• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھرت گڑھ قلعہ:ناممکن کو ممکن بنانے کی تاریخی داستان

Updated: February 26, 2026, 10:56 AM IST | Mohammed Habeeb | Mumbai

چھترپتی شیواجی مہاراج نے پانی کی عدم دستیابی کے سبب یہاں قلعہ تعمیر کرنے کا منصوبہ مسترد کردیا تھا لیکن مقامی ساونتوں نے یہ کارنامہ سرانجام دیا۔

Wall And Tower Of Bharatgarh Fort.Photo:INN
بھرت گڑھ قلعہ کی دیوار اور برج -تصویر:آئی این این
مہاراشٹرا کا ساحلی علاقہ ’کوکن‘اپنے خوبصورت ساحلوں اور بلند و بالا قلعوں کے لیے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ انہی قلعوں میں سے ایک بھرت گڑھ قلعہ بھی ہے، جو ضلع سندھودرگ کے گاؤں ’میسور‘ میں واقع ہے۔ یہ قلعہ نہ صرف فنِ تعمیر کا شاہکار ہے بلکہ مراٹھاتاریخ کی ایک اہم کڑی بھی ہے۔
تاریخی پس منظر
بھرت گڑھ کی تاریخ انتہائی دلچسپ ہے۔ روایت ہےکہ ۱۶۷۰ءمیںعظیم مراٹھاحکمراں چھترپتی شیواجی مہاراج نے اس پہاڑی کا دورہ کیا تھا۔ وہ یہاں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کرنا چاہتے تھے، لیکن اس وقت پہاڑی پر پانی کا کوئی ذریعہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔بعد ازاں، ۱۶۸۰ءمیںساونت واڑی کے حکمران پھوند ساونت نےاس چیلنج کو قبول کیا۔انہوں نے پہاڑی پر ایک انتہائی گہرا کنواں کھدوایا اور خوش قسمتی سے پانی نکل آیا۔ پانی کی دستیابی کے بعد۱۷۰۱ءمیںقلعے کی تعمیر مکمل ہوئی۔قلعہ مراٹھا دفاعی نظام سے لیس تھا یعنی چاروں طرف بُرج، ضخیم دیواریں، خفیہ داخلی راستے اور ذخیرہ خانے۔۱۷۴۸ءمیںکانہوجی آنگرے کےبیٹے تلاجی آنگرےنے حملہ کیا مگر ساونتوںنے واپس دھکیل دیا۔ ۱۸۱۸ء میں برطانوی کیپٹن ہچنسن نے قبضہ کیا تو کنویں کا پانی توپوں  سے ختم کر دیا گیا۔ آج یہ کنواں قلعے کی سب سے متاثر کن نشانی ہے۔
محل وقوع
یہ قلعہ مالون سے تقریباً ۱۸؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قلعہ ’کلاول کریک‘کے جنوبی کنارے پر ایک چھوٹی پہاڑی پر تعمیر کیا گیا ہے، جہاں سے ارد گرد کے گھنے جنگلات اور ندی کا دلفریب نظارہ دیکھا جا سکتا ہے۔
طرز تعمیر اور قلعہ بندی
بھرت گڑھ کی تعمیر میں دفاعی حکمت عملی کو مدنظر رکھا گیا ہے جس کے تحت قلعے کے چاروں طرف پتھر کی مضبوط فصیل ہے جس میں ۹؍ بڑے برج بنائے گئے ہیں۔ یہ برج دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔اس کے علاوہ قلعے کی حفاظت کو مزید یقینی بنانے کے لیے اس کے گرد ۲۰؍فٹ چوڑی اور ۱۰؍فٹ گہری خندق کھودی گئی تھی، تاکہ دشمن آسانی سے دیواروں تک نہ پہنچ سکے۔ ساتھ ہی قلعے کے اندر ایک اندرونی قلعہ یا’بالا قلعہ‘ بھی موجود ہے، جس کی دیواریں تقریباً ۱۰؍سے ۱۲؍فٹ بلند ہیں۔ اس قلعے کی سب سے بڑی خصوصیت وہ کنواں ہے جس کی وجہ سےیہ قلعہ وجود میں آیا۔یہ تقریباً۲۲۸؍فٹ گہرا ہے اور اسے ٹھوس چٹان کو کاٹ کر بنایا گیا ہے۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
بھرت گڑھ قلعہ، جو کوکن کے قلب میں واقع ہے، ممبئی کے شور شرابےسے دور ایک پرسکون اور تاریخی مقام ہے۔ممبئی سے یہاں پہنچنے کے کئی متبادل ہوسکتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔
 
 
سڑک کےراستے :اگر آپ کو لانگ ڈرائیو پسند ہے، تو سڑک کے ذریعے سفر کرنا ایک بہترین تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔اس کیلئے آپ ممبئی-گوا ہائی وے(این ایچ ۶۶)کاانتخاب کر سکتے ہیں۔ یہ راستہ گھاٹیوں اور ہریالی سے بھرپور ہے۔ممبئی سےبھرت گڑھ کا فاصلہ تقریباً ۴۵۰؍کلومیٹر ہے، جسے طے کرنے میں۱۰؍ تا ۱۲؍گھنٹے لگ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ممبئی کے اہم مقامات سےمالون کے لیے ایم ایس آر ٹی سی(ایس ٹی بس) اور نجی لگژری بسیں رات بھر چلتی ہیں۔ آپ مالون یا کساول پھاٹا پر اتر کر مقامی رکشہ لے سکتے ہیں۔
 
 
ریل کےذریعہ :ممبئی سے بھرت گڑھ پہنچنے کا سب سے مقبول اور آرام دہ ذریعہ ٹرین ہے۔ کوکن ریلوے کے خوبصورت مناظر اس سفر کو یادگار بنا دیتے ہیں۔قلعے کے قریب ترین بڑے اسٹیشن کنکولی  اور کڈال ہیں۔ کنکولی یا کڈال اسٹیشن پر اترنے کے بعد، آپ مقامی بس یا پرائیویٹ ٹیکسی کے ذریعے میسور گاؤں پہنچ سکتے ہیں، جو وہاں سے تقریباً ۳۰؍سے ۴۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK