ہالی ووڈ کے مشہور سوپر ہیرو کردار اسپائیڈر مین کو نئے کی جگہ پرانے دور میں دکھایا گیا ہے، مشہور اداکار نکولس کیج کی شاندار اداکاری دیکھنے لائق ہے۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 10:18 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
ہالی ووڈ کے مشہور سوپر ہیرو کردار اسپائیڈر مین کو نئے کی جگہ پرانے دور میں دکھایا گیا ہے، مشہور اداکار نکولس کیج کی شاندار اداکاری دیکھنے لائق ہے۔
سپائیڈر نوائر (Spider-Noir)
*اسٹریمنگ ایپ: پرائم ویڈیوز(۸؍ایپی سوڈ)
*اسٹار کاسٹ: نکولس کیج، لیمورن مورس، لی جون لی، جیک ہسٹن، ابراہم پوپولا، کرین روڈرگز، برینڈن گلیسن
*ڈائریکٹر: ہیری بریڈبیر،الیتھا جونز،زنگا اسٹیوارٹ
*رائٹر: جنیفر فرازن،جیک ہینڈرسن،میگن لیائو،اورین ازیل
*پروڈیوسر: کیری ہوبسن،اینی کورٹ
*موسیقی: کرس بوور،مائیکل ڈین پارسن
*سنیماٹو گرافر: ڈیرن ٹیئرنن،پیٹر ڈیمنگ
*ایڈیٹر: جینیفر باربوٹ، گیرائوڈ بریسن،ٹیرسا ہیک شا
*ریٹنگ: ****
یہ بھی پڑھئے: انسپکٹر اویناش ۲: یوپی کے پس منظر میں جرائم پر مبنی ایک اور ویب سیریز
ہالی ووڈ میں سپر ہیروز کی کہانیوں نے کئی دہائیوں تک حکمرانی کی ہے۔ بیٹ مین، سپرمین، اسپائیڈر مین، کیپٹن امریکہ، آئرن مین، تھور، ونڈر وومن، ہلک اور بلیک پینتھر جیسے کردار نہ صرف مغربی دنیا بلکہ ہندوستانی ناظرین میں بھی بے حد مقبول رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ان سپر ہیروز کی چمک کسی حد تک ماند پڑنے لگی ہے۔ البتہ بیٹ مین اور اسپائیڈر مین اس رجحان سے مستثنیٰ ثابت ہوئےہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انہیں ہر دور میں نئے انداز، نئی سوچ اور نئی دنیا کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا ہے۔اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی کے طور پر ہدایت کار ہیری بریڈبیر نے ویب سیریز اسپائیڈر-نوائر کے ذریعے نکولس کیج کو مرکز میں رکھتے ہوئے ایک دلچسپ متوازی کائنات تخلیق کی ہے۔ اس سیریز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ناظرین کو ۱۹۳۰ءکی دہائی کی ایک تاریک، پراسرار اور جرائم سے بھری دنیا میں لے جاتی ہے، جہاں بدعنوانی، جرائم اور سائنسی تجربات مل کر کہانی کو مزید سنسنی خیز، گہرا اور تہہ دار بنا دیتے ہیں۔ یہ سیریز ایک اور اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ اسے رنگین ورژن کے ساتھ ساتھ بلیک اینڈ وائٹ انداز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
کہانی
یہ سیریز مارول کامکس کے کردار اسپائیڈر مین نوائر پر مبنی ہے۔ کہانی بین ریلی (نکولس کیج) نامی ایک ٹوٹے ہوئے اور مایوس ادھیڑ عمرجاسوس کی ہے، جو اپنی بیوی روبی (امانڈا شول) کی موت کے صدمے سے آج تک باہر نہیں نکل پایا۔ایک زمانے میں وہ نقاب پوش اسپائیڈر بن کر جرائم کے خلاف لڑا کرتا تھا، لیکن اب اس کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی سیکریٹری کی تنخواہ تک ادا نہیں کر پاتا۔۵؍ برس قبل وہ اپنی سپر ہیرو شناخت کو ترک کر چکا ہے۔