بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے فلم ’’ایجنٹ ونود ‘‘کی ناکامی پر برسوں بعد کھل کر بات کی ہے اور اس کی خامیوں کا اعتراف کیا ہے۔ دوسری جانب فلم کے ایک اداکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ستاروں کی ضرورت سے زیادہ مداخلت نے بھی اس فلم کو نقصان پہنچایا۔
EPAPER
Updated: June 17, 2026, 6:01 PM IST | Mumbai
بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے فلم ’’ایجنٹ ونود ‘‘کی ناکامی پر برسوں بعد کھل کر بات کی ہے اور اس کی خامیوں کا اعتراف کیا ہے۔ دوسری جانب فلم کے ایک اداکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ستاروں کی ضرورت سے زیادہ مداخلت نے بھی اس فلم کو نقصان پہنچایا۔
’’ایجنٹ ونود ‘‘بری طرح ناکام ہوئی کیونکہ یہ بورنگ اور بے ترتیب فلم تھی، حالانکہ بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ یہ ایک اچھی جاسوسی فلم ثابت ہوگی۔ فلم کے فلاپ ہونے کی کئی وجوہات تھیں، لیکن سیف علی خان کے ایک انکشاف نے تو تقریباً یہ واضح کر دیا کہ فلم کی ناکامی پہلے سے طے شدہ تھی۔ سیف علی خان کیلئے فلم کا ہٹ یا فلاپ ہونا اتنا اہم نہیں تھا، کیونکہ انہوں نے یہ فلم اپنی ذاتی تسکین کیلئے بنائی تھی۔ اگرچہ ابتدا میں فلم کی ناکامی نے انہیں بہت متاثر کیا، لیکن وقت کے ساتھ انہیں معاملے کی بہتر سمجھ آگئی۔
یہ بھی پڑھئے: دی فیملی مین: سری کانت تیواری کیلئے منوج باجپائی نہیں چرنجیوی پہلی پسند تھے
ایجنٹ ونود پر سیف علی خان کا اظہارِ خیال
ویریٹی انڈیا (Variety India) سے گفتگو کرتے ہوئے سیف علی خان نے کہا کہ اگرچہ وہ’’ ایجنٹ ونود‘‘ میں بہت زیادہ دلچسپی اور جذباتی سرمایہ کاری رکھتے تھے، پھر بھی فلم کی ناکامی نے انہیں طویل مدت میں مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے کہا:’’میں ایجنٹ ونود کو ایک ایسی فلم سمجھتا ہوں جس میں شاید کچھ خود نمائی (Vanity) تھی۔ لیکن اس فلم کی شروعات بہت اچھی ہوئی تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ فلم اپنی رفتار برقرار نہ رکھ سکی کیونکہ شاید یہ مضبوط انداز میں نہیں بنائی گئی تھی یا کئی جگہ راستے سے بھٹک گئی تھی۔ یا جیسا کہ سری رام خود کہتے ہیں، انہوں نے پیزا پر بہت زیادہ ٹاپنگز ڈال دی تھیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’لیکن خیال برا نہیں تھا، عنوان بھی اچھا تھا، اور یہ درست فلم تھی جسے بنانا چا ہئے تھا۔ شاید یہ اپنے وقت سے آگے ایک جاسوسی فلم تھی۔ یہ ایک اسٹائلش فلم تھی، لیکن اسے زیادہ مضبوط ہونا چا ہئے تھا۔ ممکن ہے ہم سے کچھ غلطیاں ہو گئی ہوں۔ ‘‘آخر میں انہوں نے کہا:’’میرا مطلب یہ ہے کہ اس میں خود نمائی کا عنصر تھا۔ میں یہ فلم بنانے کیلئے بہت پُرجوش تھا اور میں نے یہ فلم اپنے لئے بنائی تھی۔ لیکن فلم کی اوپننگ اچھی رہی تھی، اس لئے اس کی ناکامی صرف اس وجہ سے نہیں تھی کہ یہ ایک خود پسندانہ خیال تھا۔ ‘‘انہوں نے اعتراف کیا کہ فلم کا تصور اچھا تھا، لیکن اس میں بہت سی خامیاں موجود تھیں۔ اسے بہتر بنایا جا سکتا تھا، مگر اب جو ہو گیا سو ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’تارے زمین پر‘‘ میں ایشان کا بھائی یوہان اوستھی کہاں ہے؟
ایجنٹ ونود میں بہت زیادہ مداخلت ہوئی
ایک سابق انٹرویو میں لالیت پریمو نے بتایا کہ فلم کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ کیا ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا:’’میرے خیال میں سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ستاروں، یعنی سیف اور کرینہ، کی بہت زیادہ مداخلت تھی۔ سری رام جس طرح یہ فلم بنانا چاہتے تھے، وہ اس طرح نہیں بنا سکے۔ انہیں مسلسل بتایا جاتا تھا کہ کیا کرنا چا ہئے، جس کی وجہ سے فلم ایک گڑبڑ بن گئی۔ مصنفین اور ہدایت کار کی ٹیم اپنے اصل وژن کو پیش نہیں کر سکی۔ یہی فلم کی سب سے بڑی خامی تھی۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا:’فلم دراصل ہدایت کار کا ذریعہ اظہار ہوتی ہے، اس لئے اگر ہدایت کار کے پاس واضح وژن ہو تو دوسروں کو اس کی پیروی کرنی چاہئے۔ اگر کسی اداکار کی تجویز واقعی مفید ہو تو اسے ضرور قبول کرنا چاہئے لیکن اگر کوئی اداکار صرف اپنی اسٹار حیثیت کی وجہ سے مشورے دے رہا ہو تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہونی چاہئے۔ اس قسم کی تبدیلیاں فلم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ‘‘لالیت پریمو کے مطابق کرینہ کپور اور سیف علی خان کے ہدایت کار کے ساتھ بار بار اختلافات ہوتے رہے، اور بالآخر یہی وجہ بنی کہ فلم ایک کامیاب فلم کے بجائے ایک بے ترتیب اور ناکام پروجیکٹ بن گئی۔