اپنے پیش رو کے مقابلے اس میں کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں،پروسیسر جدیدترین استعمال کیا گیا ہے،کیمرہ بھی بہتر بنایا گیا لیکن بیٹری مایوس کن ہے۔
EPAPER
Updated: July 13, 2026, 12:05 PM IST | Mohammed Habeeb | Mumbai
اپنے پیش رو کے مقابلے اس میں کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں،پروسیسر جدیدترین استعمال کیا گیا ہے،کیمرہ بھی بہتر بنایا گیا لیکن بیٹری مایوس کن ہے۔
یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسمارٹ فونز کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔جو فون گزشتہ سال تک ۴۰؍ہزار روپے سےکم قیمت میں دستیاب تھےوہ اب تقریباً ۵۰؍ہزار روپے کی قیمت تک پہنچ چکےہیں۔بیشتر کمپنیاں اب ہارڈویئر میں نمایاں بہتری لانے کےبجائے ڈیزائن، ہاتھ میں فون کے احساس اور دیگر نسبتاً کم لاگت والے پہلوؤں پر توجہ دے رہی ہیں، تاکہ صارف کو نئے فون کا احساس تو ہو، مگر حقیقی اپ گریڈ کم نظر آئے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹیم کو لگاتار مل رہی کامیابی عام بات نہیں : میسی
قیمت:موٹرولا نےایج ۷۰؍پروپلس متعارف کرا کے کچھ مختلف حکمت عملی اپنائی ہے۔ پرو ماڈل کی لانچنگ کے تقریباً ایک ماہ بعدکمپنی نے اس کا پرو پلس ورژن پیش کیا، جس میں ۲؍بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلی،۱۵؍واٹ وائرلیس چارجنگ کی سہولت، اور دوسری، عقب میں ۵۰؍میگا پکسل کا ٹیلی فوٹوکیمرہ، جو پرو ماڈل میں موجود نہیں تھا۔یہ فون۴۷؍ہزار ۹۹۹؍روپے کی قیمت پر دستیاب ہے۔
ڈیزائن:اس کا بجٹ سیگمنٹ کا موٹو جی ۳۷؍پاوراور یہ فون پہلی نظرمیں تقریباً ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔صرف۷ء۱۹؍ملی میٹر موٹائی کے ساتھ یہ فون خاصا پتلاہے، جبکہ خم دارڈسپلے اس باریکی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ تاہم یہی چیز بعض اوقات مسئلہ بھی بن جاتی ہے، کیونکہ اطراف میں موجود باریک دھاتی فریم زیادہ مضبوط ہونے کا احساس نہیں دیتا، جس کی وجہ سے صارف فوراً حفاظتی کور استعمال کرنے کا سوچ سکتا ہے۔
ڈسپلے:فون میں۶ء۸؍انچ کا بڑا ڈسپلے دیا گیا ہے، جو ویڈیو دیکھنے اور گیمنگ کے لیے بہترین تجربہ فراہم کرتا ہے۔ ۱ء۵؍ کے ریزولوشن تصاویر اور متن کو نہایت واضح اور شارپ انداز میں پیش کرتی ہے، جیسا کہ اس قیمت کے فون سے توقع کی جاتی ہے۔ اس کا ایکسٹریم امولیڈڈسپلےحقیقت کے قریب رنگ پیش کرتاہے۔
ہارڈویئر:اس فون میں میڈیا ٹیک ڈائمنسٹی ۸۵۰۰؍ ایکسٹریم آکٹا کور پروسیسر استعمال کیاگیاہے، جو۴؍نینو میٹر ٹیکنالوجی پرتیار کیا گیا ہے۔ اگرچہ ’ایکسٹریم‘ورژن نیا ہے، لیکن اس کی بنیادی چپ تقریباً۲؍ سال پرانی ہے اور گزشتہ چند برسوں میں متعدد فلیگ شپ فونز میں استعمال ہو چکی ہے۔روزمرہ استعمال میں فون انتہائی ہموار کارکردگی دکھاتا ہے۔ ایپس کھولنے، ملٹی ٹاسکنگ، ویب براؤزنگ اور گیمنگ کے دوران کہیں بھی سست روی محسوس نہیں ہوتی۔
کیمرہ:اس فون کی سب سے بڑی نئی خصوصیت ۵۰؍میگا پکسل کا پیری اسکوپ ٹیلی فوٹو کیمرہ ہے، جو۳؍گنا آپٹیکل زوم اور مصنوعی ذہانت(اے آئی)کی مدد سے ۵۰؍گنا ڈیجیٹل زوم فراہم کرتا ہے۔اس کے علاوہ فون میں ۵۰؍میگا پکسل کا سونی ایل وائی ٹی ۷۱۰؍مین کیمرہ اور ۵۰؍میگا پکسل کا الٹرا وائیڈ کیمرہ بھی موجود ہے، جو ۱۱۲؍ڈگری فیلڈ آف ویو فراہم کرتا ہے۔دن کی روشنی میں مین کیمرہ بہترین تصاویر لیتا ہے۔ ڈائنامک رینج متاثر کن ہے اور رنگ نہایت قدرتی دکھائی دیتے ہیں۔ پورٹریٹ موڈ میں ایج ڈیٹیکشن، پس منظر کو دھندلا کرنے کا معیار اور شیڈوز کی پروسیسنگ بھی عمدہ ہے، جس سے مجموعی فوٹوگرافی کا تجربہ خوشگوار رہتا ہے۔ کیمرہ فوری طور پر سبجیکٹ کو پہچان لیتا ہے اور اسے پس منظر سے الگ کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال پیٹرول پمپ پہنچے
بیٹری:اس فون کی سب سےکمزور کڑی اس کی بیٹری ثابت ہوتی ہے۔ اگرچہ اس میں ۶۵۰۰؍ایم اے ایچ کی بیٹری دی گئی ہے، لیکن عملی کارکردگی توقعات پر پوری نہیں اترتی۔جہاں بیٹری نسبتاً تیزی سےختم ہوتی ہے، وہیں چارجنگ کافی تیزہے۔ ۹۰؍واٹ فاسٹ چارجنگ کی بدولت فون تقریباً ۳۰؍منٹ میں صفر سے ۵۰؍ فیصدتک چارج ہو جاتا ہے، جبکہ ایک گھنٹے میں تقریباً ۸۴؍فیصد چارجنگ مکمل ہو جاتی ہے۔۱۰۰؍فیصدچارج ہونے میں تقریباً ۷۰؍ منٹ لگتے ہیں۔