ملک کی شہری ہوابازی کے موثر نگرانی اور حفاظتی میکانزم میں گہرے نقائص موجود ہیں،اجیت پوار کے ہوائی حادثے نے ایک مرتبہ پھر اس سیکٹر کی ناقص کارکردگی کی طرف دھیان کھینچ لیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 5:00 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai
ملک کی شہری ہوابازی کے موثر نگرانی اور حفاظتی میکانزم میں گہرے نقائص موجود ہیں،اجیت پوار کے ہوائی حادثے نے ایک مرتبہ پھر اس سیکٹر کی ناقص کارکردگی کی طرف دھیان کھینچ لیا ہے۔
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور قدآور سیاسی لیڈر اجیت پوار کی ہوائی حادثے میں موت نے ایک مرتبہ پھر ملک کے شہری ہوابازی کے سیکٹر کی ناقص کارکردگی کی طرف سبھی کا دھیان کھینچ لیا ہے۔ اس سیکٹر نے حالیہ برسوں میں کئی چیلنجز اور سنگین بحرانوں کا سامنا کیا ہے۔ ٹیکنالوجی، نگرانی اور حفاظتی نظام میں کمزوریاں مسلسل مسائل کو جنم دے رہی ہیں جبکہ حکومت کی غیرموثر نگرانی اور ناقص پالیسیوں نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ان مسائل نے نہ صرف عام ہوائی مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے بلکہ ملک کی معیشت، بین الاقوامی عزت اور عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ملک کے ایوی ایشن سیکٹر کے سب سے سنگین اور تباہ کن سانحات میں سے ایک ایئر انڈیا فلائٹ ۱۷۱؍ کا حادثہ تھا، جوگزشتہ سال جون میں پیش آیا تھا ۔ یہ فلائٹ احمد آباد سے لندن جارہی تھی اور ٹیک آف کے چند سیکنڈ بعد گر کر تباہ ہوگئی جس میں ۲۴۱؍ مسافر اور عملے کے اراکین سمیت کم از کم ۲۶۰؍ افراد ہلاک ہو گئے ۔تفتیشی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ انجن کے فیول کنٹرول سوئچ میں نقائص کی وجہ سے دونوں انجن بند ہو گئے تھے، جس سے طیارہ اپنی رفتار اور پرواز کھو بیٹھا اور خطرناک حادثہ کا شکار ہو گیا۔ اس رپورٹ نے ہندوستان کے ایوی ایشن سیکوریٹی میکانزم کی خامیوں کو بے نقاب کیا اور سوالات اٹھائے کہ یہ حادثہ تکنیکی خرابی تھا یا انسانی و نظم و نسق کی ناکامی ۔یہ حادثہ نہ صرف بھارت کی شہری ہوابازی کی تاریخ میں سب سے بڑے سانحات میں سے ایک ہے بلکہ حکومتی اداروں اور متعلقہ نگراں ایجنسیوں کی فعالیت پر سوال بھی قائم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نصاب کے ذریعے معصوم ذہنوں پر فرقہ پرستی کی کاشت کاری : ہم کتنے تیار ہیں؟
اسی درمیان انڈیگو ایئر لائنز کی جانب سے پیدا کردہ عارضی بحران بھی سبھی کو یاد ہو گا۔ اس کی وجہ سے بھی ملک کے ایوی ایشن سیکٹر کی قلعی پوری دنیا کے سامنے کھل گئی تھی ۔ انڈیگو بحران نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی بھی سیکٹر میں ’اجارہ داری ‘ کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی تو یہی حال ہو گا۔ دسمبر میں عین تعطیلات شروع ہونے سے قبل انڈیگو نے جو حرکت کی اس کی وجہ سے اس ایئر لائن کی ساکھ تو دائو پر لگی ہی ساتھ ہی حکومت ہند پربھی سوال اٹھنے لگے کہ آخر وہ اب تک کیا کر رہی تھی ۔
چند روز قبل ملک کا ایوی ایشن سیکٹر ایک مرتبہ پھر ایک اور بُری خبرسے دہل گیا۔ مہاراشٹرکے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار چار دیگر افراد کے ساتھ بارامتی کے قریب ایک طیارہ حادثے میں فوت ہو گئے ۔ یہ حادثہ بارامتی ایئر اسٹرپ کے قریب پیش آیا، جہاں لیئر جیٹ چارٹر طیارہ لینڈنگ کی کوشش کے دوران کنٹرول کھو بیٹھا اور حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے کی ابتدائی تفتیش میں بتایا گیا کہ طیارہ کی ابتدائی لینڈنگ میں پائلٹ کو رَن وے نظر نہیں آرہا تھا ۔ اس کے بعد اس نے دوسری کوشش کی لیکن حادثہ کا شکار ہو گیا۔ یہ سانحہ نے نہ صرف ایک اعلیٰ سیاسی شخصیت کی موت کا سبب بنا بلکہ ایوی ایشن سیکٹر میں نئی بحثیں شروع ہو گئیں کہ چھوٹے ہوائی اڈوں پر حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں اور یہاں فلائٹس اترنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ یہ سانحہ ملک کی سیاسی اور عوامی زندگی پر شدید اثرات چھوڑ گیا کیوں کہ اجیت پوار ایک عوامی لیڈر تھے اور ان کے حامیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اس حادثے نے شہری ہوابازی کے شعبے میںسہولیات، ایمرجنسی رِسپانس اور ہوائی اڈوں پر ایئر ٹریفک کنٹرول کے نظام کی غیر یقینی صورتحال کو بھی بے نقاب کردیا۔ اجیت پوار کے حادثے نے ملک کے ایوی ایشن سیکٹر پر کئی سنگین سوال کھڑے کردئیے ہیں جن کے جواب دینا حکومت کے لئے بہت مشکل ہو گا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسے ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے پڑیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:بین المذاہب ہم آہنگی، برادران وطن سے مکالمہ اور مزید بہتری کے امکانات
یہ واضح ہو چکا ہے کہ ملک کی شہری ہوابازی کے مؤثر نگرانی اور حفاظتی میکانزم میں گہرے نقائص موجود ہیں۔ ڈی جی سی اے (ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن) جو کہ فضائی تحفظ کے لئے مرکزی نگراں ادارہ ہےکو، ماہر عملے کی کمی، حفاظتی آڈٹس کی ناقص تعداد اور چھوٹے ہوائی اڈوں پر بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ کئی ایوی ایشن ماہرین نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ چھوٹے ہوائی اڈوں پر آئی ایل ایس(انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم)جیسی جدید لینڈنگ سہولیات کا فقدان ہے، جس سے خراب موسم میں لینڈنگ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ساتھ ہی ماسٹر پلانز اور حفاظتی قواعد پوری طرح مؤثر نہیں ہو رہے جس کی وجہ سے پائلٹوں، ایئر ٹریفک کنٹرول عملے اور طیارہ چلانے والی کمپنیوں کی کارکردگی میں کوآرڈی نیشن کی بھی خامیاںسامنے آئیں۔ہم آئے دن طیارہ کی لینڈنگ میں مسائل، رن وے پر پھسل جانے، کبھی پرواز کے دوران کوئی تکنیکی خرابی آجانے یا پھر دیگر کوئی مسئلہ درپیش ہونے کی خبریں پڑھتے ہی رہتے ہیں لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ نہ متعلقہ وزارت کی جانب سے اور نہ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی سخت قدم اٹھایا جاتا ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورا ایوی ایشن سیکٹر ہی رام بھروسے چل رہا ہے۔ ایوی ایشن سیکٹر میں زیادہ تر حادثات انسانی غلطیوں کی وجہ سے بھی رونما ہوتے ہیں۔ پائلٹوں کی تربیت، بے انتہا فلائٹنگ گھنٹے اور مناسب سیمیولیشن ٹریننگ کا فقدان ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی سانحہ کے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں۔ اسی طرح چھوٹے اور نجی آپریٹرز کے عملے کی ناقص تربیت اور غیریقینی آپریشنل پریکٹس بھی بڑی وجہ بنتی ہیں کہ جب حالات غیر متوقع طور بدلیں تو پائلٹ بے بس ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’اوس‘ کی وجہ سے صبح ہوتے ہوتے چار پائی اکڑ جاتی اور ایک طرف اُونچی اُٹھ جاتی تھی
ان سانحات کے بعد عوام اور تجزیہ نگاروں نےحکومت اور نگراں اداروں کی بے حسی اور سیکٹر میں دیرینہ خامیوں پر سخت تنقید کی ہے ۔ ادارہ جاتی تحفظات، حفاظتی اپ گریڈز میں تاخیر اور پیشرفت کی کمی نے عوامی اعتماد کو کمزور کیا ہے۔ ایوی ایشن پالیسی، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اورریگولیٹری طاقت میں مضبوطی کے فقدان نے بہتری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ ملک کی شہری ہوابازی میں ہونے والے سانحات نے واضح طور پر ثابت کیا ہے کہ تحقیق، ٹیکنالوجی، تربیت اور مؤثر نگرانی کے بغیر کوئی بھی نظام محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ایوی ایشن سیکٹر میں حفاظتی انڈیکس، ٹریننگ، معیار، بنیادی انفراسٹرکچر اور ایمرجنسی ردعمل کو بہتر بنانا حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہئے۔