• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال کی جرأت، امریکہ، چین اور ہندوستان سے معاوضہ مانگا

Updated: September 02, 2026, 11:46 AM IST | Agency | Kathmandu

ان تینوں ممالک کو گرین ہائوس گیس کے اخراج ، گلوبل وارمنگ اور تباہ کن سیلاب کا ذمہ دار قرار دیا۔

Floods in Nepal have destroyed many houses. Picture: PTI
نیپال کے سیلاب نے کئی مکانات کو تباہ کردیا ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی

نیپال نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے یہاں آنے والے اچانک سیلاب کیلئےگرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرنے والے ۳؍ بڑے ممالک، امریکہ، چین اور  ہندوستان سے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نےکہا کہ نیپال کا اپنا گرین ہاؤس گیس اخراج ’’عملی طور پر نہ ہونے کے برابر‘‘ ہے اس کے باوجود وہ ایسے ماحولیاتی بحران کا خمیازہ بھگت رہا ہے جسے پیدا کرنے میں اس کا کردار انتہائی معمولی ہے۔ مقامی ٹیلی ویژن چینل کو د ئیے گئے ایک انٹرویو میں شیشیر کھنال نے کہا کہ نیپال نے اب اپنی سفارتی حکمت عملی کو ’’امداد‘‘ سے ’’انصاف اور معاوضے‘‘ کی جانب منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سمندر کی سطح بلند ہونے سے ممبئی اور کولکاتا کے لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں: اقوام متحدہ

ان کے بقول، ’’یہ خیرات کا معاملہ نہیں بلکہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔نیپالی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین دنیا میں سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتا ہے، دوسرے نمبر پر امریکہ اور تیسرے نمبر پر  ہندوستان ہے۔ بڑے  پیمانے پر صنعتی اخراج کرنے والے ان ممالک کی تاریخی اور اخلاقی  ذمہ داری ہے کہ وہ نیپال جیسے کمزور ملک کو معاوضہ دیں۔

واضح رہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے اعتبار سے چین سب سے آگے ہے۔ عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج میں اس کا حصہ تقریباً ۳۳؍فیصد ہے۔ امریکہ دوسرے نمبر پر ہے، اس کا سالانہ اخراج تقریباً ۱۵؍ فیصد ہے جبکہ ہندوستان کا حصہ تقریباً۸؍ فیصد ہے۔

نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ بھی عالمی برادری کے سامنے ماحولیاتی معاوضے کا معاملہ زیادہ شدت اور مضبوطی کے ساتھ اٹھانے کی وکالت کرچکے ہیں۔ حکومت اب اس معاملے کو اقوام متحدہ تک لے جانے پر بھی غور کر رہی ہے۔شیشیر کھنال نے بتایا کہ اس سلسلے میں وزارت خزانہ نے نیپال کے بین الاقوامی شراکت داروں کو باضابطہ طور پر ماحولیاتی معاوضے کے مطالبے پر مبنی خط بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے ہر بین الاقوامی فورم پر نیپال یہ معاملہ پوری مضبوطی اور وضاحت کے ساتھ اٹھائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ تہذیبی بقا کا معاملہ ہے۔ اگر ہمالیائی گلیشیر ختم ہوگئے تو جنوبی ایشیا کے دو ارب سے زیادہ لوگوں کی آبی سلامتی مستقل طور پر متاثر ہوگی، کیونکہ یہ آبادی گنگا اور تریشولی جیسے دریاؤں پر منحصر ہے۔ ہم صرف نیپال کے لیے نہیں بلکہ جنوبی ایشیائی تہذیب کی بقا کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔نیپال اب اس پیغام کو براہ راست اقوام متحدہ تک پہنچانے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔ حکام اس بات پر غور کررہے ہیں کہ آیا وزیر اعظم بالین شاہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنی چا ہئے یا نہیں۔ اگر  بالین شاہ جنرل اسمبلی میں شرکت کرتے ہیں تو امکان ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں نیپال کو درپیش مشکلات، حالیہ سیلاب اور ہمالیائی خطے کو لاحق خطرات کو عالمی سطح پر اجاگر کریں گے اور موسمیاتی انصاف کا مطالبہ کریں گے۔نیپال کی کابینہ پہلے ہی فیصلہ کرچکی ہے کہ وزیر خارجہ شیشیر کھنال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ تاہم حکام اس بات پر غور کررہے ہیں کہ وزیر اعظم کو بھی اس موقع پر نیویارک کا سفر کرنا چا ہئےکیونکہ ان کا ذاتی طور پر یہ معاملہ عالمی فورم پر اٹھانا سیاسی طور پر زیادہ اہم ہو گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK