جنوبی ہند کے سپر اسٹار تھلاپتی وجے کی زندگی کی کہانی، کسی فلمی کہانی کی طرح ہے۔اس میں ناکامی بھی ہے، جدو جہد بھی ہے، لوگوں کے طعنے بھی ہیں اور کامیابی بھی ہے۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 12:56 PM IST | Mumbai
جنوبی ہند کے سپر اسٹار تھلاپتی وجے کی زندگی کی کہانی، کسی فلمی کہانی کی طرح ہے۔اس میں ناکامی بھی ہے، جدو جہد بھی ہے، لوگوں کے طعنے بھی ہیں اور کامیابی بھی ہے۔
جنوبی ہند کے سپر اسٹار تھلاپتی وجے کی زندگی کی کہانی، کسی فلمی کہانی کی طرح ہے۔اس میں ناکامی بھی ہے، جدو جہد بھی ہے، لوگوں کے طعنے بھی ہیں اور کامیابی بھی ہے۔ کریئر کے آغاز میں ان کی شکل، آواز اور اداکاری کا مذاق اڑایا گیا، پھر ناکامیوں نے طول پکڑا تو انہوں نےاداکاری ترک کرنے پر بھی غور کیا... لیکن آج انہوں نے وہ سب کچھ حاصل کرلیا ہے جو کل تک انہیں پردے پر میسر تھا۔
تھلاپتی وجے کا شمار جنوبی سنیما کے بڑے ستاروں میں ہوتا ہے۔ ان کا پورا نام جوزف وجے چندر شیکھر ہے۔ وہ ۲۲؍ جون۱۹۷۴ء کو چنئی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک فلمی خاندان سے ہے۔ان کے والد ایس اے چندر شیکھر تمل فلموں کے معروف ہدایتکار ہیں جبکہ ان کی والدہ شوبھا ایک گلوکارہ، مصنفہ اور پروڈیوسر ہیں۔ گھر میں فلمی ماحول کی وجہ سے وجے بچپن ہی سے کیمروں سے مانوس ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندو مسلم زاویے کے سبب ’’چھاوا‘‘ میں اورنگ زیب کا کردار نہیں ادا کیا: رندیپ ہڈا
وجے نے اپنی ابتدائی تعلیم فاطمہ میٹرک ہائر سیکنڈری اسکول اور ’بال لوک میٹرک اسکول‘ چنئی سے مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ’لویولا کالج‘ میں ویزوول کمیونی کیشن کورس میں داخلہ لیا۔ اس کے ساتھ ہی فلموں میں بھی مصروف رہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی پوری توجہ اداکاری پر مرکوز ہو رہی ہے، اسلئے انہوں نےتعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ وجے کے پاس کوئی بڑی ڈگری نہیں ہے لیکن بعد کے برسوں میں انہیں کئی اداروں سے اعزازی اعزازات ملے۔
وجے نے اپنے کریئر کا آغاز چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر کیا۔ پہلی فلم ان کے والد نے ڈائریکٹ کی تھی۔ بطور چائلڈ اسٹار ان کی بیشترفلموں کے ہدایت کار ان کے والد ہی رہے۔ وجے نے۱۹۹۲ء میں فلم’نالیا تھیرپو‘ سے ایک مرکزی اداکار کے طور پر اپنے کریئر کا آغاز کیا لیکن یہ سفر ان کیلئے آسان نہیں تھا۔ اپنی ابتدائی فلموں کے ناکام ہونے کے بعد، وجے کو اپنی شکل، آواز اور اداکاری کی وجہ سے تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس وقت کے کئی رسائل نے لکھا تھا کہ وہ ہیرو میٹریل نہیں ہیں۔ ایک پورٹ کے مطابق وجے نے بعد میں کہا کہ لوگ ان کی شکل اور آواز کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ورون دھون کی ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کا ٹریلر جاری
وجے کے والدنے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ انڈسٹری میں بہت سے لوگوں نے انہیں لانچ کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ وجے مسلسل تنقید سے اتنے پریشان تھے کہ انہوں نے اداکاری چھوڑنے تک پر غور کیا تاہم، ان کے خاندان بالخصوص ان کے والد نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں محنت جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔انڈسٹری میں ابتدائی دنوں میں مسترد کئے جانے اور تنقید کے باوجود، وجے بے خوف رہے۔ انہوں نے اپنے رقص،ا سکرین پر موجودگی، باڈی لینگویج، اور ڈائیلاگ ڈیلیوری پر انتھک محنت کی۔ یہی محنت بعد میں ان کی پہچان بن گئی۔۱۹۹۶ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’پووے اناکاگا‘ وجے کے کریئر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ یہ ان کا پہلا بڑا بلاک بسٹر تھا۔ اس رومانوی ڈراما فلم نے وجے کو تمل سنیما کا ایک بڑا اسٹار بنا دیا۔وہ فیملی آڈینس اور نوجوانوں میں مقبول ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے کئی رومانوی اور خاندانی فلموں میں اداکاری کی جس کی وجہ سے رفتہ رفتہ ایک’لور بوائے اسٹار‘ کے طور پر اپنی شبیہ قائم کی۔
اُس وقت، وجے کی سب سے بڑی طاقت ان کی سادگی اور صاف شبیہ سمجھی جاتی تھی۔ دیگر ستاروں کے برعکس، انہوں نے تنازعات سے گریز کیا اور میڈیا کے ساتھ اپنی بات چیت کو محدود کیا۔ایک پرانے انٹرویو میں، وجے نے کہا تھا کہ ’’میں کوئی بات کرنے والا شخص نہیں ہوں۔‘‘ بعد میں یہ مخصوص شخصیت ان کی عوامی امیج کا اہم حصہ بن گئی۔
یہ بھی پڑھئے: باڈی شیمنگ پر سارہ تینڈولکر کا سخت ردعمل، پاپارازی کو آڑے ہاتھوں لیا
وجے نے اب تک۶۸؍ فلموں میں کام کیا ہے۔ ان کی ۶۹؍ویں فلم ’جنا نائیکن‘ ہے۔ اس فلم کے بعد انہوں نے اداکاری سے سبکدوش ہونے کااعلان کردیا ہے۔ یہ فلم ۹؍ جنوری کو ریلیز ہونا تھی لیکن سنسر شپ اور دیگر تنازعات کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا۔وجے نے اپنی فلموں میں نظام، بدعنوانی اور سیاست سے متعلق مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔ جی ایس ٹی اور طبی نظام پر بھی تبصرہ کیا ہے اور ایک فلم میں ’ووٹنگ‘ کے نظام اور سیاسی بدعنوانی پر خوب تبصرہ کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان فلموں کے مکالمے اور مناظر سیاسی بحثوں کا حصہ بن گئے۔ اس سے وجے کی سیاسی طور پر ’باخبر ستارے‘ کے طور پر امیج مضبوط ہوئی جس کا فائدہ انہیں اپنے پہلے ہی انتخابی سفر میں ملا۔