Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ میں وزیر اعظم اتنی عجلت میں کیوں تبدیل ہورہے ہیں؟

Updated: June 30, 2026, 2:52 PM IST | Agency | London

ڈاؤننگ اسٹریٹ میں اقتدار میں رہنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے، اس کے کئی اسباب ہیں،جوپروفیسر ’بین ورتھی‘ نے اس مضمون میں پیش کئے ہیں۔

Britain Pm.Photo:INN
برطانیہ کے وزیر اعظم۔ تصویر:آئی این این
دوسری جنگ عظیم کے بعد طویل عرصے تک برطانیہ میں  ایسے وزرائے اعظم بنے جو برسوں تک اقتدار میں رہے ہیں۔ جب کوئی لیڈر ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچ جاتا تو عام توقع یہی ہوتی تھی کہ وہ کافی عرصے تک اپنی جگہ برقرار رکھے گا۔ دو بڑی اور مستحکم پارٹیوں (لیبر ،کنزرویٹیو )کی بالادستی، نسبتاً نظم و ضبط کے پابند پارلیمانی گروہ، اور’ فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ الیکٹورل نظام، جو اکثر ووٹوں کو ’ہاؤس آف کامنز‘ میں واضح اکثریت میں بدل دیتا تھا، ان تمام عوامل نے وزیر اعظم کو ایک مضبوط اور مستحکم سیاسی بنیاد فراہم کی۔ مارگریٹ تھیچر اور ٹونی بلیئر دونوں کو وہ موقع ملا جو آج تقریباً ناقابلِ تصور محسوس ہوتا ہے: اقتدار میں ایک دہائی گزارنے کا۔
لیکن اب برطانیہ میں وزیراعظم بننا، آیا رام گیا رام کے مصداق ہوگیا ہے۔ ملک ایک دہائی کے اندر اپنے ساتویں وزیر اعظم کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تھریسا مے اور بورس جانسن دونوں ہی صرف ۳؍سال سے کچھ زیادہ عرصہ اقتدار میں رہ سکے، جبکہ لز ٹرس محض۴۹؍ دن بعد ہی عہدہ سے رخصت ہوئیں۔ کیئر اسٹارمر سے توقع تھی کہ وہ مختلف ثابت ہوں گے۔ وہ۲۰۲۴ء  میں لیبر پارٹی کی بھاری اکثریت کے بعد ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچے تھے، مگر اب وہ بھی بمشکل دو سال بعد اقتدار چھوڑ رہے ہیں۔ 
آخر وہ برطانوی سیاسی استحکام، جو کبھی مثال سمجھا جاتا تھا، اتنی تیزی سے سیاسی انتشار میں کیوں بدل گیا؟اس کی کئی واضح وجوہات ہیں، لیکن کوئی ایک وجہ مکمل وضاحت پیش نہیں کرتی۔ کیا سوشل میڈیا نے سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے؟ غالباً ہاں، لیکن انٹرنیٹ صرف برطانیہ ہی میں نہیں ہے۔ کیا بریگزٹ نے ملک کو چلانا زیادہ مشکل بنا دیا؟ یقیناً۔ اس نے جماعتی صف بندی کو توڑا، سیاسی شناختوں کو مزید گہرا کیا اور وزرائے اعظم کو صرف پالیسی اختلافات ہی نہیں بلکہ اس سوال سے بھی نمٹنے پر مجبور کر دیا کہ ملک کی اصل سمت کیا ہونی چاہیے۔ تاہم، جیسا کہ کئی ماہرین نے نشاندہی کی ہے، بریگزٹ نے برطانیہ کی سیاسی بے یقینی کو جنم نہیں دیا بلکہ ان دباؤ کو مزید تیز کر دیا جو پہلے ہی سیاسی نظام کے اندر پیدا ہو چکے تھے۔
