Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجکمار ہیرانی نے ’’پی کے ‘‘ایلین کو مرکزی کردار میں کیوں منتخب کیا ؟

Updated: June 18, 2026, 8:05 PM IST | Mumbai

’’پی کے ‘‘بالی ووڈ سنیما کی سب سے مشہور فلموں میں سے ایک ہے۔ فلمساز راجکمار ہیرانی نے حال ہی میں بتایا کہ انہوں نے اس فلم میں مرکزی کردار کے طور پر ایک ایلین (خلائی مخلوق) کو کیوں منتخب کیا۔

Rajkumar Hirani And Aamir Khan.Photo:INN
عامر خان اور راجکمار ہیرانی۔ تصویر:آئی این این

راجکمار ہیرانی، جو اس وقت ’’پریتم اینڈ پیڈرو‘‘ کی ریلیز کی تیاری کر رہے ہیں، نے اپنی ۲۰۱۴ءکی بلاک بسٹر فلم ’’پی کے ‘‘کے ایک بہت زیر بحث فیصلے کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ ہدایتکار نے بتایا کہ مرکزی کردار کو ایلین کے طور پر رکھنا فلم کا ایک اہم حصہ تھا اور یہ صرف سائنس فکشن میں دلچسپی کی وجہ سے نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھئے:’’دِرِیشیم۳‘‘: مداحوں کے لیے بری خبر! مدراس ہائی کورٹ میں فلم کے خلاف درخواست دائر


پی کے میں ایلین کیوں تھا؟
ویرائٹی انڈیا کے ساتھ گفتگو میں ہیرانی نے بتایا کہ انہوں نے ایلین  کے کردار کو پیش کرنے کا انداز اسٹیون اسپیلبرگ سے بالکل مختلف رکھا۔ انہوں نے کہا ’’میری وجہ یقیناً  اسپیلبرگ کی فلموں میں ایلینز استعمال کرنے کی وجہ سے بالکل مختلف ہے۔ ’’پی کے ‘‘ میں اسے استعمال کرنے کی میری وجہ یہ تھی کہ اگر کوئی ایلین زمین پر آتا ہے تو اسے ہمارے خدا کے تصور کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوگا۔ اس کی معصومیت کے ذریعے ہم مذہب میں خدا کے بارے میں ایک کہانی بیان کر سکتے ہیں کیونکہ اگر آپ یہ کہانی کسی ایسے شخص کے نقطہ نظر سے سناتے جو پہلے سے ایک طے شدہ عقیدہ رکھتا ہو تو اس کا نظریہ پہلے سے مقرر ہوتا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کردار ہمیشہ سے ایلین کے طور پر تصور نہیں کیا گیا تھا؟ وہ ۲۰؍ سال جنگل میں رہنے کے بعد باہر آتا ہے اور کسی نے اسے نہیں بتایا ہوتا کہ خدا کیا ہے، اس لیے وہ بہت متجسس ہوتا ہے۔ وہاں سے ایک دن وہ کردار ایلین بن گیا۔ ہاں، بس یہی وجہ تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ہیری کین نے ۶۰؍ سال پرانا فیفا ورلڈ کپ کا ریکارڈ توڑ دیا


 ہیرانی بچوں کی فلموں کے بارے میں
اسی انٹرویو میں ہیرانی نے ہندوستان میں بچوں کی فلموں کو درپیش مشکلات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہاکہ ’’ اسٹوڈیوز کو فلم بنانے میں ہچکچاہٹ ہوتی ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ شاید اس کا مارکیٹ نہیں ہے لیکن میں ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ مارکیٹ موجود ہوتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ کون سی کہانی چنتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’کوئی مل گیا‘‘ اور ’’کِرِش‘‘ میں رتیک  روشن اور راکیش روشن نے بچوں کے لیے خوبصورت فلمیں بنائیں۔ اسی طرح ’’چِلر پارٹی‘‘ میں نیتیش تیواری نے ایک شاندار فلم بنائی لیکن ساتھ ہی مجھے یاد ہے کہ اسے بیچنے میں مشکلات پیش آئیں۔ میرا خیال ہے کہ کوئی جان بوجھ کر ایسی فلمیں نہیں بناتا، یہ زیادہ تر فلم سازوں اور اسٹوڈیوز کے انتخاب پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اسے سامنے لائیں یا نہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK