بازار ،جھیل ،آبشار یہاںسب کچھ ہے، ٹورسٹ پوائنٹس پر تفریح کے کئی ذرائع ہیں،مسوری کا دل ’مال روڈ ‘سیاحوںکی پسندیدہ جگہ ہوتی ہے ۔
مسوری کے مال روڈ کی ہےجہاں سیاح وقت گزارنا پسند کرتے ہیں- تصویر:آئی این این
اگر آپ پہاڑی مقام کے سفر سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو پہاڑوں کی ملکہ ’مسوری‘ کے بارے میں ضرور جاننا چاہئے۔ اگر آپ اس چھوٹے سے پہاڑی اسٹیشن کے سفر کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو اس کی مختصر تاریخ وجغرافیہ اورموجودہ حالات کے بار ے میں جاننا آپ کیلئے سود مند رہے گا ۔ مسوری کی دریافت ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیفٹیننٹ فریڈرک ینگ نے رکھی تھی۔ فریڈرک اس پہاڑی پر شوٹنگ کیلئے آیا تھا۔ اسے یہ جگہ اتنی پسند آئی کہ اس نے وہاں ایک شوٹنگ باکس بنانے کا فیصلہ کیا ۔ اس جگہ کا نام لفظ ’منصور‘ سے ماخوذ ہے جو اس علاقے میں پائی جانے والی جھاڑی کوکہاجاتا ہے ۔ اسی سے بعد میں اس جگہ کا نام ’مسوری‘ پڑگیا۔۱۸۰۳ءمیں عمیرسنگھ تھاپا کے زیر اثر گورکھوں نے علاقے پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا اور مسوری کے علاقے کو اپنے علاقے میں شامل کر لیا۔ اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کا بھی بہت اثر تھا۔ دہرادون کو برطانوی فوجیوں نےچھٹیاںگزارنے کیلئے ایک مقام کے طورپر منتخب کیا تھا ۔بعد میں۱۸۲۷ء میں مسوری نے دہرادون کی جگہ لے لی اور یہ ایک مقبول انتخاب بن گیا۔
کہاں جانا ہے، کیا دیکھنا ہے؟
اتراکھنڈ کا یہ مشہور پہاڑی اسٹیشن ایک مقبول انتخاب ہے۔ آپ یہاں بہت سے سیاحتی مقامات اور بازاروں کی سیر کر سکتے ہیں۔ جتنا زیادہ آپ اس ہل اسٹیشن کو دیکھیں گے، آپ اس کی اتنی ہی تعریف کریں گے ۔ یہاں اس کے کچھ مشہور مقامات ہیں جن پر آپ کو ضرور جانا چاہئے۔
گن ہل:مسوری کے مشہور مقامات میں سے ایک’ گن ہل‘ ہے۔ گن ہل مسوری کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ مال روڈ سے۸۰۰؍ میٹر کی بلندی پر واقع گن ہل تک کیبل کار کے ذریعے رسائی ممکن ہے۔ روپ وے سے شاندار نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہاں سے آپ کو نہ صرف مسوری شہر بلکہ دور دراز کی خوبصورت پہاڑیاں بھی نظر آئیں گی۔ آپ یا تو روپ وے لے سکتے ہیں یا آدھے گھنٹے کا ٹریک لے سکتے ہیں۔گن ہل سے، آپ دوربین کے ذریعے ہمالیائی سلسلوں کو قریب دیکھ سکتے ہیں۔
لال ٹبہ :لال ٹِبہ مسوری کا سب سے اونچا مقام ہے جہاں ہمالیہ کی چوٹیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اس جگہ کو ڈپو ہل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ وہاں ایک ڈپو واقع ہے۔ لال ٹبہ مسوری کے لینڈورمیں واقع ہے۔ لال ٹبہ کا مطلب ہے سرخ پہاڑی۔ اس پہاڑی پر آل انڈیا ریڈیو، دوردرشن کے ٹاورز اور ایک فوجی چھاؤنی بھی واقع ہے۔ آس پاس کے علاقے کے شاندار نظاروں کے لیے ایک جاپانی ٹیلی اسکوپ۱۹۶۷ء سے موجود ہے۔لال ٹبہ کا دورہ کرتے وقت سردی سے بچاؤ کیلئے تمام ضروری سامان ساتھ لائیں۔ لینڈور میں کوئی ہوٹل نہیں ہے، لہٰذا اپنے قیام کا پہلے سے منصوبہ بنائیں۔ مشہور مصنف رسکن بانڈ کا گھر بھی یہیں ہے۔
مسوری لیک :اگر آپ مسوری جاتے ہیںتو آپ کومسوری کی جھیل ضرور دیکھنا چاہئے۔ آپ وہاں دوستوں اور کنبہ کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں۔ یہ جھیل مسوری کے مشہور مقامات میں سے ایک ہے۔ علاقے میں جھیل کی موجودگی اس کی خوبصورتی میں چارچاند لگادیتی ہے۔یہ جھیل کیمپٹی آبشار کے راستے پر ہے۔
اگر آپ کسی سے مسوری کی سب سے مشہور جگہ کے بارے میں پوچھیں تو جواب ملے گا کیمپٹی آبشار۔ کیمپٹی آبشار مسوری سے۱۷؍ کلومیٹر دور رامگاؤں میں واقع ہے ۔ یہ آبشار تقریباً۴۰؍ فٹ کی بلندی سے گرتی ہے اور پھر ۵؍ الگ الگ ندیوں میں بٹ جاتا ہے ۔کیمپٹی آبشار تک دن ہی دن میں پہنچنا اور دن ہی دن میں یہاں سے نکلنابہتر ہوتا ہے۔
مال روڈ:اگر آپ کسی علاقے کو مسوری کا دل کہیں تو وہ مال روڈ ہو گا۔ چہل پہل والا خوبصورت علاقہ ہے ۔ یہاں ایک طرف، آپ کو سڑک کنارے دکانیں نظر آئیں گی اور دوسری پہاڑ نظر آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاح اس جگہ کی سیر میںبڑی دلچسپی لیتے ہیں۔ لائبریری پوائنٹ سے پکچر گیلری تک یہ راستہ ۲؍کلومیٹر طویل ہے۔ ایک لمبا راستہ ہےجس سے گزرنا ایک مکمل تفریح ہوتا ہے۔
کیسے پہنچیں؟
بذریعہ سڑک: مسوری سڑک کے ذریعے اچھی طرح سے جڑا ہوا ہے۔ مسوری تک پہنچنے کیلئے آپ کو دہرادون کا سفر کرنا ہوگا۔ آپ دہرادون ریلوے اسٹیشن کے بالکل باہر مسوری کیلئے بس تلاش کر سکتے ہیں۔ مسوری تک بس کا کرایہ ۶۰؍روپے ہے۔
بذریعہ ٹرین: مسوری کا قریب ترین ریلوے اسٹیشن دہرادون ہے، جو تقریباً۳۲؍ کلومیٹر دور ہے۔ رشی کیش اور ہریدوار بھی قریب ہی ہیں۔ یہ تمام ریلوے جنکشن ملک کے بڑے شہروں سے اچھی طرح سے جڑے ہوئے ہیں۔