این سی پی کے بانی شردپوار کا وزیراعلی دیویندر فرنویس کومطالباتی مکتوب۔کسانوں کے لئے فصل بیمہ، چارا کیمپ سمیت۹؍اہم مطالبات پیش کئے۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 1:25 PM IST | Agency | Mumbai
این سی پی کے بانی شردپوار کا وزیراعلی دیویندر فرنویس کومطالباتی مکتوب۔کسانوں کے لئے فصل بیمہ، چارا کیمپ سمیت۹؍اہم مطالبات پیش کئے۔
ریاست میں بارش کی کمی اور اس سے پیداشدہ صورتحال کے باعث زراعت، پینے کے پانی اور چارے کا سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسی پس منظر میں این سی پی کے بانی شرد پوار نے وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کو خط لکھ کر ریاست کی سنگین صورتحال کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے۔
انہوں نے کہاہے کہ امسال بیشتر علاقوں میں اطمینان بخش بارش نہیں ہوئی ہے، جس کے باعث کسانوں کے ساتھ ساتھ زرعی مزدور اور دیہی عوام بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ سویا بین، کپاس، باجرہ، مکئی، تور، مونگ اور اُرد جیسی کھڑی فصلیں بڑی حد تک سوکھ گئی ہیں، جبکہ فصلوں پر کیڑے اور بیماریوں کا حملہ بھی بڑھ گیا ہے۔ شرد پوار نے اپنے خط کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی رسمی معیار یا ضابطے کا انتظار کیے بغیر ریاست میں فوری طور پر قحط کا اعلان کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے:یمن: حوثیوں اور اتحادی افواج میں شدید لڑائی، ۲۴؍ گھنٹوں میں ۶۸؍ افراد ہلاک
انہوں نے۹؍ اہم مطالبات حکومت کے سامنے رکھے اورمطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر مثبت اقدامات کرے۔
۹؍ مطالبات کیا ہیں؟
(۱)ریاست کی سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے رسمی معیار کا انتظار کئے بغیر فوری طور پر قحط کا اعلان کیا جائےاور قحط سے متعلق رعایتیں نافذ کی جائیں۔
(۲) کسانوں کو فی ہیکٹر۵۰؍ ہزار روپےمالی امداد دی جائے۔ اسکے علاوہ زرعی مزدور خاندانوں کو بھی۲۵؍ ہزار روپے فی خاندان امداد دی جائے۔
(۳) مالی بحران سے دوچار کسانوں کو راحت دینے کیلئے قرض معافی اسکیم فوری طور پر نافذ کی جائے اور انہیں فصل قرض فراہم کیا جائے۔ باقاعدگی سے قرض واپس کرنیوالے کسانوں کیلئے سبسڈی۵۰؍ ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کی جائے۔ اسکے علاوہ ۲۶۔۲۰۲۵ءمیں فصل قرض لینے والے اور رواں سال قرض کی ادائیگی کے نادہندہ کسانوں کو بھی قرض معافی اسکیم میں شامل کیا جائے۔
(۴) ایک روپے والی فصل بیمہ اسکیم کو پچھلی تاریخ سے نافذ کیا جائے۔
(۵) خشک سالی جیسی صورتحال سے متاثرہ تعلقوں میں روزگار ضمانت اسکیم کے ذریعے خصوصی منصوبے شروع کیے جائیں۔
(۶) جن گاؤں میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے، وہاںسرکاری ٹینکرز شروع کیے جائیں۔
تمام متاثرہ علاقوں میں طلب کے مطابق فوری طور پر چارا کیمپ شروع کیے جائیں۔ مویشیوں کے لیے پینے کا پانی اور ضروری یٹرنری خدمات بھی فراہم کی جائیں۔
(۷) خشک سالی کے دوران لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بڑھ رہا ہے۔ اس لیے بجلی کے ٹرانسفارمرز کی مرمت کا کام وقت پر مکمل کرانے کے لیے محکمہ توانائی کے ذریعے خصوصی مہم چلائی جائے۔
(۸) ہر ضلع میں بارش، فصلوں کی صورتحال، پانی کی قلت، چارے کی دستیابی اور مویشیوں کی صورتحال پر روزانہ نگرانی رکھنے کے لیے ریاستی اور ضلعی سطح پر کنٹرول روم قائم کیے جائیں۔
(۹) خشک سالی جیسی صورتحال سے متاثرہ تعلقوں میں اسکول، کالج اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ کی مکمل تعلیمی فیس معاف کرنے کا فیصلہ فوری طور پر کیا جائے۔