کیا مسئلہ صرف یہ ہے کہ برطانیہ کو حالیہ برسوں میں کمزورلیڈر ملے؟ میں اپنے طلبہ کو اکثر یاد دلاتا ہوں کہ کچھ لوگ اعلیٰ ترین منصب کیلئے موزوں نہیں ہوتے۔ بعض حالیہ وزرائے اعظم کیلئے مسئلہ صلاحیت کا تھا۔ تھریسا مے اپنی بریگزٹ ڈیل پارلیمان سے منظور نہ کرا سکیں، جبکہ لز ٹرس کا جرأتمندانہ معاشی تجربہ شروع ہوتے ہی ناکام ہو گیا۔ دوسروں کیلئے مسئلہ فیصلوں اور اخلاقیات کا تھا۔ بورس جانسن نے خود ان قواعد کی خلاف ورزی کی جن پر عمل کرنے کی تلقین وہ عوام سے کر رہے تھے، اور پھر حقیقت سے انکار کر کے اپنی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا۔ کیئر اسٹارمر کی حکومت میں دونوں طرح کے مسائل دکھائی دیے؛ ایک طرف پالیسی سازی میں ہچکچاہٹ، دوسری طرف فیصلوں میں سنگین غلطیاں۔
لیکن صرف کمزور قیادت اس صورتحال کی مکمل وضاحت نہیں کرتی۔ برطانیہ میں اس سے پہلے بھی ناکام اور غیر مؤثر سیاست دان موجود رہے ہیں۔ اصل مسئلہ وزرائے اعظم اور ان کی اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمان کے درمیان بدلتے  تعلقات میں پوشیدہ ہے۔ ہر وزیر اعظم کو اپنی پارٹی کے اراکین کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اسکے قانون سازی کے پروگرام کی حمایت کریں اور مشکل وقت میں اس کے دفاع میں کھڑے ہوں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد کئی دہائیوں تک یہ تعلق نسبتاً مضبوط اور قابلِ اعتماد تھا، لیکن۱۹۷۰ء کی دہائی کے بعد اراکین پارلیمان اپنی پارٹی کے خلاف بغاوت کرنے، قیادت کو چیلنج کرنے اور ضرورت پڑنے پر اپنے ہی لیڈر کو ہٹانے کیلئے زیادہ آمادہ ہو گئے۔
علم سیاسیات کے ماہر جارج جونز کے قول کے مطابق، وزیر اعظم کی طاقت ایک لچکدار ربڑ بینڈ کی مانند ہوتی ہے؛ وہ کھنچ تو سکتی ہے، مگر ایک حد تک ہی۔ اراکین پارلیمان اور وزرائے اعظم کے درمیان یہی کمزور ہوتا تعلق۱۹۹۰ء کی دہائی کے بعد برطانوی سیاست کے کئی بڑے واقعات کی بنیاد بنا۔ عراق جنگ نے ٹونی بلیئر کی اپنی پارٹی میں ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔۲۰۰۳ء میں عراق پالیسی کے خلاف اتنے زیادہ لیبر ارکان نے بغاوت کی کہ بلیئر اور ان کے قریبی ساتھیوں کو خدشہ ہو گیا کہ کہیں ان کی وزارتِ عظمیٰ ہی خطرے میں نہ پڑ جائے۔ اگرچہ یہ بغاوت ناکام رہی، مگر جنگ اور اس کے نتائج نے بلیئر اور ان کی پارٹی کے بہت سے اراکین کے درمیان مستقل خلیج پیدا کر دی۔
ڈیوڈ کیمرون نے بریگزٹ ریفرنڈم اسلئے کرایا کیونکہ ان کی اپنی پارٹی کے یورپ مخالف باغی اراکین مسلسل اس کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جب عوام نے یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا تو کیمرون نے استعفیٰ دے دیا۔ بورس جانسن کے پارٹی گیٹ سے متعلق جھوٹ اس وقت جان لیوا ثابت ہوئے جب ان کی اپنی پارٹی کے اراکین نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح کیئر اسٹارمر کی فلاحی اخراجات میں کٹوتیوں اور سخت امیگریشن پالیسیوں نے لیبر ارکان کو وفاداری اور اصولوں کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور کر دیا۔ان بدلتے تعلقات نے اراکین پارلیمان کو اپنے لیڈروں کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے سے زیادہ آمادہ کر دیا ہے۔