کہانی اس وقت نیا رخ اختیار کرتی ہے جب ایڈیسن نامی ایک شخص نیویارک کے خوفناک مافیا سرغنہ سلورمین (برینڈن گلیسن) کے گھر کو آگ لگا دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایڈیسن کےپاس بھی غیر معمولی طاقتیں موجود ہیں۔ بین کاصحافی دوست روبی رابرٹسن (لیمورن مورس) چاہتا ہے کہ وہ دوبارہ اسپائیڈر کا روپ دھار کر شہر کو بچائے، لیکن بین اب جرائم اور انصاف دونوں سے دور رہنا چاہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں نے جنگی قیدیوں پر خطرناک تجربات کیے تھے اور انہی تجربات کے نتیجے میں یہ میوٹنٹس وجود میں آئے۔ خود بین ریلی بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اب سلورمین ان میوٹنٹس کو اپنے جرائم پیشہ گروہ میں شامل کرکے نیویارک پر اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا بین ریلی اس کا مہرہ بن جائے گا یا ایک بار پھر اسپائیڈر کا نقاب پہن کر شہر کا محافظ بنے گا؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے سیریز دیکھنا ضروری ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: سیٹاڈل ۲: پرینکا چوپڑا کی ویب سیریز کا دوسرا اور قدرے بہتر سیزن
ہدایت کاری
ہدایت کار ہیری بریڈبیرکی اس سیریز کی سب سے بڑی خوبی اس کا ۱۹۳۰ءکی دہائی پر مبنی پس منظر ہے، جسے انہوں نے نہایت دلکش اورپراسرار انداز میں پردۂ سیمیں پر پیش کیا ہے۔ معاشی کساد بازاری کا دور، اندھیری گلیاں، مسلسل برستی بارش، سگریٹ کے دھوئیں سے بھرے کمرے اور کلاسیکی جاسوسی فلموں جیسا ماحول ناظرین کو ابتدا سے اختتام تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتا ہے۔
اداکاری
اداکاری کے اعتبار سے نکولس کیج پوری سیریز کا سب سے مضبوط ستون ہیں۔ان کا کردار خاصا غیر روایتی ہے۔ ایک لمحے میں وہ خوفزدہ دکھائی دیتا ہے اور اگلے ہی لمحے بے مثال جرات کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ نہ تو اپنا مذاق اڑائے جانے سے گھبراتا ہے اور نہ ہی شکست یا مار کھانے سے۔نکولس کیج نے بین ریلی کے کردار کو انتہائی مہارت سے نبھایا ہے۔دیگر فنکاروں نے بھی عمدہ اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ سیکریٹری کے کردار میں کیرن روڈریگز مزاح کے لمحات پیدا کرتی ہیں، جبکہ صحافی روبی رابرٹسن کے روپ میں لیمورن مورس بھرپور تفریح فراہم کرتے ہیں۔ ولن سلورمین کے کردار میں برینڈن گلیسن نہایت مضبوط تاثر چھوڑتے ہیں۔کیٹ ہارڈی کے کردار میں لی جون لی نے خوبصورتی اور اداکاری دونوں کا بہترین امتزاج پیش کیا ہے۔دیگر اداکاروں نے بھی اپنے کرداروں کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لُکھّے: ریپ کلچر، منشیات اور جرائم کی دنیا کی جھلک پیش کرنے والی کہانی
نتیجہ
اگر آپ روایتی سپر ہیرو کہانیوں سے ہٹ کر ایک مختلف، تاریک اور جاسوسی رنگ لیے ہوئے سپر ہیرو سیریز دیکھنا چاہتے ہیں، اور ساتھ ہی نکولس کیج اور دیگر اداکاروں کی مضبوط اداکاری سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو اسپائیڈر-نوائر ایک عمدہ انتخاب ثابت ہو سکتی ہے۔