Updated: February 15, 2026, 10:06 PM IST
| Mumbai
نانا پاٹیکر نے فلم ’’اورومیو ‘‘ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فلم کے ہدایتکار وشال بھردواج نے انکشاف کیا کہ آخر کیوں انہوں نے۲۰؍ سال تک نانا کے ساتھ کوئی فلم نہیں کی۔ بتا دیں کہ اورومیو کے ٹریلر لانچ کے دوران نانا درمیان میں ہی پروگرام چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
نانا پاٹیکر اور وشال بھردواج۔ تصویر:آئی این این
وشال بھردواج پچھلے دو دہائیوں سے نانا پاٹیکر کو جانتے ہیں، لیکن فلم ’’او رومیو ‘‘ سے پہلے انہوں نے ان کے ساتھ کبھی کوئی فلم نہیں کی۔فلم ’’او رومیو ‘‘ میں نانا پاٹیکر کی انٹری سے ان کے مداح بے حد خوش ہو گئے۔ ناظرین اور ناقدین نے بھی اداکار کی خوب تعریف کی۔ حال ہی میں فلم کی اسٹار کاسٹ دی گریٹ انڈین کپل شو میں پہنچی۔
کیوں نانا پاٹیکر کے ساتھ وشال نے کام نہیں کیا؟
اس کامیڈی شو میں وشال بھردواج نے بتایا کہ انہوں نے اتنے برسوں تک نانا پاٹیکر کے ساتھ کام کیوں نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’سچ کہوں تو اس میں میری غلطی ہے۔ میں پہلے کبھی ان کے پاس ایسا کردار لے کر نہیں گیا تھا۔ نانا پاٹیکر سے سب بہت ڈرتے ہیں، حالانکہ وہ بہت نرم دل انسان ہیں۔ میرے ساتھ کام نہ کرنے کو لے کر وہ مجھ سے کافی ناراض رہے ہیں۔‘‘وشال نے مزید کہاکہ ’’وہ مجھے کہیں بھی پکڑ لیتے اور یاد دلاتے کہ وہ نانا پاٹیکر ہیں، ایک اداکار ہیں، اور پوچھتے کہ میں انہیں کب کاسٹ کروں گا۔ مجھے یہ بہت شرمندگی والا معاملہ لگتا تھا، لیکن آخرکار ہم نے ساتھ کام کیا اگرچہ اس میں مجھے کچھ وقت لگا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ ورلڈکپ:’کالی آندھی‘ کا طوفان برقرار، نیپال بھی بہہ گیا
ٹریلر لانچ ایونٹ چھوڑ کر چلے گئے تھے نانا
بتایا جاتا ہے کہ فلم ’’او رومیو ‘‘ کے ٹریلر لانچ ایونٹ کو نانا پاٹیکر غصے میں درمیان میں ہی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ وہ وقت پر پہنچ گئے تھے، لیکن باقی فنکار تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے آئے۔ نانا کے اس رویے پر وشال نے کہا تھا کہ وہ اسکول کے سب سے شرارتی بچے کی طرح ہیں، جو لوگوں کو تھوڑا پریشان بھی کرتا ہے اور محظوظ بھی۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’دو دیوانے شہر میں‘‘کی روشنی مجھ سے کافی ملتی جلتی ہے: مرونال ٹھاکُر
فلم ’’او رومیو ‘‘کا باکس آفس کلیکشن
اس وقت فلم ’’او رومیو ‘‘باکس آفس پر شاندار کارکردگی دکھا رہی ہے۔ پہلے دن ۹؍ کروڑ روپے کمانے والی اس فلم نے دو دنوں میں ۲۴؍ کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کر لیا ہے۔ دوسرے دن فلم کی کمائی میں تقریباً ۴۵؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا۔