے لیے شیئر کریں ’’تو یا میں۔‘‘ ٹیزر پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ٹیزر توقع سے کہیں زیادہ دلچسپ لگا اور رومان کے بعد اچانک آنے والا تاریک موڑ، خاص طور پر مگرمچھ والا منظر، حیران کن تھا۔ ایک اور صارف نے آدرش گورو کی اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے فلم کو دیکھنے کے لائق قرار دیا۔ تاہم کچھ صارفین نے فلم انڈسٹری میں اقربا پروری کے مسئلے پر بھی تنقید کی۔

یہ بھی پڑھئے:پرینکا چوپڑہ ۸۳؍ویں گولڈن گلوب ایوارڈز کی پرزینٹیٹر بنیں

یہ فلم ۱۳؍ فروری ۲۰۲۶ء کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوگی۔ ریلیز کے موقع پر اسے شاہد کپور اور ترپتی ڈمری کی فلم ’’او رومیو‘‘ سے باکس آفس پر مقابلے کا سامنا ہوگا، جس کی ہدایت کاری وشال بھردواج نے کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK