• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ ٹیرف تنازع پر’کچھ حل‘ نکالے گا: ڈونالڈ ٹرمپ

Updated: January 28, 2026, 6:10 PM IST | New York

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ جنوبی کوریا کے ساتھ ٹیرف کے مسئلے پر ’کچھ حل‘ نکالے گی۔ اس سے قبل اسی ہفتے ٹرمپ نے ایشیائی اتحادی ملک جنوبی کوریا پر ’ریسیپروکل ٹیرف‘ اور دیگر محصولات بڑھانے کی دھمکی دی تھی۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ جنوبی کوریا کے ساتھ ٹیرف کے مسئلے پر ’کچھ حل‘ نکالے گی۔ اس سے قبل اسی ہفتے ٹرمپ نے ایشیائی اتحادی ملک جنوبی کوریا پر ’ریسیپروکل ٹیرف‘ اور دیگر محصولات بڑھانے کی دھمکی دی تھی۔
ٹرمپ کے اس بیان سے سیول اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ تجارتی تناؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس دوران جنوبی کوریا کے صنعت وزیر کم جانگ-کوان کے امریکہ کے دورے کی امید ہے، جہاں وہ امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹونِک سے بات کریں گے۔ یہ معلومات یونہاپ نیوز ایجنسی نے فراہم کی ہیں۔
وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران ٹرمپ نے کہاکہ ’’ہم جنوبی کوریا کے ساتھ ’کچھ حل‘ نکال لیں گے۔ انہوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی، جس میں پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ کوریا پر ٹیرف بڑھائیں گے۔ پیر کو ٹرمپ نے اچانک یہ اعلان کیا تھا کہ وہ جنوبی کوریا پر ’باہمی‘ ٹیرف کے ساتھ ساتھ گاڑیوں، لکڑی اور دوائیوں پر عائد محصولات ۱۵؍فیصد سے بڑھا کر ۲۵؍ فیصد کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے اس کے لیے سیول کی طرف سے تجارتی معاہدے سے متعلق قوانین کے نفاذ میں تاخیر کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:ذاکر خان نے کامیڈی سے وقفہ لینے کی وجہ جینیاتی بیماری بتائی

منگل کو وہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے یونہاپ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جنوبی کوریا نے دوطرفہ تجارتی معاہدے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ’کوئی پیش رفت نہیں‘ کی جبکہ امریکہ نے معاہدے کے تحت ٹیرف کم کیے تھے۔جولائی کے آخر میں ہونے والے اور کچھ ماہ بعد حتمی شکل دیے گئے اس معاہدے کے تحت، جنوبی کوریا نے امریکہ میں ۳۵۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے بدلے میں امریکہ نے’باہمی‘ٹیرف کو۲۵؍ فیصد سے کم کر کے۱۵؍ فیصد کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:ونود کھوسلہ نے ایلون مسک پر نسل پرستی کا الزام لگایا، مسک نے کھوسلہ کوذہنی مریض کہا

ٹرمپ کی ٹیرف بڑھانے کی نئی دھمکی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ کو جنوبی کوریا میں جاری تحقیقات کی وجہ سے تشویش ہے۔ ان میں امریکی کمپنی کوپانگ انک کے خلاف بڑے صارف ڈیٹا کے لیک ہونے کی جانچ اور آن لائن پلیٹ فارم کمپنیوں پر کنٹرول سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔   اس کے علاوہ امریکی ڈالر کے مقابلے جنوبی کوریا کی کرنسی وون کی کمزوری بھی تشویش کا سبب  ہے۔ اس سے خدشہ ہے کہ جنوبی کوریا، امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے کے تحت کیے گئے سرمایہ کاری کے وعدے کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK