Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی اور امریکہ کے جوہری معاہدے پرامریکی اراکین کانگریس کو خدشات

Updated: July 25, 2026, 12:04 PM IST | Washington

ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ اسی صورت میں نافذ ہو گا جب سعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے گا۔

US President Donald Trump at the White House. Photo: INN
وہائٹ ہاؤس میں  امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

متعدد امریکی اراکین کانگریس اور جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین نے سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے حالیہ جوہری معاہدے پر امریکی اراکین کانگریس نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی اجازت دی گئی تو مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیز کارروائیوں کی مذمت

واضح رہے کہ دوروز قبل امریکی محکمۂ توانائی نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور سعودی عرب نے کئی دہائیوں پر مشتمل اربوں ڈالرز مالیت کے پُرامن شہری جوہری تعاون اور حفاظتی اقدامات سے متعلق معاہدوں پر دستخط کئے ہیں لیکن اس معاہدے کی منظوری امریکی کانگریس سے لینی ہو گی۔امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی لیکن ٹرمپ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یورینیم کی افزودگی نہیں ہو گی اور امریکہ صرف غیر افزودہ ایندھن پر مبنی پُرامن جوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق یورینیم کی افزودگی عالمی جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت ممنوع نہیں لیکن زیادہ درجے کی افزودگی سے جوہری ہتھیار بھی تیار کئےجا سکتے ہیں۔

الجزیرہ کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ کے لئے طویل عرصے سے شہری جوہری پروگرام کا خواہاں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے‘‘

دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ پُرامن شہری جوہری تعاون کے معاہدے پر نئی شرط رکھی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اسی صورت میں نافذ ہو گا جب سعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے گا، بصورت دیگر معاہدہ ختم تصور ہو گا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان میں کہا ہے کہ معاہدے کو منظوری دی جائے گی لیکن یہ مکمل طور پر سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط ہے۔الجزیرہ کے مطابق ابراہیمی معاہدہ پہلی بار۲۰۲۰ء میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ کئے تھے۔بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی اس معاہدے میں شامل ہو گئے جبکہ امریکہ کئی برس سے سعودی عرب پر بھی اس معاہدے میں شمولیت کیلئےزور دیتا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK