• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس میں پارلیمانی انتخابات کا آغاز ، یوکرین جنگ کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات

Updated: September 19, 2026, 1:02 PM IST | Agency | Moscow

اتوار تک جاری رہنے والے انتخابات میںصدر ولادیمیر پوتن کی حمایت کرنے والی حکمراں جماعت یونائیٹڈ رشیا سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں اپنی غالب حیثیت برقرار رکھے گی۔

A woman is casting her vote in Vladivostok. Photo: AP/PTI
ولادی وستوک میں ایک خاتون ووٹ دے رہی ہے۔ تصویر: اےپی/پی ٹی آئی

روس میں جمعہ سے اتوار تک اسٹیٹ ڈوما، یعنی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے اراکین کے انتخاب کے لئے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ یہ۲۰۲۲ءمیں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے آغاز کے بعد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب روسی شہری سست پڑتی معیشت کے ساتھ ساتھ یوکرین کی جانب سے فرنٹ لائن سے دور ریفائنریوں اور گوداموں پر کئے جانے والے ڈرون حملوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔صدر ولادیمیر پوتن کی حمایت کرنے والی حکمراں جماعت یونائیٹڈ رشیا سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں اپنی غالب حیثیت برقرار رکھے گی۔

حکام انتخابات کو عوام کے لئے اپنی رائے کے اظہار کا موقع قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ بیلٹ پر حقیقی اپوزیشن کی عدم موجودگی کے باعث نتائج بڑی حد تک پہلے ہی طے شدہ ہیں۔تو پھر یہ انتخابات توجہ کے قابل کیوں ہیں؟ جمعہ سے شروع ہو کر اتوار تک جاری رہنے والی ووٹنگ میں روسی شہری ایوان زیریں یعنی اسٹیٹ ڈوما کے اراکین کا انتخاب کریں گے۔ اس کے ساتھ مقامی انتخابات کے لئے بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ۱۱؍ خطوں میں گورنروں جبکہ ۳۹؍خطوں میں علاقائی قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین کا انتخاب ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار نبھانے سے انکار

ووٹنگ ۳؍ دن تک جاری رہے گی تاکہ اہل ووٹروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنائی جا سکے۔ اس میں یوکرین کے وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر روس کا قبضہ ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ ڈوما کی۴۵۰؍ نشستوں میں سے نصف پارٹی فہرستوں کے ذریعے اور باقی نصف واحد حلقوں میں براہ راست مقابلوں کے ذریعے پُر کی جاتی ہیں۔ واضح رہےکہ روس کی حکمراں جماعت یونائیٹڈ رشیا ۲۰۰۱ء میں کریملن نواز جماعتوں کے انضمام سے قائم ہوئی تھی۔ اس نے پوتن کی حمایت کی ہے اور اس کے بعد سے پارلیمنٹ میں اس کا غلبہ برقرار ہے۔

۲۰۲۱ء کے انتخابات میں یونائیٹڈ رشیا نے ڈوما کی دو تہائی سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں اور اس بار بھی اس کے ایوان پر غالب رہنے کی توقع ہے۔جماعت کی فہرست میں اہم سیاسی شخصیات شامل ہیں جن میں گزشتہ۲۲؍ برس سے روس کے اعلیٰ ترین سفارت کار کی حیثیت رکھنے والے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ماسکو کے طاقتور میئر سرگئی سوبیانین شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:خیبر پختونخوا: پولیس مرکز کے قریب مسجد میں کار بم دھماکہ،۱۵؍ سے زائد ہلاک

بیوروکریٹس کی جماعت کے طور پر دیکھی جانے والی یونائیٹڈ رشیا میں نئے چہروں کو شامل کرنے کی کوشش کے تحت اس کے تیسرے نمبر کے لیڈر جنگی نامہ نگار یوجینی پودوبنی ہیں جو یوکرین کے ڈرون حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ یونائیٹڈ رشیا کے اراکین نے یوکرین میں جنگی کوششوں اور پوتن کے زیادہ سے زیادہ اہداف کی حمایت کا عہد کیا ہے۔ کریملن اس جنگ کو ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دیتا ہے۔

یونائیٹڈ رشیا کے ساتھ دیگراپوزیشن جماعتوں کے بھی پارلیمنٹ میں برقرار رہنے کی توقع ہے۔ یہ جماعتیں اہم معاملات پر عموماً حکومت کے ساتھ ووٹ دیتی ہیں۔لبرل یابلکو پارٹی روس میں جنگ کی مخالفت کرنے والی واحد رجسٹرڈ سیاسی جماعت تھی، ابتدائی طور پر بیلٹ پر موجود تھی لیکن سپریم کورٹ نے اگست میں اسے ہٹانے کا حکم دے دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK