اس کی بیضوی شکل اور چپٹی چوٹی اسے علاقے کے دیگر قلعوں سے منفرد بناتی ہے،۲۹۰۵؍فٹ بلند اس کی چوٹی کا رقبہ تقریباً ۳۰۰؍مربع گز ہے۔
قدرے نزدیک سےقلعہ کی دیوار نظر آرہی ہے-تصویر:آئی این این
مہاراشٹرکی سرزمین پر ہر پہاڑی چوٹی ایک تاریخی داستان سناتی ہے اور بھوشن گڑھ ان داستانوں میں ایک انوکھا باب ہے۔ بھوشن گڑھ ستارہ ضلع کے کھٹاؤ تعلقے کا ایک پہاڑی قلعہ ہے جو آسپاس کےمیدانوں سے ۶۰۰؍فٹ بلند ہے۔ اس کی بیضوی شکل اور چپٹی چوٹی اسے علاقے کے دیگر قلعوں سے منفرد بناتی ہے، اور اس کی چوٹی کا رقبہ تقریباً ۳۰۰؍مربع گز ہے۔
محل وقوع
سطح سمندر سے ۲۹۰۵؍فٹ بلند یہ قلعہ کھٹاؤ تعلقے کا واحد پہاڑ ہےجو سپاٹ میدانوں میں اکیلا کھڑا ہوا ایک منفرد منظر پیش کرتا ہے۔ یہ تنہائی ہی بھوشن گڑھ کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔ جب آپ میدان سے دیکھتے ہیں تو ایک فردِ فرید پہاڑ ہر طرف سے نظر آتا ہے۔
تاریخی پس منظر
بھوشن گڑھ قلعے کی ابتدا ۱۲۱۰ءتا ۱۲۴۷ءعیسوی کے درمیان دیوگیری یادو سلطنت کےبادشاہ سِنگھن دوئم کے دور سے منسوب ہے۔ اس طرح یہ قلعہ۸؍صدیوں سے زیادہ کی تاریخ کا حامل ہے۔
بھوشن گڑھ قلعے کی تعمیر بہمنی سلطنت اور عادل شاہی خاندان سمیت مختلف حکمرانوں کے ادوار سے گزری۔ پندرہویں اور سولہویں صدیوںمیں یہ علاقہ بہمنیوں، وجے نگر سلطنت اور عادل شاہیوں کے درمیان تنازعات کی سرزمین رہا اور بھوشن گڑھ اپنے فائدہ مند محلِ وقوع کی وجہ سے ایک اہم مقام بنا رہا۔
۱۶۷۶ءمیںشیواجی راجے نے عادل شاہ سے بھوشن گڑھ کا قلعہ فتح کیا اور اسےنئےسرے سے تعمیر کروایا۔ جو قلعہ مراٹھوں کے قبضےمیںآ گیا تھا، بعد میں اسے اورنگ زیب نے فتح کر لیا اور اس کا نام بدل کر’اسلام تارہ‘ رکھ دیا۔پیشوا دور میں یہ قلعہ پنت پرتی ندھی کے زیرِ کنٹرول رہا۔بعد میں۱۸۰۵ءمیں رحیم آباد کے فتح سنگھ مانے نےاس قلعے پر حملہ کیا۔ ۱۸۴۸ءمیںجب انگریزوں نے ستارہ کو الحاق کیا تو بھوشن گڑھ برطانوی راج کے قبضے میں آ گیا۔
قلعے کی ساخت اور آثار
قلعے کی فصیلیں ابھی تک اچھی حالت میں ہیں اور مختلف مقامات پر برج بنےہوئے ہیں۔ فصیلوں میں مجموعی طور پر ۱۰؍ برج ہیں جن میں دروازے کے۲؍ برج شامل ہیں۔قلعے کا داخلی دروازہ مشرق کی طرف ہے اور یہ ’گومکھی‘طرز کا ہے جو دشمن فوجیوں کو الجھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ قلعے کو اس قدر اچھی طرح محفوظ رکھا گیا ہے کہ داخلہ گاہ پر ایک نیا محراب بھی آپ کا استقبال کرتا ہے۔
قلعے کے اندر ایک تالاب اور ۲؍ مندرموجود ہیں۔قلعے میں ایک چراغ دان اور کچھ سرخ رنگ سےرنگے ہوئے پتھر بھی ہیں جو تاریخ اور ثقافت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
ٹریکنگ کا تجربہ
قلعے تک ٹریکنگ آسان اور ابتدائی درجے کے ٹریکرز اور خاندانوں کے لیےموزوں ہے۔ بھوشن واڑی بیس گاؤں سے جدید سیڑھیاں قلعے تک لےجاتی ہیں اور چوٹی تک پہنچنے میں تقریباً ۲۰؍ سے ۳۰؍منٹ لگتےہیں۔چونکہ بھوشن گڑھ کے آس پاس کوئی بڑی پہاڑی نہیں ہے اس لیے قلعے سے دور دور تک کا میدانی علاقہ نظر آتا ہے۔قلعے سے اوندھ، یمائی، مہیمن گڑھ اور شِکھر شِنگنا پور جیسے مقامات صاف دکھائی دیتے ہیں۔اگر آپ مہم جوئی چاہتے ہیں تو قلعے کی فصیلوں کے ساتھ ساتھ پورے قلعہ کا بھی چکر لگایا جا سکتا ہے۔ اگر وقت کم ہو تو پورا قلعہ ایک گھنٹے میں دیکھا جا سکتا ہے۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
قلعہ ستارہ سے تقریباً ۲۰؍کلومیٹر دور ہے۔ کرہاڈ-واڈوج روٹ پر پوسے سالی یا پالشی پھاٹا سے بھوشن گڑھ گاؤں تک ایک کچی سڑک ہے۔ دوپہیہ سوار قلعے کے نصف راستے تک گاڑی پر پہنچ سکتے ہیں اور پھرپیدل سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں۔ قلعے پر قیام یا کھانے پینے کی سہولت نہیں ہے اس لیے اپنے ساتھ کافی پانی اور کھانا لے کر جائیں۔قلعہ ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے ۔