ابو ہریرہ خان کے والد یوپی میں کسان ہیں ، اس نے ممبئی آکر امتحان دیا،فیصل چودھری نے چوتھی مرتبہ امتحان دیا تھا ، راجیا رام کی والدہ نے زیور گروی رکھ کر کوچنگ کی فیس ادا کی
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 10:06 PM IST | Mumbai
ابو ہریرہ خان کے والد یوپی میں کسان ہیں ، اس نے ممبئی آکر امتحان دیا،فیصل چودھری نے چوتھی مرتبہ امتحان دیا تھا ، راجیا رام کی والدہ نے زیور گروی رکھ کر کوچنگ کی فیس ادا کی
نیٹ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان رد کرکے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ارباب کو تو موقع مل گیا کہ وہ اپنی شبیہ درست کرلے اور دوبارہ امتحان کرواکےایک اور تمغہ اپنے سینے پر سجالیں لیکن ان طلبہ کا کیا جنہوں نےکئی کئی مشکلات جھیل کر اور جیسے تیسے رقم کا انتظام کرکے یہ امتحان دیا تھا ۔ اب یہ رد ہوجانے کی وجہ سے انہیںدوبارہ نئے سرے سے تیار کرنی ہو گی لیکن کیا اس مرتبہ ا ن میں وہ جوش و جذبہ برقرار رہے گا جو پہلی مرتبہ امتحان دیتے وقت تھا ؟
یہ بھی پڑھئے : سوالیہ پرچہ آن لائن بھیج کر پرنٹ نکالنے پر غور
اس بارے میں ہمیں ابو ہریرہ خان (۱۹؍ سال) نے بتایا کہ ’’میرے والد یوپی میں ایک معمولی کسان ہیں۔ انہوں نے بہت مشکل سے میری کوچنگ کی فیس اکٹھا کی تھی تاکہ میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لے سکوں لیکن امتحان رد ہو گیا اور اب دوبارہ امتحان دینے کیلئے مجھے نئے سرےسے تیاری کرنی ہو گی۔ ساتھ ہی میرے والدین کو بھی نئی قربانیاں دینی ہو ں گی ۔ ‘‘ ابو ہریرہ خان کے مطابق انہوں نے نیٹ کا امتحان یوپی سے ممبئی آکرد یا تھا۔ یہاں وہ ہاسٹل میں قیام پذیر رہے ، رشتہ داروں کے گھروںپر بھی رہے تاکہ امتحان دے سکیں۔
ابو ہریرہ کے مطابق انہوں نے یہ تمام تکالیف اسی لئے برداشت کیں تاکہ یکسوئی کے ساتھ امتحان دے سکیں لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہو گیا۔ انہوںنے بتایا کہ ان کے والد نے قرض لے کرمیری میڈیکل کی پڑھائی کی فیس ادا کی تھی ۔ میرے والدین ہر مشکل برداشت کررہے ہیں تاکہ میں کچھ بن جائوں۔ حالانکہ وہ اپنی پریشانیاں مجھ پر ظاہر نہیں ہونے دیتے لیکن مجھے اس بات کا پورا پورا احساس ہے کہ انہوںنے کیسے مشکل حالات میں میری تعلیم پوری کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی لئے اب مجھے بہت زیادہ مایوسی محسوس ہو رہی ہے کہ اب کیا کیا جائے۔ ابو ہریرہ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ امتحان رد ہونے کے فوراً بعد ان کے والدین نے انہیںگھر بلایا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں سب سے پہلے بحفاظت گھر پہنچ جائوں ۔ اس کے بعد وہ میرے مستقبل کے تعلق سے غور و فکر کریں گے ۔واضح رہے کہ ابو ہریرہ نے دسویں سے بارہویں جماعت تک ممبئی میں ہی تعلیم حاصل کی اور یہیں سے وہ نیٹ کا امتحان دے رہے تھے۔ ۳؍ مئی کو امتحان دینے کے بعد ۱۲؍ مئی کو وہ اپنے وطن واپس جارہے تھے۔ انہوں نےایل ٹی ٹی سے ٹرین پکڑی ہی تھی کہ امتحان رد ہونے کی خبر آگئی ۔ اس کے بعد ابو ہریرہ نے ٹرین چھوڑ دی۔ واضح رہے کہ یوپی کے کسی بھی شہر کے لئے ٹرین کا ٹکٹ حاصل کرنا جوئے شیر لانے جیسا ہوتا ہے اور ابو ہریرہ اپنا کنفرم ٹکٹ چھوڑ کر واپس جانا پڑا۔
فیصل چودھری کے لئے بھی دوبارہ امتحان دینا مشکل ہو گا کیوں کہ یہ ان کی چوتھی کوشش تھی۔ ۲۱؍ سالہ فیصل جو ساکی ناکہ میں رہائش پذیر ہیں، کے مطابق دوبارہ امتحان دینا کسی بھی طالب علم کے لئے مشکل ہوتا ہے اور اگر وہ نیٹ جیسا انتہائی مشکل امتحان ہو تو طالب علم کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ فیصل نے کہا کہ پہلی مرتبہ انہوں نے کوچنگ لی تھی لیکن گزشتہ ۳؍ مرتبہ سےوہ خود تیاری کررہے ہیں تاکہ اسکور بہتر سے بہتر ہو سکےلیکن این ٹی اے کے فیصلے نے ہمیں کافی مایوس کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی ایک امتحان کی تیاری کے لئے کئی کئی گھنٹے محنت کرنی پڑی ہے، پڑھائی کا ٹائم ٹیبل تیار کرنا پڑتا ہے اور ہر مضمون کیلئے الگ سے تیاری کرنی پڑتی ہے تب کہیں جاکر نیٹ کے امتحان میں بیٹھنے یا پیپر کلیئر کرنے کی ہمت ملتی ہے لیکن یہاں ایک فیصلے سے وہ ہمت جواب دے رہی ہے۔
کھار میں رہائش پذیر راجیا رام کرشنا(۱۷؍ سال) کہتی ہیں کہ انہوں نے ۱۵؍ سے۱۸؍ گھنٹے پڑھائی کرنے کے بعد یہ امتحان دیا تھا لیکن رد ہوجانے کی وجہ سے انہیں کافی ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ راجیا کے مطابق یہ امتحان اس لئے بھی اہم تھا کیوںکہ اس کی کوچنگ کے لئے ان کی والدہ نے اپنے زیور گروی رکھ دئیے تھے ۔راجیا کہتی ہیں کہ ہم جیسے بہت پسماندہ گھرانوںسے آنے والے طلبہ کے لئے ایک کوشش ہی سب کچھ ہوتی ہے کیوں کہ اگر اس میں بہتر رینک نہیں ملتا تو دوسری کوشش کرنا ہمارے ساتھ ساتھ ہمارے اہل خانہ کے لئےبھی بہت مشکل فیصلہ ہو جاتا ہے۔ راجیا کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ چاہتی ہیں کہ وہ محنت سے پڑھیں اور میڈیکل فیلڈ میں اپنا کریئر بنائیں لیکن ایک پیپر لیک اور پھر امتحان رد ہونے کی وجہ سے تمام خواب چکناچور ہوجاتے ہیں۔