یہ شہر صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا،یہاں کا قلعہ عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل ہے۔
چتوڑگڑھ کا قلعہ ۔تصویر:آئی این این
راجستھان کی سرزمین اپنی شاندار تاریخ، عظیم قلعوں، رنگا رنگ ثقافت اور راجپوتوں کی بے مثال بہادری کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہے۔اسی تاریخی دھرتی پر واقع چتوڑگڑھ ایک ایسا شہر ہے جس کا نام سنتےہی شجاعت، عزت، قربانی اور وطن سے محبت کی بے شمار داستانیں ذہن میں تازہ ہو جاتی ہیں۔ یہ شہر صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔چتوڑ گڑھ راجستھان کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور اسے میواڑ کی قدیم راجدھانی ہونے کااعزاز حاصل ہے۔ صدیوں تک یہ راجپوت حکمرانوں کی طاقت، وقار اور خودداری کا مرکزرہا۔یہاں موجود عظیم الشان چتوڑ گڑھ قلعہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے اور ہندوستان کے سب سے بڑے قلعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس قلعے کی فصیلیں آج بھی ان جنگوں، قربانیوں اور تاریخی واقعات کی گواہی دیتی ہیں جنہوں نے ہندوستان کی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
چتوڑ گڑھ قلعہ
شہر کی سب سے بڑی شناخت چتوڑگڑھ قلعہ ہے۔ تقریباً ۷۰۰؍ ایکڑ رقبے پر پھیلا یہ قلعہ ایک بلند پہاڑی پر واقع ہے اور تقریباً ۱۸۰؍میٹر کی بلندی سے پورے علاقے پر نظر رکھتا ہے۔قلعے تک پہنچنے کے لیے ۷؍عظیم دروازوں سے گزرنا پڑتا ہے جنہیں دفاعی نقطۂ نظر سے تعمیر کیا گیا تھا۔ ان دروازوں کی مضبوطی اور فن تعمیر آج بھی دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا ہے۔قلعے کے اندر محلات، مندر، تالاب، یادگاریں اور تاریخی عمارتیں موجود ہیں جو مختلف ادوار کی داستان سناتی ہیں۔
رانی پدمنی کا محل
قلعے کے اندر واقع رانی پدمنی محل چتوڑ گڑھ کے مشہور ترین مقامات میں شامل ہے۔ اس محل کا تعلق میواڑ کی ملکہ رانی پدمنی سے جوڑا جاتا ہے۔روایت ہے کہ علاءالدین خلجی نے رانی پدمنی کے حسن کی شہرت سن کر چتوڑ پر حملہ کیا تھا۔ اگرچہ مورخین اس داستان کے بعض پہلوؤں پر اختلاف رکھتے ہیں، لیکن یہ قصہ آج بھی راجستھان کی لوک روایات اور عوامی یادداشت کا اہم حصہ ہے۔محل کے آس پاس موجود جھیل اور سرسبز مناظر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
وجئے استمبھ
چتوڑ گڑھ کا سب سے شاندار تاریخی شاہکار وجے استمبھ ہے۔ یہ ۹؍منزلہ مینار پندرہویں صدی میں میواڑکے عظیم حکمران رانا کمبھانے تعمیر کروایا تھا۔تقریباً ۳۷؍میٹر بلند یہ مینارمالوا کے سلطان پر فتح کی یاد میں تعمیر کیا گیاتھا۔مینار کی دیواروں پر دیوتاؤں، جنگجوؤں اور مختلف تاریخی مناظر کی نہایت باریک نقش و نگاری موجود ہے۔ اوپر پہنچ کر پورے چتوڑ گڑھ کا دلکش منظر دیکھا جا سکتا ہے۔
کیرتی استمبھ
قلعے کے اندر موجود کیرتی استمبھ بھی ایک اہم تاریخی یادگار ہے۔یہ مینارجین مذہب کے پہلے تیرتھنکر آدیناتھ کے احترام میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی خوبصورت نقش و نگاری راجستھان کے قدیم فن تعمیر کی بہترین مثال سمجھی جاتی ہے۔
رانا کمبھا محل
رانا کمبھا محل سب سے قدیم اور وسیع محلات میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہےجہاں سے متعلق کہا جاتا ہے کہ جوہر کی بعض تاریخی تقریبات انجام دی گئیں۔ آج اگرچہ محل کا بڑا حصہ کھنڈر کی شکل اختیار کر چکا ہے، لیکن اس کی عظمت اب بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔
گاؤمکھ کنڈ
گائومکھ کنڈقلعے کے اندر واقع ایک مقدس آبی ذخیرہ ہے۔ پہاڑی چٹان سے مسلسل بہنے والا پانی ایک تالاب میں گرتا ہے۔ یہ مقام مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ قدرتی حسن کے لیے بھی مشہور ہے۔
فتح پرکاش محل
فتح پرکاش محل آج ایک عجائب گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں قدیم مجسمے، ہتھیار، تاریخی نوادرات اور مختلف شاہی اشیاء محفوظ کی گئی ہیں۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے یہ مقام نہایت اہم ہے۔
چتوڑ گڑھ کے دیگر دیدنی مقامات
قلعے کےعلاوہ شہر اور اس کے آس پاس کئی مقامات قابل دید ہیں۔ان میں سانوریا جی ٹیمپل، بسی وائلڈ لائف سینکچوری اور مینل واٹرفال خاص طورپرمشہور ہیں۔ برسات کے موسم میں مینل آبشار کا حسن کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
ثقافت اور کھانے
چتوڑ گڑھ کی ثقافت میواڑکی عظیم روایات کی عکاس ہے۔ یہاںکے لوگ آج بھی اپنی روایات، لوک موسیقی، لوک رقص اور تہواروں سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔گھومراور گاوری جیسے روایتی رقص سیاحوں کو راجستھانی ثقافت سے روشناس کراتے ہیں۔یہاں کے کھانوں میں دال باٹی چورما،گٹے کی سبزی بھی بہت مشہور ہے۔