• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قاری نامہ:بین المذاہب ہم آہنگی، برادران وطن سے مکالمہ اور مزید بہتری کے امکانات

Updated: February 01, 2026, 12:30 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai

ہم ہر سال فروری کے پہلےہفتے کو’عالمی بین المذاہب ہم آہنگی ہفتہ‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں یہ تجویز۲۰۱۰ء میں اُردن کے شاہ عبداللہ دوم اور شہزادہ غازی بن محمد کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ اس کا مقصد مذہب کی بنیاد پر تفریق کے بغیر تمام انسانوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ اِس وقت وطن عزیز کے جو حالات ہیں، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس دن کی اہمیت ہمارے لئے کچھ زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔ ذیل میں ہم نے اپنے قارئین سے یہی جاننے کی کوشش کی ہے کہ ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مکالمہ ہی دراصل احترام اور مشترکہ قدروں کو بنیاد فراہم کرتا ہے

۲۰۱۴ء کے بعد ملک میں برادرانِ وطن سے مکالمہ ایک مشکل مرحلے میں داخل ہوا ہے کیونکہ بعض پالیسیوں اور زمینی حقائق نے مسلمانوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھایا ہے، جس کا اثر براہِ راست بین المذاہب مکالمے پر پڑا ہے۔ اس کے باوجود تعلیمی اداروں اور مقامی کمیونٹی پروگرامز، میں مختلف مذاہب کے افراد کے درمیان بات چیت اور تعاون میں اضافہ ہوا ہے جسے  بین المذاہب مکالمے میں ایک جزوی کامیابی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے لیکن  اس حوالے سے ہمیں  اور بھی سنجیدہ، منظم اور مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مکالمے کا عمل مؤثر بن سکے اور برادرانِ وطن کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی فروغ پا سکے۔ سب سے پہلی بنیاد تعلیم ہے۔ تعلیمی نصاب میں مذہبی رواداری، باہمی احترام اور انسانی قدروں کو شامل کیا جانا چاہئے تاکہ بچے کم عمری ہی سے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا احترام سیکھیں۔ اسی تناظر میں بین المذاہب ہم آہنگی کا تصور ہمارے مذہبی ورثے میں بھی موجود ہے، جہاں قرآن کا یہ پیغام ہے کہ آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے۔مکالمہ ہی دراصل احترام اور مشترکہ قدروں کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔  مزید برآں  مکالمے کو محض قومی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے محلّہ، بستی اور گاؤں کی سطح پر فروغ دینا چاہئے  تاکہ روزمرہ تعلقات میں اعتماد اور باہمی ہم آہنگی مضبوط ہو  نیز  مکالمے کو مؤثر، مسلسل اور بامعنی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ مشترکہ سماجی مسائل جیسے غربت، تعلیم، بے روزگاری اور اخلاقی اقدار کو گفتگو کا مرکز بنایا جائےتا کہ اس سے ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے اور فاصلے کم ہوں۔ بین المذاہب ہم آہنگی میں نوجوان کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوان اگر  مشترکہ سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیں تو عملی سطح پر باہمی اعتماد مضبوط ہو سکتی ہے۔  آج سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے ایک اہم ذریعہ ہے، جو سماجی ہم آہنگی اور مکالمے کو آگے بڑھانے میں مددگار ہو سکتا ہے اسی لئے اس کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں مذہبی رہنماؤں کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔

رضوان عبدالرزاق قاضی(کوسہ ممبرا)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:آج ہمارے ملک میں جمہوریت کی کیا اہمیت ہے،ہم اس کے تحفظ کیلئے کیا کریں؟

مکالمہ کمزور پڑ جاتا ہے تو نفرت،بے اعتمادی اور شر انگیزی جنم لیتی ہے

بین المذاہب ہم آہنگی آج کے اس پرآشوب دور میں ناگزیر سماجی ضرورت بن چکی ہے۔  دنیا بھر میں مختلف مذاہب عقائد اور تہذیبوں کے ماننے والے ایک معاشرے میں صدیوں سے رہتے  چلے آرہے ہیں ۔ ایسے میں امن،ترقی اور خوشحالی کا انحصار باہمی احترام برداشت اور آپسی مکالمے پر ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور شہزادہ غازی بن محمد کی پیش کردہ قرارداد کو۲۰۱۰ء میں اقوام متحدہ نے منظور کیا۔ اس ہفتے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر کے مذاہب کے درمیان صحت مند مکالمے میں رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیا جا سکے اور نفرت تعصب  اور تشدد کے رجحانات کا سد باب کیا جا سکے ۔ بین المذاہب ہم اآہنگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان اپنے عقائد  سے دستبردار ہو جائے بلکہ اس کا اصل مقصد اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے مذہبی جذبات، انسانی حقوق اور سماجی اقدار کا احترام کرنا ہے۔

چونکہ ہمارا ملک ایک کثیر المذاہب معاشرہ ہے اسلئے  یہاں بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ برادران وطن سے مثبت مکالمہ ،غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اعتماد کی فضا قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جاتا ہے۔ مکالمہ مضبوط ہوتا ہے تو معاشرے میں امن قائم رہتا ہے اور جب مکالمہ کمزور پڑ جاتا ہے تو نفرت،بے اعتمادی اور شر انگیزی جنم لیتی ہے۔آج کے دور میں ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم نفرت انگیز گفتگو فرقہ وارانہ بیانات اور اشتعال انگیزی سے اجتناب کریں خصوصاً سوشل میڈیا پر تعلیمی اداروں،عبادت گاہوں اور مذہبی خطبات کے ذریعے اتحاد رواداری اور احترام انسانیت کے پیغام کو عام کیا جانا چاہئے۔ اگر ہم سب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لیں اور عملی طور پر بین المذاہب  ہم اہنگی کو اپنائیں تو ایک پرامن مضبوط اور خوشحال معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے کیونکہ رواداری ہی مضبوط قوموں کی پہچان ہے ۔اس سلسلے میں والدین بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، بچوں کی تربیت میں انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔

شیخ نسرین عارف 

(لیکچرر رابعہ ہائی اسکول اینڈ جونیر کالج بھیونڈی)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: نیشنل یوتھ ڈے، نوجوانوں کی تربیت، بڑے کیا کریں کہ وہ مؤثر ثابت ہو؟

مذہبی رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ اپنے خطبات اور بیانات میں اتحاد، رواداری، اخوت اور انسانیت کے پیغام کوعام کریں

ہندوستان صدیوں سے مختلف مذاہب، تہذیبوں اور ثقافتوں کا مشترکہ وطن رہا ہے۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارتے آئے ہیں۔ یہی کثرت میں وحدت ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ تمام مذاہب امن، محبت، رواداری اور انسانیت کا پیغام دیتے ہیں، مگر بدقسمتی سے آج کے دور میں تعصب، نفرت اور غلط فہمیوں نے معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے حالات میں بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت برادرانِ وطن سے مکالمہ وقت کی ایک اہم اور ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

بین المذاہب مکالمہ محض مذہبی اختلافات پر بحث کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مثبت اور تعمیری عمل ہے جس کا مقصد ایک دوسرے کو سمجھنا، باہمی احترام کو فروغ دینا اور اعتماد کی فضا قائم کرنا ہے۔ جب مختلف مذاہب کے لوگ کھلے دل اور مثبت نیت کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں تو شکوک و شبہات ختم ہوتے ہیں اور دل قریب آتے ہیں۔ مکالمہ نفرت کے ماحول میں امن کی بنیاد رکھتا ہے۔اگر ہم اب تک کی کوششوں کا جائزہ لیں تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے میدان میں ہم کسی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں امن کمیٹیاں، بین المذاہب اجلاس، مشترکہ سماجی خدمات اور قدرتی آفات کے وقت باہمی تعاون اس بات کا ثبوت ہیں کہ عام شہری آج بھی بھائی چارے پر یقین رکھتے ہیں۔ تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں نے بھی مکالمے اور ہم آہنگی کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔

تاہم یہ کامیابیاں ابھی کافی نہیں ہیں۔ بعض عناصر کی جانب سے نفرت انگیز بیانات، افواہوں اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے معاشرتی توازن کو متاثر کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو مزید مضبوط اور منظم کریں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے محلہ سطح پر مکالماتی نشستیں، اسکولوں اور کالجوں میں امن و بھائی چارے پر سیمینار، مشترکہ سماجی خدمات جیسے صفائی مہم، بلڈ ڈونیشن کیمپ اور غریبوں کی مدد جیسے اقدامات کیے جائیں۔ مختلف مذاہب کے تہواروں میں ایک دوسرے کی شرکت بھی دلوں کو جوڑنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

نوجوان نسل کو اس عمل میں شامل کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے، کیونکہ وہی مستقبل کے معمار ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کو بھی اشتعال انگیزی کے بجائے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے خطبات اور بیانات میں اتحاد، رواداری اور انسانیت کا پیغام عام کریں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہم سب ایک ہی ملک کے شہری ہیں اور ہماری ترقی و خوشحالی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر ہم مکالمے، تعاون اور باہمی احترام کو اپنا شعار بنا لیں تو بین المذاہب ہم آہنگی مضبوط ہوگی اور ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل پائے گا۔

ارباز احمد (مدرس،اسلامیہ ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج ،مومن پورہ ،ناگپور)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ’’بی ایم سی اوربلدیاتی انتخابات میں عوامی بیزاری: اسباب اور حل‘‘

وقت کی اہم ترین ضرورت

آج کے دور میں جب معاشرے میں نفرت، تعصب اور عدم برداشت کی فضا بڑھتی جا رہی ہے، بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔ افسوس کہ اس میدان میں ہمارا کردار کمزور دکھائی دیتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں ہماری غیر موجودگی، مؤثر مکالمے کی کمی، وسائل کی قلت اور حکمت و تدبر سے پہلو تہی اس کمزوری کے بنیادی اسباب ہیں۔  

وطن عزیز میںپست اقوام، اقلیتوں اور کمزور طبقات کے خلاف نفرت کا بازار گرم ہے۔ اس پس منظر میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا نہ صرف ایک سماجی ضرورت ہے بلکہ قومی یکجہتی کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ چند ادارے محدود وسائل کے باوجود اس سمت میں کوششیں کر رہے ہیں، لیکن یہ کوششیں ناکافی ہیں۔  ہمیں اپنے ہم وطنوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں ہمارا کردار کس قدر اہم رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ضروری ہے کہ ہم اپنے مذہب کے ساتھ دیگر مذاہب کا مطالعہ کریں تاکہ مشترکہ نکات پر مذاکرات  ہو سکیں۔ یہ یقین دلانا ہوگا کہ مذہب کے اصولوں کی پاسداری سے ہی اخوت، امن اور ہم آہنگی ممکن ہے۔  

بیشتر مذاہب کے درمیان غلط فہمیاں موجود ہیں، جن کے ازالے کیلئے ایک دوسرے کی صحیح تعلیمات پیش کرنا ضروری ہے۔ اس فریضے کو وہی شخصیات مؤثر انداز میں ادا کر سکتی ہیں جو مقامی زبان اور ثقافت پر عبور رکھتی ہیں۔  

بین المذاہب ہم آہنگی ایک طویل سفر ہے، جسے علمی انداز، سنجیدگی اور متانت کے ساتھ ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنے مذہبی لٹریچر کو مؤثر انداز میں مرتب کرنے اور پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مثبت نتائج حاصل ہوں۔ اگر ان تمام امور پر سنجیدہ کوشش کی جائے تو یقیناً معاشرے میں امن، اخوت اور ہم آہنگی کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔  

جاوید انصاری  

(سبکدوش افسر، آل انڈیا ریڈیو،مالیگاؤں، ضلع ناسک)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: اقلیتوں کے حقوق کا دن:آج کے حالات میں حصولِ حقوق کیلئے کیاکرناچاہئے؟

فکری تنوع کو سمجھنے کی کوشش ہو

بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت برادرانِ وطن سے مکالمے کے میدان میں ہماری کامیابی اب تک محدود، جزوی اور غیرمستقل رہی ہے۔ اگرچہ مختلف سطحوں پر مکالمے کی کوششیں ضرور کی گئی ہیں، مگر یہ اکثر رسمی تقریبات، بیانات اور نعروں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔ عملی زندگی میں ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے اور قبول کرنے کی روایت کمزور نظر آتی ہے۔ ہم زیادہ تر اپنےمؤقف کے دفاع میں مصروف رہتے ہیں، جبکہ دوسروں کے احساسات، خدشات اور نقطۂ نظر کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ یہی رویہ مکالمے کو بامقصد بنانے کے بجائے محض ایک رسمی عمل بنا دیتا ہے۔

مزید یہ کہ معاشرتی سطح پر موجود تعصب، خوف اور عدم اعتماد مکالمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ بعض اوقات مذہب کو سیاسی، سماجی یا ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے فاصلے کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز زبان اور غلط معلومات بھی مکالمے کے ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

اس صورتحال میں بہتری کیلئے ضروری ہے کہ مکالمے کو محض مذہبی رہنماؤں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس میں اساتذہ، طلبہ، نوجوانوں، میڈیا نمائندوں اور عام شہریوں کو بھی شامل کیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں برداشت، تنوع اور مکالمے کی تربیت دی جائے تاکہ نئی نسل اختلاف کو دشمنی کے بجائے فکری تنوع سمجھے۔ میڈیا کو سنسنی خیزی کے بجائے مثبت مثالیں اور مشترکہ انسانی اقدار اجاگر کرنی چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ سماجی مسائل جیسے غربت، تعلیم، صحت اور ماحولیات پر مل جل کر کام کرنے سے عملی ہم آہنگی فروغ پا سکتی ہے۔

حقیقی بین المذاہب ہم آہنگی اسی وقت ممکن ہے جب مکالمہ احترام، انصاف اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر ہو۔ اگر ہم اس شعور کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو مکالمہ محض ایک سرگرمی نہیں بلکہ ایک مضبوط اور پائیدار سماجی روایت بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر محمدتابش خان

(اسسٹنٹ پروفیسر، ممبئی یونیورسٹی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK