ہدایتکار نے اس سے قبل مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر سنگین الزامات عائد کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ ان کی فلم پر غیر اعلانیہ پابندی لگائی گئی تھی۔ اب بی جے پی کی کامیابی کے بعد انہوں نے فلم کی دوبارہ نمائش کا فیصلہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 09, 2026, 4:05 PM IST | Mumbai
ہدایتکار نے اس سے قبل مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر سنگین الزامات عائد کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ ان کی فلم پر غیر اعلانیہ پابندی لگائی گئی تھی۔ اب بی جے پی کی کامیابی کے بعد انہوں نے فلم کی دوبارہ نمائش کا فیصلہ کیا ہے۔
’’دی بنگال فائلز‘‘کو ابتدائی ریلیز کے دوران شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ فلمسازوں کا کہنا تھا کہ یہ مخالفت سیاسی بنیادوں پر کی گئی اور اس کے پیچھے ریاستی حکومت کا ہاتھ تھا۔ اس وقت ترنمول کانگریس اقتدار میں تھی، جس کی قیادت ممتا بنجری کر رہی تھیں۔ تاہم حالیہ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد فلم کو دوبارہ سنیما گھروں میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ہدایتکار نے یہ بھی الزام لگایا کہ فلم کی ۲۰۲۵ء میں ریلیز کے دوران ان اور ان کی ٹیم پر حملہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، ریاست میں فلم کی نمائش روکنے کی کوشش کی گئی، اگرچہ فلم پر باضابطہ پابندی کبھی عائد نہیں ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق کئی سنیما مالکان نے فلم دکھانے سے انکار کر دیا تھا۔کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فلم۸؍ مئی کو دوبارہ ریلیز ہوگی، لیکن وِویک اگنی ہوتری نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے تصدیق کی کہ فلم اگلے جمعہ، یعنی ۱۵؍ مئی کو سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ یہ فلم ۱۶؍ اگست ۱۹۴۶ء کے کلکتہ فسادات پر مبنی ہے۔ ناقدین نے فلم سازوں پر تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور تاریخی کرداروں کی غلط عکاسی کرنے کے الزامات بھی لگائے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو نے فٹبال کی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کردیا
فلم میں متھن چکربورتی، پلوی جوشی، درشن کمار، انوپم کھیر، سمرت کور، ساسوت چٹرجی اور دیگر اداکار شامل ہیں۔ بی جے پی کی جیت کے بعداگنی ہوتری نے سوشل میڈیا پر ایک سخت پیغام شیئر کیا، جس میں انہوں نے ممتا بنرجی اور ان کی جماعت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی فلم کو ریاست میں روکنے کی کوشش کی گئی اور ان کی ٹیم کو ہراساں کیا گیا۔