Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۲؍ اگست سورج گہن: اسپین میں ۱۲۱؍ سال، آئس لینڈ میں ۵۹۳؍ سال بعد مکمل گہن

Updated: August 13, 2026, 2:51 PM IST | Mumbai

۱۲؍ اگست ۲۰۲۶ء کا مکمل سورج گہن صرف ایک فلکیاتی واقعہ نہیں تھا۔ گرین لینڈ، آئس لینڈ، شمالی روس، بحرِ اوقیانوس، اسپین اور پرتگال کے ایک مختصر حصے میں مکمل گہن دیکھا گیا جبکہ شمالی نصف کرہ کے وسیع علاقوں میں سورج جزوی طور پر چھپا۔ اسپین میں ۱۹۰۵ء کے بعد پہلی بار بڑے پیمانے پر مکمل گہن کا نظارہ کیا گیا۔

A beautiful view of the solar eclipse in the Spanish city of Zaragoza. Picture:  X
ہسپانوی شہر زاراگوزا میں سورج گہن کا ایک خوبصورت منظر۔ تصویر: ایکس

۱۲؍ اگست ۲۰۲۶ء کا مکمل سورج گہن صرف ایک فلکیاتی واقعہ نہیں تھا۔ گرین لینڈ، آئس لینڈ، شمالی روس، بحرِ اوقیانوس، اسپین اور پرتگال کے ایک مختصر حصے میں مکمل گہن دیکھا گیا جبکہ شمالی نصف کرہ کے وسیع علاقوں میں سورج جزوی طور پر چھپا۔ اسپین میں ۱۹۰۵ء کے بعد پہلی بار بڑے پیمانے پر مکمل گہن کا نظارہ کیا گیا۔ 

چاند کا سایہ، جو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچا
۱۲؍ اگست ۲۰۲۶ء کو چاند، سورج اور زمین کے درمیان آ گیا اور اس کا سایہ شمالی روس سے گرین لینڈ، آئس لینڈ اور بحرِ اوقیانوس کو عبور کرتا ہوا اسپین تک پہنچا۔ اسپین کے شمالی نصف حصے کے بیشتر علاقوں میں سورج مکمل طور پر چھپ گیا، جبکہ جنوبی حصے میں جزوی گہن دیکھا گیا۔ پرتگال کے شمال مشرقی حصے میں بھی مکمل گہن نظر آیا۔ اس کے برعکس یورپ کے بیشتر حصوں، شمال مغربی افریقہ، کنیڈا اور امریکہ کے بعض علاقوں میں سورج کا صرف ایک حصہ چاند کے پیچھے گیا۔ پورا فلکیاتی عمل تقریباً ۴؍ گھنٹے ۲۴؍ منٹ جاری رہا، لیکن جہاں مکمل گہن تھا وہاں سورج کے مکمل غائب ہونے کا وقت دو منٹ سے کچھ زیادہ تھا۔ زیادہ سے زیادہ مکمل تاریکی ۲؍ منٹ ۱۸؍ سیکنڈ تک رہی۔ 

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Inquilab - انقلاب (@theinquilab.in)

یہ بھی پڑھئے: مغربی ممالک نے روسی تجارتی جہاز ضبط کرنے کی کوشش کی توروس جواب دے گا : پوتن

اسپین: ۱۹۰۵ء کے بعد مکمل سورج گہن
اسپین کے لیے یہ واقعہ خاص طور پر تاریخی تھا۔ ۳۰؍ اگست ۱۹۰۵ء کو یہاں مکمل سورج گہن نے دنیا بھر کے سائنس دانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ ۲۰؍ سے زیادہ بین الاقوامی سائنسی ٹیمیں اسپین پہنچی تھیں، برگوس میں عارضی رصدگاہیں قائم کی گئی تھیں اور غباروں سے گہن کا مشاہدہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ ہزاروں افراد برگوس پہنچے، ٹرینیں بھر گئیں اور گہن کے موقع پر تہوار، تھیٹر، بیل فائٹ اور فوٹوگرافی کے مقابلے تک منعقد ہوئے۔  ۱۹۱۲ء میں بھی جزیرہ نما آئبیریا کے شمال مغرب کی ایک انتہائی محدود پٹی میں مکمل گہن کا مرحلہ آیا تھا، مگر یہ ایک ہائبرڈ گہن تھا اور مکمل تاریکی کا مرحلہ صرف چند سیکنڈ، تقریباً سات سیکنڈ، تک رہا۔ اسی لیے ۲۰۲۶ء کا وسیع پیمانے پر دکھائی دینے والا مکمل گہن ۱۹۰۵ء کے بعد اسپین کے لیے ایک بڑی واپسی بنا۔


۲۰۲۶ء میں گہن اسپین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچا۔ لا کورونا، اوویئدو، لیون، بلباؤ، زاراگوزا اور ویلنسیا سمیت متعدد اہم شہر اس کے راستے میں آئے، جبکہ آخر میں سایہ بالیارک جزائر تک پہنچا۔ سب سے خاص بات یہ تھی کہ اسپین میں مکمل گہن غروبِ آفتاب سے کچھ ہی دیر پہلے ہوا؛ یعنی دن ختم ہونے سے پہلے ہی آسمان اچانک رات جیسا ہوگیا۔

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا: ۱۷؍ سال بعد اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال

آئس لینڈ میں ۷۲؍ سال، ریکیاوک میں ۵۹۳؍ سال
آئس لینڈ میں ۱۹۵۴ء کے بعد پہلی بار مکمل سورج گہن دیکھا گیا۔ لیکن دارالحکومت ریکیاوک کے لیے انتظار اس سے کہیں زیادہ طویل تھا۔ وہاں آخری بار مکمل گہن ۱۷؍ جون ۱۴۳۳ء کو دیکھا گیا تھا۔ ۲۰۲۶ء کا واقعہ ۵۹۳؍ سال بعد ریکیاوک کے آسمان پر واپس آیا۔ اب آئس لینڈ میں اگلے مکمل سورج گہن کے لیے ۲۱۹۶ء تک انتظار کرنا ہوگا۔ آئس لینڈ میں تقریباً ۸۰؍ ہزار سیاحوں کی آمد متوقع تھی۔ بعض علاقوں میں موسم نے تماشائیوں کا ساتھ نہیں دیا اور بادلوں نے منظر چھپا دیا، تاہم مغربی حصوں میں کئی افراد کو مکمل گہن دیکھنے کا موقع ملا۔ 

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Inquilab - انقلاب (@theinquilab.in)

اسپین میں آسمان کے ساتھ سیاحت کا بھی امتحان
گہن نے اسپین کے نسبتاً کم معروف اندرونی علاقوں کو اچانک عالمی توجہ کے مرکز میں پہنچا دیا۔ حکام نے شمالی اسپین اور بالیارک جزائر کے علاقوں میں ۶۰؍ لاکھ تک افراد کی آمد کا اندازہ لگایا۔ تقریباً ۲۵؍ ہزار پولیس اہلکار سیکوریٹی کے لیے تعینات کیے گئے، جبکہ تقریباً ۱۰۰؍ طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی انتظامات کا حصہ تھے۔ شدید گرمی اور جنگلات میں آگ کے خدشے کے باعث بعض علاقوں میں اضافی پابندیاں اور انتظامات کیے گئے۔ یہاں تک کہ قدرتی مناظر کے درمیان گہن دیکھنے کے لیے مخصوص مقامات، پارکنگ اور کیمپنگ کی سہولتیں بھی تیار کی گئیں۔ مقصد صرف لوگوں کو گہن دکھانا نہیں بلکہ لاکھوں افراد کی آمد کے باوجود سڑکوں، دیہی علاقوں اور قدرتی مقامات کو محفوظ رکھنا بھی تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہنٹر بائیڈن نےنیتن یاہو کو ”شيطان کا اوتار “ قراردیا، کہا اسرائیل پر تنقید، سام دشمنی کے مترادف نہیں

سائنس دانوں نے آسمان پر نظر رکھی 
گہن عام تماشائیوں کے لیے چند منٹ کا منظر تھا، مگر سائنس دانوں کے لیے سورج کے بیرونی ماحول کا مطالعہ کرنے کا نایاب موقع۔ ناسا نے تحقیقی طیاروں کے ذریعے بلند فضا سے گہن کا مشاہدہ کیا، تاکہ زمین کی فضا کی مداخلت کم سے کم ہو اور سورج کے بیرونی حصے، یعنی کورونا، کا بہتر مطالعہ کیا جاسکے۔

اسپین کے لیے یہ اختتام نہیں، ایک سلسلے کا آغاز ہے
۲۰۲۶ء کا گہن اسپین کے لیے تین سال کے غیر معمولی فلکیاتی سلسلے کا پہلا حصہ ہے۔ ۲؍ اگست ۲۰۲۷ء کو دوبارہ مکمل سورج گہن اسپین کے ایک حصے میں دیکھا جائے گا، جبکہ ۲۶؍ جنوری ۲۰۲۸ء کو حلقہ نما سورج گہن ہوگا۔ ہسپانوی نیشنل جیوگرافک انسٹی ٹیوٹ نے ۲۰۲۶ء، ۲۰۲۷ء، اور ۲۰۲۸ء کے ان تین واقعات کو آئبیریائی خطے کا ایک غیر معمولی گہنی سلسلہ قرار دیا ہے۔ اس کے بعد اسپین میں اگلا مکمل سورج گہن ۲۰۵۳ء میں ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK