یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ کیف نے روس کے ساتھ جاری ساڑھے ۴؍ سالہ جنگ کے خاتمے کے لئے امریکہ کو نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی۔ تصویر: آئی این این
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ کیف نے روس کے ساتھ جاری ساڑھے ۴؍ سالہ جنگ کے خاتمے کے لئے امریکہ کو نئی تجاویز پیش کی ہیں۔زیلنسکی نے منگل کی شب اپنے ویڈیو خطاب میں کہا، ’’ہم نے اپنی تجاویز امریکی فریق تک پہنچا دی ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا ،’’ امریکہ یوکرین کے دفاع کو مضبوط بنانے، خصوصاً اس کے فضائی دفاع کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتا ہے جبکہ ماسکو پر دباؤ بھی بڑھایا جاسکتا ہے تاکہ روس، جنگ کو طول دینے کے بجائے اس کے خاتمے کی تیاری کرے۔‘‘
یوکرینی صدر نے ان تجاویز کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
روس کے یوکرین پر حملے کے خاتمے کے لئے جاری مذاکرات امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کئے جانے کے بعد بڑی حد تک تعطل کا شکار ہیں جو۲۰۲۲ء میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے مختلف مراحل میں ہوتے رہے ہیں۔
امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے آخری مرتبہ جنوری میں ماسکو کا دورہ کیا تھا اور ابھی تک کیف نہیں گئے ہیں۔
یوکرین کئی برس کی جنگ کے بعد مسلسل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ روس بھی تصفیے کی خواہش کا اظہار کرتا ہےلیکن ماسکو کا کہنا ہے کہ کسی بھی حل میں یوکرین کو ان چار علاقوں سے مکمل طور پر دستبردار ہونا ہوگا جن پر روس اپنا دعویٰ کرتا ہے جبکہ تنازع کی ’بنیادی وجوہات‘کا حل بھی ضروری ہے۔اپنے خطاب میں زیلنسکی نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو ایک اور بڑے پیمانے پر فوجی بھرتی کے لئے جواز کے طور پر استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، ’’وہ موسم خزاں میں، نام نہاد پارلیمانی انتخابات کے فوراً بعد، فوجی بھرتی کی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ روسی عوام مبینہ طور پر جنگ کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان ’فرضی انتخابات‘ کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن سال کے اختتام تک کئی لاکھ روسیوں کی اضافی اور فوری فوجی بھرتی کا منصوبہ بنا رہے ہیں جبکہ اگلے سال بھی تقریباً اتنی ہی تعداد میں افراد کو فوج میں شامل کیا جاسکتا ہےلیکن ماسکو کے حکام اس سے قبل ایک اور فوجی موبلائزیشن کی ضرورت سے انکار کرچکے ہیں۔