ہندوستان کی سپریم کورٹ کو آئین کا محافظ کہا جاتا ہے اور اسے عام شہریوں کیلئے آخری امید بھی سمجھا جاتا ہے تاہم، آج ملک کے بڑے طبقے’ دلت، آدیواسی، اقلیتیں اور او بی سی‘ کے ذہنوں میں تیزی سے یہ بات گھر کرتی جارہی کہ یہ عدالت ان کیلئے نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 5:09 PM IST | Sheetal P. Singh | Mumbai
ہندوستان کی سپریم کورٹ کو آئین کا محافظ کہا جاتا ہے اور اسے عام شہریوں کیلئے آخری امید بھی سمجھا جاتا ہے تاہم، آج ملک کے بڑے طبقے’ دلت، آدیواسی، اقلیتیں اور او بی سی‘ کے ذہنوں میں تیزی سے یہ بات گھر کرتی جارہی کہ یہ عدالت ان کیلئے نہیں ہے۔
ہندوستان کی سپریم کورٹ کو آئین کا محافظ کہا جاتا ہے اور اسے عام شہریوں کیلئے آخری امید بھی سمجھا جاتا ہے تاہم، آج ملک کے بڑے طبقے’ دلت، آدیواسی، اقلیتیں اور او بی سی‘ کے ذہنوں میں تیزی سے یہ بات گھر کرتی جارہی کہ یہ عدالت ان کیلئے نہیں ہے۔ یہ محض ’رجحان‘کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک سنگین آئینی بحران ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج بی جے پی کے بڑھتے دبدبے کی علامت ہیں
آئین کامحافظ کون؟
ہائی کورٹ کی سماجی ساخت پر نظر ڈالیں تو ایک تشویشناک تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار اور آزادانہ مطالعات کے مطابق:
۲۰۱۸ء اور۲۰۲۳ء کے درمیان ہائی کورٹ کے ججوں میں تقریباً ۷۵؍ سے ۸۰؍ فیصد ججوں کا تعلق اعلیٰ ذات سے تھا۔
ان ججوں میںدلت (ایس سی) تقریباً ۳؍ سے ۴؍ فیصد، آدیواسی (ایس ٹی)صرف ایک سے ۲؍ فیصد، او بی سی تقریباً ۱۱؍ سے ۱۲؍ فیصد اور اقلیتیں تقریباً ۵؍ سے ۶؍ فیصد ہیں۔
عدلیہ میںخواتین کی نمائندگی بھی۱۴۔۱۳؍ فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔
اسی طرح سپریم کورٹ میں بھی برہمن طبقے سے تعلق رکھنےوالے ججوںکا تناسب ان کی آبادی سے کئی گنا زیادہ رہا ہے۔
جب ملک کی عدالتیں سماجی طور پر اتنی یک طرفہ ہوں تو یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ ملک کے متنوع سماجی حقائق کو پوری طرح سمجھ سکیں گی۔ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر آئین کو نافذ کرنے کے ذمہ دار ادارے سماجی طور پر مراعات یافتہ طبقات کے ہاتھ میں رہے تو آئین کاغذ پر ہی رہ جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اجیت پوار کا ہوائی جہاز حادثہ: شہری ہوابازی کی ناقص کارکردگی اور حکومت کی بے حسی
دلت اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ
سبھاش کاشی ناتھ مہاجن کیس میں۲۰۱۸ء کا فیصلہ دلت برادری کیلئے ایک بڑا دھچکا تھا۔ سپریم کورٹ نے ایس سی ایس ٹی پریوین شن آف ایٹروسیٹیز ایکٹ کو کمزور کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ’غلط استعمال‘ ہو رہا ہے۔ عدالت نے یہ نہیں دیکھا کہ:
زیادہ تر دلت کیسوں میں ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوتی۔
سزا کی شرح بہت کم ہے۔
متاثرین کو سماجی اور پولیس کی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
اس فیصلے سے یہ پیغام گیا کہ عدالت متاثرہ شخص سے زیادہ ملزم، جو اکثر سماجی طور پر طاقتور ہوتا ہے، کے بارے میں فکر مند ہے۔ پارلیمنٹ کو مداخلت کرکے قانون کو بحال کرنا پڑا، لیکن تب تک دلت برادری کا اعتماد متزلزل ہوچکا تھا۔
آدیواسی، زمین اور انصاف
