• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ تنازع: پرکاش راج نے فش، بیف، پورک اور ویج پکوان شیئر کئے

Updated: February 23, 2026, 4:05 PM IST | Chennai

وپل امرت لال شاہ کی فلم’’دی کیرالا اسٹوری۲‘‘ کی ریلیز میں اب صرف ۳؍ دن باقی ہیں، لیکن اس سے جڑا تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس معاملے میں اب پرکاش راج بھی شامل ہو گئے ہیں، جنہوں نے فلم پر تنقید کی ہے۔

Prakash Raj.Photo:INN
پرکاش راج۔ تصویر:آئی این این

کاماکھیا نارائن سنگھ   کی ہدایت کاری میں بنی ’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ کا ٹریلر جاری ہونے کے بعد سے ہی فلم کو لے کر تنازع شروع ہو گیا ہے۔ خاص طور پر بیف والے منظر کے تعلق سے  فلمسازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ٹریلر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک مسلم خاندان زبردستی ایک ہندو لڑکی کو گائے کا گوشت کھلاتا ہے۔ ٹریلر کےجاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین میکرز پر تنقید کر رہے ہیں۔ حال ہی میں بالی ووڈ کے ہدایت کار اور اداکارانوراگ کشیپ  نے بھی فلم کے ٹریلر پر طنز کیا تھا، اور اب اس فہرست میں پرکاش راج کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔ سینئر اداکار نے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے فلم کے پروڈیوسرز کو نشانہ بنایا۔
پرکاش راج کا فلمساز پر حملہ 
پرکاش راج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پورک، بیف اور مچھلی کے کھانوں کی ایک تصویر پوسٹ کی اور کیپشن میں لکھا: ’’کیرالا کی اصل کہانی یہ ہے کہ سور کا گوشت، گائے کا گوشت اور مچھلی سبزی خور کھانوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ براہِ کرم اس کا لطف اٹھائیں۔ سب کو اتوار کی مبارکباد۔‘‘
انوراگ کشیپ کا ردعمل
کوچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جب ان سے ’’دی کیرلا اسٹوری۲‘‘ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی۔ انہوں نے ٹریلر میں دکھائے گئے بیف والے منظر پر بھی ردعمل ظاہر کیا اور کہاکہ ’’جیسے بیف کھلایا گیا ہے، ویسے تو کوئی کھچڑی بھی نہیں کھلاتا۔‘‘ انہوں نے صاف کہا کہ یہ فلم صرف پیسہ کمانے کے لیے بنائی گئی ہے اور لوگوں کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ انوراگ نے کہاکہ ’’اس فلم کا جو فلمساز ہے وہ ایک لالچی آدمی ہے۔ وہ صرف پیسہ بنانا چاہتا ہے۔‘‘


تنازعات کا قانونی پہلو
گزشتہ ہفتے کیرالا ہائی کورٹ نے’’دی کیرالا اسٹوری۲‘‘ کے میکرز اور سینسر بورڈ کو نوٹس جاری کیا تھا۔ یہ نوٹس اس عرضی پر سماعت کے بعد آیا تھا جس میں فلم کو دیے گئے سینسر سرٹیفکیٹ کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ عرضی میں ٹیزر اور ٹریلر پر اعتراض کیا گیا تھا۔ کنور ضلع کے شکایت کنندہ شری دیو نمبوترے کا کہنا تھا کہ فلم میں تین مختلف ریاستوں کی خواتین اور ان کے ساتھ ہونے والے واقعات دکھائے گئے ہیں، لیکن فلم کے عنوان اور کچھ مناظر میں کیرالا کی غلط تصویر پیش کر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رنجی فائنل: میزبان کرناٹک کا مقابلہ تاریخ رقم کرنے کے لئے پر عزم جموں و کشمیر سے ہوگا

کیرالا کے وزیر اعلیٰ کا بیان
کچھ دن پہلے کیرالا کے وزیر اعلیٰ پِنرائی وجین نے بھی فلم پر ردعمل دیا تھا۔ انہوں نے اپنے ایکس  اکاؤنٹ پر اسے ریاست کے سیکولر اقدار کے خلاف بتایا اور کہا کہ یہ زہریلی، جھوٹی اور پروپیگینڈا فلم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ فلم کیرالا کی مذہبی ہم آہنگی کی روایت کو کمزور کر سکتی ہے جو ریاست کی شناخت کے لیے اہم ہے۔

یہ بھی پڑھئے:میکسیکو: کارٹیل لیڈر ہلاک،ہندوستانی شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت

 فلم کب ریلیز ہوگی؟
’’ دی کیرالا اسٹوری۲‘‘ ۲۷؍ فروری کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوگی۔ فلم کا ٹریلر ۱۸؍ فروری کو جاری کیا گیا تھا۔ کاماکھیا نارائن سنگھ کی ہدایت کاری میں بنی اس فلم کے ٹریلر میں تین ہندو لڑکیوں کی کہانی دکھائی گئی ہے، جن کی زندگی اس وقت بدل جاتی ہے جب وہ مسلم لڑکوں سے محبت کر بیٹھتی ہیں۔ آہستہ آہستہ ان کے سامنے اس محبت کے پیچھے چھپا مذہب تبدیلی کا ایک منظم ایجنڈا بے نقاب ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK