ملک میں نئی تعلیمی نظام نافذہوچکی ہے لیکن اُس کی اصل روح کیا ہے اُس کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ عوام صرف تکنیکی باتوں پر بحث کر رہے ہیں جیسے یہ تعلیمی نظام پہلے ۱۰+۲+۳ سال کی ساخت کا ہوا کرتا تھا اور اب نئی تعلیمی پالیسی میں وہ ۵+۳+۳+۴ کا روپ دھارے گا۔
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 11:23 AM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai
ملک میں نئی تعلیمی نظام نافذہوچکی ہے لیکن اُس کی اصل روح کیا ہے اُس کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ عوام صرف تکنیکی باتوں پر بحث کر رہے ہیں جیسے یہ تعلیمی نظام پہلے ۱۰+۲+۳ سال کی ساخت کا ہوا کرتا تھا اور اب نئی تعلیمی پالیسی میں وہ ۵+۳+۳+۴ کا روپ دھارے گا۔
ملک میں نئی تعلیمی نظام نافذہوچکی ہے لیکن اُس کی اصل روح کیا ہے اُس کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ عوام صرف تکنیکی باتوں پر بحث کر رہے ہیں جیسے یہ تعلیمی نظام پہلے ۱۰+۲+۳ سال کی ساخت کا ہوا کرتا تھا اور اب نئی تعلیمی پالیسی میں وہ ۵+۳+۳+۴ کا روپ دھارے گا۔ہمیں اُس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان تکنیکی تبدیلیوں سے تعلیمی نظام پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ پِری پرائمری اسکول کو بھی تعلیمی نظام کا حصہ مان لیا گیا ہے۔ ہمیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ اب ۲؍ سال کے بجائے۴؍سال کا جونیئر کالج ہوگا۔ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کو جونیئر کالج کہا جائے گا اور اُس میں آرٹس ، سائنس اور کامرس کے جملہ مضامین پڑھائے جائیں گے۔ ہمیں ا س پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہمیںاعتراض اُس پر ہے جس پر ابھی تک پردہ ہے اور وہ یہ کہ (الف) اقدار کی تعلیم میں کیا پڑھایا جائے گا اور (ب) تاریخ میں کیا پڑھایا جائے گا وغیرہ اور اس ضمن میں موجودہ حکومت نے بالکل خاموشی اختیار کررکھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وہ تاریخی دن یاد کیجئے جب اقتدار نے پہلی بار عوام کی آنکھوں میں جھانکا تھا
اگر ہم گزشتہ ۱۲؍برسوں کاجائزہ لیں تو بہت کچھ واضح ہوجائے گا کہ تعلیمی نظام کے ضمن میں اس کا اصل ہدف کیا ہے۔ ہم آخر میں یہ بھی بتائیں گے کہ سرپیٹنے اور ہنگامہ آرائی کرنےکے بجائے اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔
۲۰۱۴ء میں جب موجودہ حکومت پوری اکثریت کے ساتھ منتخب ہوئی تب اس کے دانشوروں سے لے کر گلی محلّے کے مافیا تک کایک نکاتی پروگرام رہا ہے: نصاب کو زعفرانی رنگ دینا بلکہ اس ملک کی نئی تاریخ لکھنا۔ نئی سے مراد سنگھ پریوار کی عینک لگا کر لکھی جانے والی تاریخ۔ اس کا تجر بہ گجرات سے شروع ہوا اور اب گنجوں کو جو ناخن مل گئے تو وہ نفرت کی فیکٹری ہر ریاست اور ہر علاقے میں کھولنا چاہتے ہیں۔ یہ زعفرانی ٹولہ بہت عجلت میں ہے، جلد از جلد ا سے اس ملک کو موہن جو داڑو ہڑپا کے دَور میں لے جانا ہے اور اس سمت میں اس ٹولے کی’ تحقیق‘ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:آج ہمارے ملک میں جمہوریت کی کیا اہمیت ہے،ہم اس کے تحفظ کیلئے کیا کریں؟
اسی زعفرانی ٹولے نے اب ہر مضمون میں اپنے رنگ دکھانا شروع کئے ہیں۔ ساتویں جماعت کی تاریخ کی درسی کتاب میں وہ بچّوں کو سکھاتے ہیں:’’ جنجیرہ کے سدّی (مسلم طبقہ ) حملہ کر کے آتش زنی، لوٹ کھسوٹ اور زیادتی کرتے تھے۔ بقول سبھا سد :’ گھر میں جیسے چوہے‘ ملک میں ویسے سدّی۔‘‘ ( یہ اور بات ہے کہ دنیا کے معتبر مورّخین اس زعفرانی ٹولے کے بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں )۔ اسی طرح چاند بی بی کے بارے میں لکھا ہے: ’’۱۵۹۵ء میں مغلوں نے نظام شاہی کی راجدھانی احمد نگر پر حملہ کر دیا اور چاند بی بی کے قتل کے بعد مغلوں نے احمد نگر کاقلعہ فتح کر لیا۔