• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سمندر کی سطح بلند ہونے سے ممبئی اور کولکاتا کے لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں: اقوام متحدہ

Updated: September 02, 2026, 11:10 AM IST | Agency | New York

اقوام متحدہ کی ڈپٹی سکریٹری جنرل امینہ محمد نے رپورٹ جاری کی، ۲۰۲۴ء میں نوٹ کیا گیا سالانہ اضافہ اب تک ۶؍ ملی میٹر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔

UN Deputy Secretary-General Amina Mohammed. Picture: INN
اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل امینہ محمد۔ تصویر: آئی این این

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس کی ایک رپورٹ میں وارننگ دی گئی ہے کہ سمندر کی سطح بلند ہونے سے کولکاتا اور ممبئی میں رہائش پذیر لاکھوں افراد بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔  اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل امینہ محمد کی جانب سے جاری  رپورٹ میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سمندر کی سطح بلند ہونے کے اثرات کے حوالے سے کئی سنگین انتباہات جاری  کئے گئے ہیں۔ گلوبل وارمنگ سے گلیشیر اور برف کی تہیں پگھلتی ہیں اور پانی گرم ہوتا ہے، جس سے املاک، لوگوں اور یہاں تک کہ ثقافتوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔پیسیفک آئی لینڈس فورم لیڈرس کی ۵۵؍ویں میٹنگ میں اقوام متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل امینہ محمد نے جو رپورٹ جاری کی اس کے مطابق ۲۰۲۴ءمیں سمندر کی سطح میں سالانہ اضافہ نوٹ کیا گیا تھا جو  اب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ۔ یہ اضافہ تقریباً ۶؍ ملی میٹر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جنگ کے سبب اسکولی اشیاء کے حصول میں پریشانی کی عجیب منطق!

سمندر کی سطح بلند ہونے سے کئی جزائر بڑی حد تک ڈوب سکتے ہیں۔ یہ میٹنگ اسی سنگین خطرے کا انکشاف کر رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے نشیبی ڈیلٹا علاقوں اور ہندوستان کے کولکاتا اور ممبئی اور بنگلہ دیش کے ڈھاکہ جیسے شہروں میں سب سے بڑا اثر لوگوں کی نقل مکانی کی صورت میں نظر آ رہا ہے۔ یہاں ۱ء۴؍ کروڑ سے زیادہ لوگوں کے گھر ہمیشہ کیلئے پانی میں ڈوبنے کا خطرہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’جی ڈی پی کے اعدادوشمار زمینی حقائق سے کوسوں دور ہیں‘‘

رپورٹ میں اس خوفناک صورت حال کے پیش آنے کے لئے کوئی مقررہ مدت طے نہیں کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح ایک چیلنج پیش کرتی ہےکیونکہ ان علاقوں میں لوگ اپنے ساحلی علاقے کھو رہے ہیں۔ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کا اثر صرف ساحلی علاقوں تک محدود نہیں ہے کیونکہ اس کا اثر صحت، غذائی تحفظ، انسانی حقوق اور ثقافت پر پڑیگا۔ آپ اپنی آبائی زمین اور اپنی شناخت کھو دیں گے۔ اس  لئے حکومتوں کو اس مسئلے کو اپنی منصوبہ بندی  کا حصہ بنانےکیلئے بہت وسیع نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ہفتہ نیپال-تبت سرحد پر ہمالیہ سے گلیشیر کے ٹوٹنے اور نیچے گرنے سے پانی اور کیچڑ کا سیلاب آیا، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے اور کئی علاقے تباہ ہو گئے۔  رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگلے ۱۵؍ سے ۲۰؍سال میں جنوبی ایشیا کیلئے گلیشیرس کے پگھلنے سے سیلاب کا خطرہ ہے۔ اس کے بعد خشک سالی  بڑھ سکتی ہےجس سے فصلیں اور غذائی تحفظ متاثر ہو سکتا ہے اور بڑے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ۷۷؍کروڑ افراد خطرے میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK