محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر عجائب گھروں، تھیٹرز، سنیما گھروں اور دیگر ثقافتی مقامات کو زیادہ سستا اور جغرافیائی طور پر قابلِ رسائی (قریب) بنا دیا جائے، تو معمر افراد کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: July 20, 2026, 10:03 PM IST | Tokyo
محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر عجائب گھروں، تھیٹرز، سنیما گھروں اور دیگر ثقافتی مقامات کو زیادہ سستا اور جغرافیائی طور پر قابلِ رسائی (قریب) بنا دیا جائے، تو معمر افراد کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔
جاپانی محققین کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ باقاعدگی سے ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینے، فلمیں دیکھنے، کنسرٹس اور عجائب گھروں (میوزیمز) میں میں جانے والے افراد کی جسمانی عمر ان لوگوں کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے جو ایسا نہیں کرتے۔ یہ تحقیق ’جرنل آف ایپیدمیولوجی اینڈ کمیونٹی ہیلتھ‘ (Journal of Epidemiology and Community Health) میں شائع ہوئی ہے۔
جسمانی عمر (Physiological Age) کیا ہے؟
تاریخی عمر (Chronological Age)، جس میں صرف ایک شخص کے زندہ رہنے کے برسوں کی گنتی کی جاتی ہے، کے برعکس جسمانی عمر، جسمانی نظام کی حقیقی حالت کی عکاسی کرتی ہے۔ اسے تاریخی عمر کے مقابلے، بیماریوں کے خطرے اور وقت سے پہلے موت کا زیادہ مضبوط اشارہ مانا جاتا ہے۔
محققین نے ’انگلش لونگیٹیوڈینل اسٹڈی آف ایجنگ‘ سے لئے گئے ۵۰ سال اور اس سے زیادہ عمر کے ۱۸۹۹ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ شرکاء سے پوچھا گیا کہ وہ کتنی بار سنیما گھروں، عجائب گھروں، آرٹ گیلریوں میں جاتے ہیں اور تھیٹر پرفارمنس، کنسرٹس یا اوپیرا میں شرکت کرتے ہیں۔ ان کے جوابات کی بنیاد پر، انہیں صفر سے ۱۵ کے درمیان ثقافتی مشغولیت کا اسکور (cultural engagement score) دیا گیا۔ جسمانی عمر کا اندازہ لگانے کیلئے، محققین نے باڈی ماس انڈیکس (BMI)، ہاتھوں کی گرفت کی طاقت، چلنے کی رفتار، پھیپھڑوں کے کام کرنے کی صلاحیت، بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی سطح، ہیموگلوبن، گلائیکیٹڈ ہیموگلوبن اور فائبرینوجن، جیسے صحت کے ۱۰ اشاریوں اپنی تحقیق کا حصہ بنایا۔
تحقیق کے نتائج
وہ شرکاء جو چند ماہ میں کم از کم ایک بار ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے، ان کی اوسط جسمانی عمر ۹ء۶۶ سال پائی گئی۔ ان کے مقابلے، ثقافتی سرگرمیوں میں کم دلچسپی دکھانے والے افراد کی اوسط جسمانی عمر ۹ء۶۹ سال تھی، یعنی دونوں گروپس کی جسمانی عمر کے درمیان تقریباً تین سال کا فرق دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان: غیر معمولی سماجی تبدیلی، بچوں سے زیادہ پالتو جانور!
ٹوکیو کے انسٹی ٹیوٹ آف سائنس میں پبلک ہیلتھ کے ماہر یاسوکے ماتسویاما، جنہوں نے اس تحقیق کی قیادت کی ہے، نے ’دی ٹیلی گراف‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اب ہمارے پاس ثقافتی مشغولیت اور کم جسمانی عمر کے درمیان تعلق کے زیادہ مضبوط شواہد موجود ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ثقافتی مشغولیت ایک ایسی چیز ہے جس میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور اس طرح، یہ صحت مند طویل عمری کیلئے ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔“ انہوں نے نوٹ کیا کہ ”خاص طور پر، اس کا اثر کثرت سے کی جانے والی جسمانی ورزش کے برابر ہو سکتا ہے۔“
محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر عجائب گھروں، تھیٹرز، سنیما گھروں اور دیگر ثقافتی مقامات کو زیادہ سستا اور جغرافیائی طور پر قابلِ رسائی (قریب) بنا دیا جائے، تو معمر افراد کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