’’روٹن ٹماٹوز‘‘ پر فلم کو صرف ۳۸؍ فیصد اسکور،نیویارک ٹائمز نے فلم پر شدید تنقید کی ، معروف فلم ناقد پیٹر بریڈ شو کےمطابق فلم حقیقت کو مسخ کرکے دکھاتی ہے ۔
رنویر سنگھ دھرندھر کے مرکزی کردار میں ہیں- تصویر:آئی این این
فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ یا پارٹ ۲؍ بظاہر ایک بڑے باکس آفس طوفان کے طور پر ابھری ہے لیکن اس کی چمک کے پیچھے ایک شدید اور غیر معمولی سطح کی عالمی تنقید بھی موجود ہے جو اسے حالیہ برسوں کی سب سے متنازع ہندوستانی فلموں میں شامل کرتی ہے۔ ۱۹؍ مارچ کو ریلیز ہونے والی یہ فلم ہندوستانی خفیہ ایجنٹ حمزہ علی مزاری کی کہانی بیان کرتی ہے جو پاکستان کے شہر کراچی کے لیاری علاقے میں انڈر ورلڈ اور دہشت گردی کے نیٹ ورک میں گھس کر بدلہ لینے کے مشن پر ہے۔ کہانی کا یہ ڈھانچہ نہ صرف سیاسی طور پر حساس ہے بلکہ فلم کی پیشکش بھی شدید جارحانہ اور یکطرفہ بیانیہ پیش کرتی ہے، جسے کئی عالمی ناقدین نے ’’پروپیگنڈا‘‘ قرار دیا ہے۔ اگرچہ فلم نے عالمی سطح پر شائقین کو سینما گھروں تک کھینچا اور بیرونِ ملک ۶ء۲۲؍ ملین ڈالر (تقریباً ۲۱۲؍ کروڑ روپے) کمائے لیکن ناقدین کی نظر میں یہ کامیابی اس کے مواد کی کمزوریوں کو نہیں چھپا سکی۔
’’روٹن ٹماٹوز‘‘ پر اسے صرف ۳۸؍ فیصد اسکور ملا جو اس کے خلاف عالمی ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا میں اس فلم پر خاص طور پر اس کے ’’بے قابو تشدد‘‘ اور ’’انسانی حساسیت کی کمی‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔نکولس ریپولڈ نے نیو یارک ٹائمز میں لکھا، ’’یہ ایک ایسی فلم ہے جو موجودہ دور کی عکاسی تو کرتی ہے، مگر انتہائی بے چین کرنے والے انداز میں جہاں لوگوں کو زندہ جلانا، اجتماعی پھانسی اور خون آلود مناظر معمول ہیں۔‘‘ اسی طرح سارہ مینول نے ’’موویز وی ٹیکسٹڈ اباؤٹ‘‘میں اس فلم کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ ’’بےتحاشہ ظلم اور خون خرابہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ فلم کا تجربہ ایک سوشیوپیتھک ذہن کی پیداوار لگتا ہے ۔یہ محض تفریح نہیں بلکہ ایک غیرصحت مند تشدد کا جشن ہے۔‘‘
مزید تنقید کرتے ہوئے برطانوی فلم جرنلسٹ پیٹر بریڈشو (دی گارڈین) نے اپنے جائزے میں لکھا کہ ’’یہ فلم ایک اشتعال انگیز قوم پرست فینٹسی ہے، ایک پروپیگنڈا ہے جہاں حقیقت کو مسخ کر کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے۔‘‘ فلم کی سب سے بڑی کمزوری اس کا بیانیہ ہے، جو پیچیدہ جغرافیائی سیاست کو بالکل یکطرفہ انداز میں پیش کرتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، یہ نہ صرف فنکارانہ طور پر کمزور ہے بلکہ خطرناک حد تک یکطرفہ بھی ہے کیونکہ یہ پورے خطے کو ایک ہی نظریے کے تحت پیش کرتی ہے۔ایک اور اہم پہلو فلم کا تشدد ہے، جسے کئی مبصرین نے ’’غیر ضروری‘‘ اور ’’استحصالی‘‘ قرار دیا۔ فلم میں بار بار دکھائے جانے والے اذیت ناک مناظر جیسے جلانا، گولیاں مارنا، اور کھلے عام سزائیں دینا کہانی کو آگے بڑھانے کے بجائے محض سنسنی پھیلانے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