Updated: July 07, 2026, 10:09 PM IST
| Mumbai
کرسٹوفرنولن کی طویل انتظار کے بعد آنے والی فلم The Odyssey کی ابتدائی اسکریننگ کے بعد سوشل میڈیا پر پہلے ردعمل سامنے آ گئے ہیں، جن میں فلم کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ ابتدائی ناظرین نے اسےنولن کے کریئر کی بہترین فلموں میں شمار کرتے ہوئے شاندار بصری معیار، طاقتور کہانی، غیر معمولی موسیقی اور IMAX تجربے کی بھرپور تعریف کی ہے۔ کئی ناقدین نے پیش گوئی کی ہے کہ The Odyssey رواں سال کی سب سے بڑی اور ایوارڈ یافتہ فلموں میں شامل ہو سکتی ہے۔
ہالی ووڈ کے معروف فلم ساز کرسٹوفرنولن کی انتہائی متوقع فلم The Odyssey کی ابتدائی اسکریننگ کے بعد سامنے آنے والے پہلے ردعمل غیر معمولی حد تک مثبت رہے ہیں، جس کے بعد فلم نے ریلیز سے قبل ہی شائقین اور ناقدین کی توقعات مزید بڑھا دی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ابتدائی ناظرین اور فلمی ناقدین نے The Odyssey کو ایک شاندار سنیمائی تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرسٹوفرنولن نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ جدید دور کے بہترین فلم سازوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ابتدائی ردعمل میں فلم کے وسیع پیمانے، جذبات سے بھرپور کہانی، شاندار پروڈکشن ڈیزائن، طاقتور موسیقی، غیر معمولی سنیماٹوگرافی اور IMAX فارمیٹ میں پیش کیے گئے بصری مناظر کو خصوصی طور پر سراہا جا رہا ہے۔ کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ The Odyssey نہ صرفنولن کے کریئر کا ایک اور یادگار اضافہ ہے بلکہ یہ ۲۰۲۶ء کی بہترین فلموں میں بھی شامل ہو سکتی ہے۔ ایک صارف نے فلم کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’’The Odyssey ناقابلِ یقین وسعت کی حامل ایک مہاکاوی فلم ہے، جس میں اوڈیسیئس کے طویل اور مشکل سفر کو انتہائی متاثر کن انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کئی مناظر میں رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ آواز اتنی طاقتور تھی کہ پورا سنیما ہال گونج اٹھا۔ موسیقی لاجواب ہے، فلم انتہائی پُرجوش دکھائی دیتی ہے اور رابرٹ پیٹنسن نے غیر معمولی اداکاری کی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سمانتھا کی ’’ما انتی بنگارم‘‘ کے سیکوئل پر کام جاری ہے: راج ندیمورو کی تصدیق
ایک اور ناظر نے لکھا کہ ’’کرسٹوفرنولن ایک حقیقی وژن رکھنے والے فلم ساز ہیں اور The Odyssey فن کا ایک شاہکار ہے۔ ہومر کی کلاسیکی داستان کو بڑی اسکرین پر منتقل کرنا آسان نہیں تھا، لیکن نولن نے اسے حیرت انگیز انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی کہانی سنانے کا انداز، جذبات، لباس، ایڈیٹنگ، ساؤنڈ ڈیزائن اور لڈوگ گورانسن کی موسیقی ہر اعتبار سے غیر معمولی ہے، جبکہ ٹرائے سے متعلق مناظر دیکھنے والوں کو حیران کر دیتے ہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے ردعمل ظاہر کیا کہ ’’کرسٹوفرنولن کی The Odyssey مکمل کامیابی ہے اور جدید دور کے عظیم ترین فلم ساز کی ایک اور شاندار تخلیق ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسےنولن نے IMAX کے ساتھ اپنے تمام تجربات کا نچوڑ اس فلم میں سمو دیا ہو۔ پروڈکشن ڈیزائن، ایکشن سیکوئنس اور فلم کا مجموعی معیار ان کی سابقہ تمام فلموں سے مختلف اور کہیں زیادہ بلند ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کرن جوہر نے اپنے والد کی فلاپ فلم’اگنی پتھ‘ کا ری میک بنایا جو سپرہٹ ثابت ہوئی
The Odyssey یونانی شاعر ہومر کی شہرۂ آفاق رزمیہ داستان پر مبنی ہے، جس میں اوڈیسیئس کی اس طویل اور خطرناک واپسی کے سفر کو پیش کیا گیا ہے جو وہ ٹروجن جنگ کے بعد اپنے وطن پہنچنے کے لیے طے کرتا ہے۔ اس سفر کے دوران اسے دیومالائی مخلوقات، طاقتور دیوتاؤں، سمندری خطرات اور متعدد ناممکن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اس داستان کو مغربی ادب کی عظیم ترین کہانیوں میں شامل کرتی ہیں۔
اس فلم میں ہالی ووڈ کے متعدد بڑے ستارے مرکزی کرداروں میں جلوہ گر ہوں گے، جن میں میٹ ڈیمن، ٹام ہالینڈ، اینی ہیتھوے، زینڈایا، رابرٹ پیٹنسن، شارلیز تھیرون، لوپیتا نیونگو
جون برنتھل کے نام قابل ذکر شامل ہیں۔ ابتدائی ردعمل کے بعد فلمی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئی ہیں کہ The Odyssey نہ صرف باکس آفس پر بڑی کامیابی حاصل کرے گی بلکہ آئندہ ایوارڈ سیزن، خصوصاً آسکر میں بھی مضبوط امیدوار ثابت ہو سکتی ہے۔