اب عام انتخابات کے درمیان ہی وزیر اعظم کو ہٹانا برطانوی سیاست کی ایک عام روایت بنتی جا رہی ہے۔ آخری وزیر اعظم جو عام انتخابات جیت کر ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچے اور پھر اگلا الیکشن  ہارنے کے بعد اقتدار سے رخصت ہوئے، وہ ایڈورڈ ہیتھ تھے، جنہیں۱۹۷۴ء میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد سے زیادہ تر وزرائے اعظم ووٹروں کے فیصلے سے نہیں بلکہ اپنی پارٹی کے اندرونی دباؤ، اسکینڈلز، استعفوں یا قیادت کی تبدیلی کے باعث عہدہ چھوڑتے رہے ہیں۔ 
یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ پانچ وزرائے اعظم میں سے چار اپنی ہی پارٹی کے دباؤ کے باعث اقتدار سے گئے، جبکہ صرف رشی سونک ایسے تھے جنہیں عوام نے عام انتخابات میں شکست دے کر ہٹایا۔اس سیاسی انتشار میں ایک اور اہم عنصر بھی شامل ہو چکا ہے: ووٹر خود بدل گئے ہیں۔  برطانیہ اب پہلے جیسا مضبوط دو جماعتی نظام نہیں رہا۔ انگلینڈ میں ووٹر اب صرف لیبر اور کنزرویٹو پارٹی کے درمیان تقسیم نہیں ہوتے بلکہ کئی پارٹیوں میں بٹ رہے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں آزادی کا مسئلہ اب بھی سیاست کی بنیادی تقسیم ہے۔ شمالی آئرلینڈ میں انتخابات ایک مختلف جماعتی نظام کے تحت ہوتے ہیں، جہاں یونین ازم، قوم پرستی اور ابھرتے ہوئے اعتدال پسند سیاسی دھڑے سیاست کی سمت متعین کرتے ہیں۔ جبکہ ویلز میں لیبر پارٹی کو اب پلائیڈ کمری اور ریفارم پارٹی کی جانب سے پہلے سے کہیں سخت سیاسی چیلنج کا سامنا ہے۔
ووٹنگ کے اس نئے منظرنامے نے وزرائے اعظم اور اراکین پارلیمان، دونوں کیلئے سیاست کو زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ اب کسی بھی لیڈر کیلئے صرف لیبر یا کنزرویٹو ووٹروں کو متحد رکھنا ہی کامیابی کی ضمانت نہیں رہا۔ اسے یہ بھی طے کرنا پڑتا ہے کہ کن ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنا ہے، کن وعدوں میں نرمی لانی ہے، اور اپنی پارٹی کے اتحاد کے کن حصوں کو خطرے میں ڈالا جا سکتا ہے۔
 
 
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کیئر اسٹارمر کے قریبی مشیروں کا خیال تھا کہ سخت امیگریشن پالیسیاں اپنا کر وہ ان ووٹروں کو روک سکیں گے یا واپس لا سکیں گے جو ریفارم پارٹی کی طرف جا رہے تھے۔ لیکن انہی پالیسیوں نے لیبر پارٹی کے اپنے ارکانِ پارلیمان کو ناراض کر دیا اور لیبر کے بائیں بازو کیلئے مزید سیاسی گنجائش پیدا کر دی، جہاں گرین پارٹی پہلے ہی یہ ثابت کر چکی تھی کہ وہ لیبر سے ووٹ اور نشستیں چھیننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ووٹوں کی اس بکھرتی ہوئی صورتِ حال نے موجودہ ارکانِ پارلیمان کو بھی پہلے سے زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ جب ووٹر اپنی پارٹیوں سے کم وفادار ہوں اور روایتی سیاسی وابستگیاں کمزور پڑ جائیں، تو ارکانِ پارلیمان کے پاس اس بات کی زیادہ وجہ ہوتی ہے کہ اگر ان کا لیڈر غیر مقبول، غیر ذمہ دار یا کسی اسکینڈل میں ملوث ہو جائے تو وہ فوراً تشویش میں مبتلا ہو جائیں۔ اگلے عام انتخابات میں عوام کے فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے، ان کیلئے پہلے ہی کارروائی کرنا زیادہ فائدہ مند محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب پارٹی لیڈروں کو ہٹانا پہلے سے کہیں آسان ہو گیا ہے اور وزرائے اعظم بھی کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہونے لگے ہیں۔
کمزور قیادت، بے چین اراکین پارلیمان اور ووٹنگ کے بکھرتے ہوئے رجحانات نے مل کر ایک ایسا خود کو مضبوط کرنے والا سیاسی چکر پیدا کر دیا ہے۔ ہر ناکام وزارتِ عظمیٰ اگلے وزیر اعظم کیلئے حالات کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ نیا وزیر اعظم تبدیلی اور نئے آغاز کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار میں آتا ہے، مگر اسے وہی گہرے مسائل، وہی پریشان اراکین پارلیمان اور عوام کی پہلے سے بھی کم ہوتی ہوئی برداشت ورثے میں ملتی ہے۔ یوں ہر نئی قیادت استحکام لانے کے بجائے اگلے وزیر اعظم کو مزید آسانی سے ہٹائے جانے کی راہ ہموار کر دیتی ہے۔
 
 
یہی وہ سیاسی چکر ہے جو اینڈی برنہم کو ورثے میں ملے گا، اور اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اسے توڑ سکیں گے؟ برنہم، جو۲۰۱۷ء سے پارلیمان میں واپسی تک گریٹر مانچسٹر کے میئر رہے، اپنے حامیوں کے نزدیک ایسے لیڈر کی شہرت رکھتے ہیں جو عملی نتائج حاصل کرتے ہیں اور اپنی سیاست کو سادہ اور عام فہم زبان میں بیان کرتے ہیں۔ میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب، جہاں انہوں نے دوبارہ پارلیمان میں واپسی کے لیے نشست جیتی، نے اس دعوے کے حق میں کچھ ثبوت بھی فراہم کیے، کیونکہ وہاں لیبر پارٹی نے اپنے ووٹوں میں اضافہ کیا، حالانکہ ملک بھر میں سیاست بکھراؤ کا شکار تھی۔
تاہم ابھی بہت سی باتیں غیر واضح ہیں۔ ہر شخص اس بات پر متفق نہیں کہ برنہم نے گریٹر مانچسٹر میں اتنی کامیابیاں حاصل کیں جتنی ان کے حامی دعویٰ کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ پر عوامی کنٹرول بحال کرنا ان کیلئے  ایک مضبوط سیاسی بیانیہ ضرور بنا، لیکن قومی حکومت چلانے کی صورت میں ان وعدوں کا کہیں زیادہ سخت امتحان ہوگا۔ اگر وہ لیبر پارٹی کی سخت امیگریشن پالیسیوں کو برقرار رکھتے ہیں، اگر عوامی خدمات پر دوبارہ عوامی کنٹرول کے ان کے وعدے ووٹروں کی توقعات سے کم ثابت ہوتے ہیں، یا اگر ان کی مقبولیت میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے، تو پارٹی کے اندر ان کے لیے موجود خیرسگالی بہت تیزی سے ختم ہو سکتی ہے۔ایسی صورت میں اینڈی برنہم کو بھی اپنے حالیہ پیش روؤں کی طرح اسی خطرے کا سامنا ہوگا کہ ان کی اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمان یہ فیصلہ کر لیں کہ ان کالیڈر اب ایک ایسا سیاسی بوجھ بن چکا ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسا ہوا تو وہ بھی اسی سیاسی چکر کا حصہ بن جائیں گے جسے توڑنے کی امید ان سے وابستہ کی جا رہی ہے۔(مضمون نگار، یونیورسٹی آف لندن کے بربیک کالج میں علم سیاسیات کے پروفیسر ہیں۔بشکریہ : الجزیرہ)

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK