ہندوستانی فلمی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جنہیں صرف اداکار کہناان کی شخصیت کو محدود کردینا ہے۔ وجینتی مالا بھی انہی فن کاروں میںسے ایک ہیں۔ وہ اداکارہ تھیں، لیکن صرف اداکارہ نہیں، وہ کلاسیکی رقاصہ، گلوکارہ، کوریوگرافر اور بعد میں سیاست دان بھی بنیں۔
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 12:41 PM IST | Agency
ہندوستانی فلمی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جنہیں صرف اداکار کہناان کی شخصیت کو محدود کردینا ہے۔ وجینتی مالا بھی انہی فن کاروں میںسے ایک ہیں۔ وہ اداکارہ تھیں، لیکن صرف اداکارہ نہیں، وہ کلاسیکی رقاصہ، گلوکارہ، کوریوگرافر اور بعد میں سیاست دان بھی بنیں۔
ہندوستانی فلمی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جنہیں صرف اداکار کہنا ان کی شخصیت کو محدود کردینا ہے۔ وجینتی مالا بھی انہی فن کاروں میں سے ایک ہیں۔ وہ اداکارہ تھیں، لیکن صرف اداکارہ نہیں، وہ کلاسیکی رقاصہ، گلوکارہ، کوریوگرافر اور بعد میں سیاست دان بھی بنیں۔ ان کی شخصیت میں ہندوستانی کلاسیکی فنون کی تہذیب بھی تھی اور بڑے پردے کی وہ کشش بھی جس نے انہیں اپنے عہد کی سب سے مقبول ہیروئنز میں شامل کردیا۔ ہندی سنیما میں ان کا عروج اس دور میں ہوا جب فلمی صنعت پر بمبئی کے ساتھ ساتھ کلکتہ اور جنوبی ہند کے فلمی مراکز کا بھی اثر تھا، اور ایسے وقت میں جنوبی ہندوستان سے آنے والی ایک اداکارہ کا پورے ملک کی اسٹار بن جانا معمولی واقعہ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے: جنت زُبیرنے ممبئی کے خوبصورت اور پرتعیش مکان کی جھلک مداحوں کو دکھائی
وجینتی مالا۱۳؍ اگست ۱۹۳۳ءکومدراس، جو آج چنئی کے نام سےجانا جاتا ہے، میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک فن کار خاندان سےتھا۔ ان کی والدہ وسندھرا دیوی تمل فلموں کی معروف اداکارہ اور رقاصہ تھیں۔ اس ماحول نے بچپن ہی سے وجینتی مالا کے اندر فنون لطیفہ کے لیے ایک گہری دلچسپی پیدا کردی۔ انہیں بہت کم عمر میں کلاسیکی رقص کی تربیت ملنا شروع ہوگئی اور رفتہ رفتہ بھرت ناٹیم ان کی شخصیت کا لازمی حصہ بن گیا۔
وجینتی مالا نےاپنے فلمی سفر کا آغاز ہندی فلم سے نہیں بلکہ تمل سنیماسے کیا۔ ۱۹۴۹ءمیں فلم ’واژکائی‘ ان کی پہلی فلم تھی۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً۱۶؍برس تھی۔ فلم کامیاب ہوئی اور اس کی کامیابی نے انہیں جنوبی ہندوستانی فلمی دنیا میں شناخت دلا دی۔ بعد میں یہی فلم ہندی میں ’بہار‘ کے نام سے بنائی گئی اور ۱۹۵۱ء میں ریلیز ہوئی۔ یوں وجینتی مالا نے بہت جلد جنوبی ہند کی فلمی دنیا سے نکل کر ہندی سنیما کا رخ کیا۔ ہندی فلموں میں ابتدائی دور میں ’بہار‘ اور ’لڑکی‘ جیسی فلمیں ان کے کریئرکاحصہ بنیں، لیکن انہیں وہ زبردست مقبولیت ابھی حاصل نہیں ہوئی تھی جس کی وہ بعد میں حقدار بنیں۔
پھر۱۹۵۴ء میں فلم ’ناگن‘ نے ان کی زندگی بدل دی۔۱۹۵۵ءمیں بمل رائے کی کلاسیکی فلم ’دیوداس‘ میں وجینتی مالا نے چندرمکھی کا کردار ادا کیا۔ ان کے مقابل دلیپ کمار دیوداس اور سچترا سین پارو کے کردار میں تھیں۔ وجینتی مالا اور دلیپ کمار کی جوڑی ہندی سنیما کی مقبول ترین جوڑیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ دونوں نے ’نیا دور‘، ’مدھومتی‘، ’گنگا جمنا‘ اور ’لیڈر‘ جیسی فلموں میں ساتھ کام کیا۔ ۱۹۶۱ء میں دلیپ کمار کی فلم ’گنگا جمنا‘ آئی۔ اس فلم میں وجینتی مالا نےدھنو کا کردار ادا کیا، جو دیہی پس منظر رکھنے والی ایک لڑکی تھی۔ سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ وجینتی مالا نےجنوبی ہندوستانی پس منظر سے تعلق رکھنے کے باوجود اودھی لہجے اور دیہی شمالی ہندوستانی کردار کو انتہائی اعتماد کے ساتھ ادا کیا۔ ۱۹۶۴ء میں راج کپور کی ’سنگم‘ ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں راج کپور، راجندر کمار اور وجینتی مالا ایک رومانوی مثلث کا حصہ تھے۔ فلم میں محبت، دوستی، قربانی اور ازدواجی زندگی کے پیچیدہ رشتوں کو پیش کیا گیا۔وجینتی مالا کو ان کے فن کے اعتراف میں متعدد بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔ ۱۹۶۸ءمیںحکومت ہند نے انہیں پدم شری سے سرفراز کیا۔ بعد میں انہیں سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ بھی ملا۔ان کے فلمی کیریئر میں فلم فیئر بہترین اداکارہ کے اعزازات ’سادھنا‘، ’گنگا جمنا‘ اور ’سنگم‘ کے لیے شامل ہیں۔ یوں وہ اپنے عہد کی ان اداکاراؤں میں رہیں جنہوں نے مقبولیت کے ساتھ ساتھ تنقیدی پذیرائی بھی حاصل کی۔