Updated: August 30, 2026, 6:02 PM IST
| Mumbai
لباس، حجاب اور ذاتی پسند کو لے کر ملک میں ایک بار پھر بحث تیز ہوگئی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کے بعد یہ معاملہ قانونی دائرے سے نکل کر سیاسی اور سماجی گفتگو کا موضوع بن گیا ہے۔ وہیں بالی ووڈ میں بھی وقتاً فوقتاً لباس سے متعلق تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔
رضامُراد۔ تصویر:آئی این این
لباس، حجاب اور ذاتی پسند کو لے کر ملک میں ایک بار پھر بحث تیز ہوگئی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کے بعد یہ معاملہ قانونی دائرے سے نکل کر سیاسی اور سماجی گفتگو کا موضوع بن گیا ہے۔ وہیں بالی ووڈ میں بھی وقتاً فوقتاً لباس سے متعلق تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔ایسے میں یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے، اور کیا کسی شخص کے لباس اور کھانے پینے کو عوامی بحث کا موضوع بنایا جانا چاہیے؟ انہی معاملات پر بالی ووڈ کے سینئر اداکار رَضا مُراد نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے:میں ذاتی طور پر شادی کے بعد ماں بیٹی جیسا رشتہ چاہتی ہوں:میناکشی
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا حق ہے، لیکن اس کے ساتھ خود پر قابو رکھنا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق تنازع پیدا کرکے شہرت حاصل کرنے کے بجائے لوگوں کو اپنے کام، کارکردگی اور سماجی خدمت کے ذریعے پہچان بنانی چاہیے۔ لباس کو لے کر ایک الگ طرح کی بحث چل رہی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کے بعد اس معاملے پر سیاسی اور سماجی گفتگو بھی تیز ہوگئی ہے۔اس پورے معاملے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟اس سوال کے جواب میں رضا مُراد نے کہاکہ دیکھئے، الہ آباد ہائی کورٹ کا ایک حکم آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یونیفارم کے ساتھ حجاب نہیں پہننا چاہیے۔ اب یہ جمہوریت ہے۔ جس بچی نے درخواست دائر کی تھی، وہ چاہے تو سپریم کورٹ جا سکتی ہے۔ کئی مرتبہ ہائی کورٹ کے فیصلوں کو سپریم کورٹ نے مسترد کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسے لگتا ہے کہ اس کے ساتھ انصاف نہیں ہوا تو سپریم کورٹ کے دروازے اس کے لیے کھلے ہیں۔ سپریم کورٹ جو بھی غیر جانب دار فیصلہ دے، ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے۔ آپ کو اپنی بات کہنے اور اپنی جائز بات منوانے کا حق ہے۔ ایک سوال کے جواب میں رَضا مُرادنے کہاکہ متنازع بات کریں گے تو تنازع پھیلتا جائے گا۔ تنازع کو پھیلانا آج کل ایک رواج بن گیا ہے۔ ایسی متنازع بات کریں جس سے آپ مسلسل خبروں میں رہیں، میں ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتا۔ اگر خبروں میں رہنا ہے تو اپنے کام، کارکردگی اور سماجی خدمت کے ذریعے خبروں میں رہیں، بجائے اس کے کہ کسی کی برائی کرکے یا کسی کے لباس پر بات کرکے شہرت حاصل کی جائے۔ یہ ذاتی معاملہ ہے کہ کون کیا پہنتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کانگریس سے قربت؟ روہت پوار پارٹی کور کمیٹی کی میٹنگ سے غائب
ایک اور سوال کے جواب میں رَضا مُرادنے کہا کہ میں کیا پہنتا ہوں اور کیا کھاتا ہوں، یہ میری ذاتی سوچ اور میری ذاتی پسند ہے اور مجھے اسے اپنی مرضی سے جینے کا پورا حق ہے۔ میرے گھر میں کیا پک رہا ہے، یہ میری چہار دیواری کا معاملہ ہے۔ میں کیا پہن رہا ہوں، یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔ آپ کو جو پہننا ہے، پہنئے، لیکن اس میں فحاشی نہیں ہونی چاہیے۔ اب کسی کو کسی لباس میں فحاشی نظر آتی ہے اور کسی کو فیشن۔ ان باتوں سے جتنا دور رہیں، اتنا ہی بہتر ہے۔ رَضا مُرادنے مزید کہاکہ کچھ تنازعات خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں اور کچھ تنازعات پیدا کیے جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم یہ بات کہیں گے تو اس پر تنازع ہوگا اور تنازع ہوگا تو ان کی بھی تشہیر ہوگی۔ ہر انسان کو اپنی بات کہنے کا حق ہے۔ ہمارے ملک میں جمہوریت ہے، اظہارِ رائے کی آزادی ہے، لیکن انسان کو خود بھی ایک حد اور سیلف سینسرشپ کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہمیں کہاں تک بات کرنی ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے جس سے سننے والا یا جس شخص کے بارے میں بات کی جارہی ہے، وہ خود کو مجروح محسوس کرے۔ ہر عمل کا ردِعمل ہوتا ہے۔