ستارا ضلع میں واقع یہ قلعہ اپنی نسبتاً ہموار چوٹی، پتھریلے راستے، قدیم آبی ذخائر اور اردگرد پھیلے دلکش مناظر کے باعث ٹریکنگ کے شوقین افراد میں مقبول ہے۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 1:21 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
ستارا ضلع میں واقع یہ قلعہ اپنی نسبتاً ہموار چوٹی، پتھریلے راستے، قدیم آبی ذخائر اور اردگرد پھیلے دلکش مناظر کے باعث ٹریکنگ کے شوقین افراد میں مقبول ہے۔
مہاراشٹر کے سہیا دری پہاڑی سلسلے میں کئی ایسے قلعے موجود ہیںجو راج گڑھ، رائے گڑھ یا پرتاپ گڑھ جتنی شہرت نہیں رکھتے، مگر تاریخ، قدرت اور مہم جوئی کے شوقین افراد کے لیے ان کی اپنی ایک الگ کشش ہے۔ کنجل گڑھ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ ستارا ضلع میںواقع یہ قلعہ اپنی نسبتاً ہموار چوٹی، پتھریلے راستے، قدیم آبی ذخائر اور اردگرد پھیلے سہیا دری کے دلکش مناظر کے باعث ٹریکنگ کے شوقین افراد میں مقبول ہے۔
سطح مرتفع پر واقع قلعہ
کنجل گڑھ ستارا ضلع کے وائی علاقے کے قریب واقع ہے۔ قلعہ سطح سمندر سے تقریبا۴؍ہزار ۲۷۰؍فٹ کی بلندی پر ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی بہت بلند اور دشوار پہاڑی چوٹی کے عین سرے پر نہیں بلکہ نسبتاً کشادہ سطح مرتفع پر پھیلا ہوا ہے۔قلعے تک پہنچنے کے لیے جس پہاڑی علاقے سے گزرنا پڑتا ہے، وہاں سہیا دری کی مخصوص چٹانی ساخت، گھنے درخت اور مانسون میںپھیلنے والی ہریالی راستے کو خاصا خوبصورت بنا دیتی ہے۔ سردیوں اور گرمیوں میں منظر نسبتاً خشک دکھائی دیتا ہے، جبکہ بارش کے موسم میں یہی علاقہ سبز چادر اوڑھ لیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نوبرا وادی: لیہہ کے پہاڑوں کے درمیان ایک الگ دنیا کا احساس
قلعے کی چوٹی پر کیا دیکھیں؟
کنجَل گڑھ کی چوٹی پر پہنچنے کے بعد سب سے پہلے قلعے کا پھیلا ہوا سطح مرتفع نما حصہ توجہ حاصل کرتا ہے۔ یہاں قلعے کے قدیم آثار بکھرےہوئے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ قلعے کی فصیل اور تعمیرات کےکئی حصے تباہ ہوچکے ہیں، لیکن پتھریلی دیواروں اور بنیادوں کے آثار اب بھی ماضی کی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔
قلعےپر موجود قدیم پانی کی ٹانکیاں اس کے اہم آثار میں شمار ہوتےہیں۔پہاڑی قلعوں میں پانی کا انتظام ہمیشہ بنیادی ضرورت رہاہے اور کنجل گڑھ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ بارش کا پانی ذخیرہ کرنےکیلئےبنائی گئی یہ ٹانکیاں اس زمانے کی عملی ضرورت اور مقامی تعمیراتی سمجھ بوجھ کی مثال ہیں۔چوٹی پر بعض مقامات پر چٹانوں کو تراش کر بنائی گئی ساختیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ قلعے کی باقیات اگرچہ شاندار محل یا بڑے دروازوں کی شکل میں محفوظ نہیں، لیکن تاریخ کے شوقین افراد کے لیے یہی سادگی اسے دلچسپ بناتی ہے۔
سہیا دری کا شاندار نظارہ
کنجل گڑھ کی سب سے بڑی کشش اس کی چوٹی سے دکھائی دینے والا منظر ہے۔ صاف موسم میں اردگرد کے پہاڑ، گہری وادیاں اور دور تک پھیلا ہوا دیہی علاقہ نظر آتا ہے۔ مانسون میں یہی منظر بالکل بدل جاتا ہے۔ پہاڑوں پر سبزہ چھا جاتا ہے، بادل چوٹیوں کے گرد تیرتے دکھائی دیتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے آبشار راستے میں نمودار ہوجاتے ہیں۔موسم صاف ہو تو دور واقع سہیا دری کے دوسرے پہاڑی سلسلے بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔ صبح سویرے یا شام کے وقت یہاں روشنی اور سائے کا امتزاج پہاڑی منظر کو مزید خوب صورت بنا دیتا ہے۔مہاراشٹر کے قلعوں کی بات ہو اور مون سون کا ذکر نہ ہو تو بات ادھوری رہ جاتی ہے۔ بارش کے دنوں میں کنجل گڑھ کا ماحول خاص طور پر دلکش ہوجاتا ہے۔ خشک اور بھورے پہاڑ چند ہی ہفتوں میں سبز رنگ اختیار کرلیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کوچ: چمڑے کے بیگز کا امریکی برانڈ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے
ویہی گاؤں کیسے پہنچیں؟
ممبئی سے کنجل گڑھ جانے کے لیے سڑک کا راستہ زیادہ آسان ہے۔ ممبئی سے پونے کی سمت سفر کرتے ہوئے وائی پہنچا جاسکتا ہے۔ ممبئی سے وائی کا فاصلہ راستے کے لحاظ سے تقریباً ۲۲۵؍کلومیٹر کے آس پاس بنتا ہے۔ وائی سے کنجل گڑھ کے بیس پوائنٹ تک مزید مقامی پبلک ٹرانسپورٹ سےسفر کرنا پڑتا ہے۔اگرآپ صبح سویرے ممبئی سے روانہ ہوجائیں تو راستے میں وائی کے علاقے کو شامل کرکے ایک طویل دن کا پروگرام بنایا جاسکتا ہے، لیکن قلعے کو آرام سے دیکھنے اور ٹریک کا لطف اٹھانے کے لیے ایک رات وائی یا قریبی علاقے میں قیام زیادہ مناسب رہے گا۔