قبائلی معاملات پر سپریم کورٹ کا نقطہ نظر اکثر ’ترقی‘ کے حق میں اور آئین کے خلاف نظر آتا ہے۔ فاریسٹ رائٹس ایکٹ میں گرام سبھا کی رضامندی کو اکثر محض رسمی طور پر سمجھا جاتا تھا جبکہ عدالتوں نے کان کنی، ڈیم اور سڑک کے منصوبوں میں تیزی سے کام کیا۔ ان کے بے گھر ہونے، ان کے روزگار اور ان کے معاش کے مسائل پر عدالتیں خاموش رہیں۔ نیام گیری (ویدانتا) کیس ایک استثناء ہے، جہاں عدالت نے قبائلی حقوق کا احترام کیا لیکن یہ اسلئے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ ایسے فیصلے بہت کم ہوتے ہیں۔ آج، بہت سے قبائلیوں کیلئے، عدالت ان کی محافظ نہیں بلکہ ان کی زمینوں کو چھیننے پر مہر لگانے والا ایک ادارہ بنتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یو جی سی تنازع:مساوات کو یقینی بنانے کی سنجیدہ کوشش یا سیاسی بساط پر ایک اور چال
اقلیتیں اور انصاف کی گرتی امید یں
سپریم کورٹ پر اقلیتوں کا اعتماد سب سے زیادہ متزلزل ہوا ہے۔ نفرت انگیز تقاریر کے مقدمات میں، عدالت بار بار حکومت سے’امید‘ کا اظہار کرتی ہے اورسخت احکامات سے گریز کرتی ہے۔ ماب لنچنگ، بلڈوزر کی کارروائیاں اور منتخب قانون نافذ کرنے والے معاملات میں عدالتی مداخلت دیر سے ہوئی ہے یا بہت کمزور رہی ہے۔ کشمیر میں دفعہ ۳۷۰؍ کی منسوخی کے بعد کئی مہینوں تک نظر بند لوگوں کی سماعت میں تاخیر ہوئی۔ ’’ہم ٹریول ایجنٹ نہیں ہیں‘‘ جیسے ریمارکس نے بنیادی حقوق کو کمزور کیا ہے۔ اگر وقت پرانصاف نہ ملے تووہ انصاف نہیں رہتا ہے۔ وہ محض طریقہ کار بن جاتا ہے۔
غریبوں کیلئے الگ قانون؟
اس کو سمجھنے کیلئے پہلے ہمیںہندوستان کی جیلوں کا ایک جائزہ لینا ہوگا۔
۷۵؍ فیصد سے زیادہ قیدی زیر سماعت ہیں، یعنی جن پر ابھی تک الزام ثابت ہی نہیں ہوا ہے۔
ان جیلوں میں غریب، دلت، قبائلی اور اقلیتوں کی اکثریت ہے۔
قانون کی حکمرانی میں ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ ہے لیکن عملاً اس کے برعکس ہوتا ہے۔
بھیما کوریگاؤں کیس میں بوڑھے اور بیمار لوگ برسوں جیل میں رہے۔ فادر اسٹین سوامی کی حراست میں موت عدلیہ کی اخلاقی ناکامی تھی۔ اس کے برعکس سیاسی اور معاشی طور پر طاقتور لوگ نسبتاً آسانی سے ضمانت حاصل کر لیتے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ آزادی سب کیلئے برابر نہیں ہے۔
یہ بھی پھڑھئے: قاری نامہ:بین المذاہب ہم آہنگی، برادران وطن سے مکالمہ اور مزید بہتری کے امکانات
جب عدالت طاقت کی زبان بولنے لگے
جب عدالتیں’ملک دشمن،اربن نکسل یا ترقی مخالف‘ جیسی اصطلاحات استعمال کرتی ہیں تو وہ طاقت کی زبان اپناتی ہیں۔ آئین عدالت سے توقع کرتا ہے کہ وہ طاقت کو روکے نہ کہ اس کی وضع کردہ اصطلاحات کو دہرائے ۔
تنوع کیوں اہم ہے؟
سپریم کورٹ میں تنوع کوئی ’کوٹہ‘ نہیں ہے بلکہ یہ ایک آئینی تقاضا ہے۔ دلت، آدیواسی، او بی سی اور اقلیتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے جج:
تھانوں کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔
زمین پر قبضے کے عمل کو جانتے ہیں۔
ذات کی بنیاد پر ہونے والی تذلیل کا درد محسوس کرتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ان تجربات کو جانے بغیر انصاف اکثر کتابوں تک محدود رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نصاب کے ذریعے معصوم ذہنوں پر فرقہ پرستی کی کاشت کاری : ہم کتنے تیار ہیں؟
آئین اور عدالت کے درمیان بڑھتا فاصلہ
جب معاشرے کے بڑے طبقے یہ ماننے لگتے ہیں کہ آئین ان کی آواز نہیں سنتا تو قصور شہریوں کا نہیں بلکہ اداروں کا ہے۔سپریم کورٹ یا تو خود کو کمزوروں کا محافظ بنائے، یا پھر حکومتوں، کارپوریشنوں اور سماج کے اعلیٰ طبقات کیلئے سہولت فراہم کرنے والا ایک ادارہ بن جائے۔ ایک ایسی آئین جو عدم مساوات کو توڑنے کیلئے بنائی گئی ہو، اسے ایک ایسی عدالت نہیں بچا سکتی جو خود اس عدم مساوات کی عکاسی کرتی ہو۔