قانون ساز اسمبلی میں کانگریس کے گروپ لیڈر وجئے وڈیٹیوار کا سنگین الزام، کہا کہ جب بی ایل او گھر گھر نہیں گئے تو ووٹرز کے منتقل ہونے کا پتہ کیسے چلا؟
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 1:22 PM IST | Inquilab News Network | Nagpur
قانون ساز اسمبلی میں کانگریس کے گروپ لیڈر وجئے وڈیٹیوار کا سنگین الزام، کہا کہ جب بی ایل او گھر گھر نہیں گئے تو ووٹرز کے منتقل ہونے کا پتہ کیسے چلا؟
مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں کانگریس کے گروپ لیڈر وجئے وڈیٹیوار نےایس آئی آر کے متعلق جمعہ کو ناگپور میں ایک اہم پریس کانفرنس کی۔ جس میں انہوںنے مہاراشٹر میں ایس آئی آر ۲۰۲۶ءکے عمل میں ووٹروں کے ناموں سے متعلق اٹھائے گئے مسائل پر سنگین سوالات قائم کئے۔
وجئے وڈیٹیوار نے الزام لگایا ہےکہ مہاراشٹر میں اپوزیشن کے ووٹوں کو ایس آئی آر کے نام پر نکالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات سے ایسی شکایات ملی ہیںکہ بی ایل او گھر گھر نہیں گئے تو پھر انہیں کیسے پتہ چلاکہ کوئی ووٹر نقل مکانی کر چکے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ بوتھ کی سطح پر ان ووٹروں کی جانچ کریں جن کے نام ووٹروں لسٹ سے خارج کئے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:پونے میں بچوں پر’ایچ ایف ایم ڈی‘کا خطرہ منڈلا رہا،۲؍سے۷؍سال کے بچوں کیلئے احتیاط ضروری
جب گھر کا دورہ نہیں کیا گیا تونقل مکانی کی نشاندہی کیسی کی گئی؟
کانگریس لیڈر وجئے وڈیٹیوار نے کہا کہ جن اسمبلی حلقو ںمیں اپوزیشن کا ووٹ بینک ہے ان علاقوں سے ایسی شکایتیں موصول ہوئی ہیں کہ بی ایل او نے گھر گھر جاکر دورہ نہیں کیا ہے ۔ انہوںنے سوال کیاکہ جب بی ایل او گھر پر پہنچے ہی نہیںتو پھر انہیں کیسے پتہ چلاکہ ووٹر نقل مکانی کر چکے ہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن کو بوتھ کی سطح پر ان ووٹروں کے نام کی فہرست جاری کرنا چاہئے جن کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے گئے ہیں یاحذف کئے جائیں گے ۔
وجئے وڈیٹیوار نے یہ الزامات لگائے
ناگپور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوںسے بات چیت کرتے ہوئے، وجے وڈیٹیوار نے الیکشن کمیشن آف انڈیا( ای سی آئی) کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ حکمراں جماعت کے زیر اثر کام کر رہا ہے۔ ان کے اہم دعوے درج ذیل ہیں:
اقلیتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ناموں کو خارج کیا گیا : انہوں نے دعویٰ کیا کہ اقلیتوں اور پسماندہ جماعت اور قبائلوںکی اکثریت والے۳۷؍ تا ۳۸؍ انتخابی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد میں ۲۹ء۷۷؍ فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں کے ڈبہ بند دُودھ پر گمراہ کن دعویٰ، نیسلے کیخلاف کارروائی
۲؍ کروڑ ۶۶؍ لاکھ سے زائد بے ضابطگیاں: وجئے وڈیٹیوار نے زور دے کر کہا کہ پوری ریاست میں۲؍ کروڑ ۶۶؍ لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے ریکارڈ انتہائی مشکوک ہیں۔
ایس آئی آر میں ۷۶؍ لاکھ ۷۶؍ ہزار ووٹروں کو ’منتقل شدہ‘ قرار دیا گیا۔
۷۵؍ لاکھ ۴۱؍ ہزار لاکھ ووٹروں کو ’غیر حاضر‘ کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
n ۶۲؍لاکھ ۴۸؍ہزار اندراجات کو ’بے ضابطگیوں‘‘کے بہانے نشان زد کیا گیا۔
الیکشن کمیشن کا ردعمل
وجئے وڈیٹیوار کی پریس کانفرنس کے بعد الیکشن کمیشن نے فوری طور پر وضاحت جاری کی اور جانبداری کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ ووٹر فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنے اور نام خارج کرنے کا عمل سخت قانونی تصدیقی طریقہ کار کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ ای سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ڈپلیکیٹ اندراجات، غیر مقیم اور فوت شدہ ووٹروں کے ناموں کو منظم طریقے سے ہٹانے کیلئے معمول کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