ایک وقت تھا جب کچے مکانوں کے ہر کمرے (بھیتر) میں روایتی چارپائیاں نظر آتی تھیں۔سردیوں میں خواتین بڑے سے آنگن میں جمع ہو کر اس پر سوئٹر بُنا کرتی تھیں اور گھر کے باہر مرد حضرات اسی چارپائی پر محفل سجاتے تھے۔
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 11:04 AM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
ایک وقت تھا جب کچے مکانوں کے ہر کمرے (بھیتر) میں روایتی چارپائیاں نظر آتی تھیں۔سردیوں میں خواتین بڑے سے آنگن میں جمع ہو کر اس پر سوئٹر بُنا کرتی تھیں اور گھر کے باہر مرد حضرات اسی چارپائی پر محفل سجاتے تھے۔
ایک وقت تھا جب کچے مکانوں کے ہر کمرے (بھیتر) میں روایتی چارپائیاں نظر آتی تھیں۔سردیوں میں خواتین بڑے سے آنگن میں جمع ہو کر اس پر سوئٹر بُنا کرتی تھیں اور گھر کے باہر مرد حضرات اسی چارپائی پر محفل سجاتے تھے ۔ صبح کی محفل مختصر ہوا کرتی تھی، لوگ جلدی جلدی باتیںختم کرکے کھیتوں میں کام کیلئے نکل جاتے تھے۔ مغرب بعد سجنے والی محفل میں زیادہ لوگ شامل ہوا کرتے تھے، کیونکہ اُس وقت تک لوگ کھیت سے لے کر بازار تک کے کام سے فارغ ہو جایا کرتے تھے۔ پھر ساتھ میں بیٹھتے اور فصلوں سے متعلق گفتگو ہوتی۔
یہ بھی پڑھئے: کھیتوں میں پیلے پیلے سرسوں کے پھول، ایسا لگتا ہے جیسے سنہری چادر تنی ہو
اس بیٹھک میںموضوع کچھ یوں ہوتا ہے کہ.... سرسوں کی فصل پر کہرے کا اثر تو نہیں ہے اور گیہوں کی سینچائی کیلئے نہر میں پانی آیا کہ نہیں؟ ان سب باتوں کے بعد موضوع بدلتا تو کوئی حیدر علی جگنو کا’ بِرہا‘ گاکے سناتاجس میں گائوں دیہات میں پیش آنے والے پرانے واقعے کو گیت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے ۔ ’برہا‘ میں دیگر بہت سے تاریخی واقعات کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ گائوں کے لوگ اسے اس لئے بہت پسند کرتے ہیں چونکہ وہ ان کی علاقائی زبان میں گایا جاتا ہے۔ گائوں کے پرانے لوگ آج بھی فلمی گانے نہیں پسند کرتے بلکہ وہ ’برہا‘ جیسی لوک گائیکی سنتے ہیں۔ حیدر علی جگنو کو ہمارے علاقے میں ’برہا سمراٹ‘(بِرہا کا بادشاہ) کہا جاتا تھا ۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سےلگایا جاسکتا ہے کہ اُس وقت اُن کے پروگرام ممبئی ، دہلی ، کولکاتا اور دیگر بڑے شہروں میں بھی ہوا کرتے تھے۔ وہ آج کی طرح موبائل کا زمانہ نہیں تھا لوگ چار پائی پر بیٹھتے تھے اور درمیان میں رکھے حقہ پر کش لگاتے ہوئے ایسے ہی لوک گائیکی سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: دسمبر میں کیلنڈر اُتار کر رکھ لیا جاتا، بعد میں اس کے صفحات سے پتنگ بنائے جاتے
اسی چار پائی کی محفل میں کوئی قوالی گا کے سناتا تھا۔ اُس وقت ایک منظوم قصہ ’ تاجو بہن اور بھائی مراد‘ بڑا مشہور تھا ۔ جب یہ قصہ گھر کے باہر کی مجلس میں پر سوز انداز میں سنایا جاتا تو گھر کےاندر بیٹھ کر سننے والی خواتین کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں کیونکہ اس قصے کااختتام ایک لالچی بہن کے ہاتھوں بھائی کے قتل پر ہوتا تھا ۔اسی طرح ’سونار‘ کی لڑکی کا واقعہ سن کر بھی گائوں کی خواتین جذباتی ہو جایا کرتی تھیں۔ اُس وقت ایسے واقعات کی منظوم داستانوں کی کتابیں خوب فروخت ہوا کرتی تھیں۔ خواتین کو جب معلوم ہوتا کہ گائوں میں فلاں کے پاس یہ کتاب ہے۔ پھر باقاعدہ اُس کو دعوت دے کر گھر بلاتیں، خوب آئو بھگت کرتیں اور آخر میں فرمائش پیش کرتیں کہ... ذرا وہ قصہ سنا تی جائو ...ادھر قصہ چھڑتا اُدھر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ، وہ جی بھرکے روتی تھیں۔ بعد میںکتابوں کے بعد یہ واقعات کیسٹ میں آئے تو تسلیم عارف جیسے قوال اسے گاکر گائوں گائوں مقبول ہو گئے ۔ٹیپ ریکارڈر پرجب کبھی یہ قصہ آموں کے باغ میں بجتا تھا تو وہاں پورا گائوں اکٹھا ہو جایا کرتا تھا ۔
ہاں تو بات چارپائی کی ہو رہی تھی ...بچپن کی سردیوں میں چارپائی پر بیٹھ کر دھوپ سینکی جاتی تھی ۔ وہیں خواتین بیٹھ کر سبزیاں کاٹتی تھیں۔ شام ڈھلتے وقت اکثر وہ چارپائی وہیں رہ جاتی تھی۔ چنانچہ رات بھر اُس پر شبنم ’اوس‘ پڑتی تووہ چار پائی صبح ہوتے ہوتے اکڑ جایا کرتی تھی اور ایک طرف اُونچی اُٹھ جاتی تھی ۔ دھوپ نکلنے کے بعد جب اسے دبا کربٹھانے کی کوشش کی جاتی تو وہ دوسری طرف اُٹھ جاتی ۔ اس طرح لاکھ کو شش کے بعد بھی جب اس کی اکڑ ختم نہ ہوتی یعنی وہ بیٹھنے پر راضی نہ ہوتی تو محلے کے بچوں کو جمع کیا جاتا اور چاروں طرف انہیںبٹھا کر چارپائی کی اکڑ ختم کرائی جاتی۔ کئی بار کچھ شریر بچے ایسی اچھل کود کرتے تھے کہ بانس کی وہ کمزور چاپائی ٹوٹ بھی جاتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: میدانی علاقوں میں مئی جون میں آگ اور دسمبر جنوری میں برف کی بارش ہوتی ہے
اکثر گائوں میں اُس وقت بجلی نہیںتھی ۔ گرمی کے دن تو باغوں میں کٹ جاتے تھے لیکن رات تو وہاں گزاری نہیں جا سکتی تھی۔ ایسے موسم کیلئے یہ بانس کی چارپائی بڑے کام آتی تھی۔ شام ہوتے ہی بچے اپنی اپنی چار پائی باہر نیم کے درخت کے نیچے بچھا دیتے اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں سو جایا کرتے تھے۔ گرمی کی راتوں میں اچانک ہونے والی بارش سے بھگدڑ مچ جاتی تھی ۔ بارش آئی بارش آئی ...اُٹھو اُٹھو ... کا شور مچتا ، دن بھر دھما چوکڑی کرنے والے بچے بڑی مشکل سے جاگتے۔نیند سے اچانک اُٹھنے پر کچھ دیر تک انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا ...کئی بار وہ باغوں کی طرف بھاگنے کی کوشش کرتے ...انہیں لگتا آندھی آئی ہے اور باغ میں آم بِننے(آم چُننے) کے محاذ پر نکلنا ہے ۔ گھر کے بڑےبزرگ انہیں پکڑ کر گھر کے اندر کرتے۔ ایک ٹیم جلدی جلدی بستر اندر لےکر بھاگتی۔ دوسری ٹیم کے پاس چارپائی اندر رکھنے کی ذمہ داری ہوتی۔ رات کے آخر میں جب نیند میں خلل پڑتا تو خواتین دوبارہ بستر پر نہ جاکر اپنے صبح کے کام میں مصروف ہو جاتی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: سردیوں میں سورج نظرآتے ہی خواتین چار پائی پر گیہوں پھیلا کر بیٹھ جاتی ہیں
شہروں میں تو اب یہ لکڑی کی چارپائیاں کم ہی نظر آتی ہیں۔ گائوں میں بھی اب اس کا استعمال کم ہوگیا ہے۔ اب لکڑی کی چارپائی کی جگہ لوہے کی چارپائیاں بن رہی ہیںاور مسہری کی جگہ بیڈ نے لے لیا ہے۔ ایک وقت تھا جب نئ نویلی دلہنیں اپنے مائیکے سے چارپائی اور مسہری لایا کرتی تھیں۔ اب ان کے ساتھ قیمتی صوفہ اور اس سے بھی مہنگا بیڈ آتا ہے ۔آج بس اتنا ہی، گائوں کے قصے کہانیاں اور ’بِرہا‘ ،’ آلہا‘،جیسی لوک گائیکی پر تفصیلی گفتگو پھر کبھی۔