‘‘ اگر سنگھ پریوار کو اس ملک میں تاریخ کے ضمن میں حق گوئی سے کام لیتے ہوئے بھائی چارگی کا ماحول تیار کرنا ہوتا تو اس سبق کے آخر میں وہ یہ تبصرہ بھی لکھ دیتے :’’ بچّو! را جا، بادشاہ یا کوئی بھی حکمران صرف حکمران ہوتا ہے۔ اس کی خواہش صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کی ریاست کی سرحدیں وسیع سے وسیع تر ہوں اور وہ زمین کے زیادہ سے زیادہ رقبے پر قابض ہو۔ مغلوں نے بھی وہی کیا۔ نظام شاہی گرچہ مسلم حکومت تھی اور اس کی سر براہ چاند بی بی ایک مسلم خاتون مگر مغل حکمرانوں کی نگاہ میں وہ صرف ایک دشمن حکمراں تھی لہٰذا اکبر نے اپنی فوج کو احمد نگر بھیج کر چاند بی بی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ بالکل اسی طرح اور نگ زیب کی نظر میں مراٹھا شاہی اُن کی حکومت کی سرحدوں کو وسعت دینے میں ایک رکاوٹ تھی لہٰذا افغانستان سے لے کر برما تک کی حکومت کا شہنشاہ اورنگ زیب، مرہٹوں کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے ۲۷؍ سال تک دکن میں موجود رہا۔ بچّو! اور نگ زیب اور شیواجی کا یہ ٹکراؤ صرف دو حکمرانوں کا ٹکراؤ تھا، ہندو مسلم تصادم نہیں۔‘‘ ہمیں معلوم ہے کہ اگر وہ یہ لکھ دیتے ہیں تو انہیں اپنی نفرت کی بھٹّی کے لئے ایندھن کہاں سے ملے گا ؟
یہ بھی پڑھئے: ملک کی عدلیہ سے عوام مایوس ہیں، آزادی کو خطرہ ہو تو جج آنکھیں پھیر لیتے ہیں
اب تو من مانی تاریخ نے بے معنی تاریخ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کچھ لوگ شاید یہ کہیں گے کہ تاریخ کے بجائے اطلاقی تاریخ کو متعارف کرانا یا نصاب میں دیگر تبدیلیاں کسی ایک آدھ شخص کی ذہنی اُپج نہیں ہے بلکہ وہاں تو ریاست بھر کے مفکّرین و ماہرینِ تعلیم کی ایک پوری ٹیم سر جوڑ کر پالیسیاں مرتّب کرتی ہے پھر ان پالیسیوں میں ایسی فاش غلطیاں کیسے سرزد ہو سکتی ہیں۔ ہم ان سے کہنا چاہیں گے کہ چند سال قبل جونئی تعلیمی پالیسی ( آرٹی ای) متعارف کی گئی اس کی تیاری میں پورے ملک کے مفکّرین، ماہرینِ تعلیم اور فارین ریٹرن اسکالرس سر جوڑ کر بیٹھے تھے اورغور و فکر کے بعد نئی تعلیمی پالیسی منظر عام پرلائے، ایک ایسی پالیسی جس کے اکثر نکات کی ہم نے ان ہی کالموں میں سخت مخالفت کی تھی کیوں کہ ہمیں علم تھا کہ اس تعلیمی پالیسی سے پورے تعلیمی نظام میں ایک ہاہا کار مچنے والا ہے اور وہی ہوا۔ مثلاً
(۱) ہم نے اس آرٹی ای کے ایک قدم کا استقبال کیا تھا کہ اس کی رو سے ۱۴؍ سال تک کے بچّوں کو مفت اور سختی کے ساتھ تعلیم دی جائے تا کہ ملک سے بچّہ مزدوری کا خاتمہ ہو مگر آرٹی ای کے اِن ۱۴؍برسوں میں بھی آج بھی لاکھوں بچّے فیکٹریوں، ہوٹلوں اور کارخانوں میں مزدوری کر رہے ہیں نیز آٹھویں تک کوئی امتحان نہیں ہوتا، اس حکومت نے واضح طور پر اعلان کیا کہ پہلی جماعت میں اسکول میں نام لکھاؤ اور ٹھیک آٹھ سال بعد آٹھویں پاس سر ٹیفکیٹ لے کر جاؤ۔
یہ بھی پڑھئے: سامراجیت کے لوٹ مار کے اس دور میں کوئی ملک محفوظ نہیں ہے
(۲) اس آرٹی ای کے ذریعے حکومت نے ’والدین‘ نامی ایک ووٹ بینک تیار کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ والدین خوش رہیں۔ اس تعلیمی نظام میں بچّےکی شخصیت سازی ہو یا نہ ہو البتہ امتحان اور حاضری وغیرہ کی سختی نہ ہونے کی بناپر والدین خوش ہو گئے۔ بچّہ۱۸؍ سال سے کم عمر کا ہے، اسے ووٹ دینے کا حق نہیں ہے البتہ والدین کی تن آسانی و سہل پسندی کی بنا پر والدین نامی ووٹ بینک بالکل پکّی!
(۳) کوئی ہمیں یہ بتائے کہ آخر سارے ملک کے ماہرینِ تعلیم نے یہ کیسی پالیسی مرتّب کی کہ اس میں استاد کا قد انتہائی پست کر دیا گیا۔ مثلاً جسمانی سزا پر پابندی تو سمجھ میں آتی ہے البتہ کسی غلطی پر ڈانٹنا تک منع کر دیا گیا ور نہ وہ طالب علم اپنے استاد کو حوالات کی ہوا بھی کھلا سکتا ہے۔
سرکاری ماہرین تعلیم کی مکمل مادہ پرست ذہنیت ہی کی بناء پر آج اس ملک کا تعلیمی نظام بے روح بنا ہوا ہے۔ کیوں کہ اس نظام میں اقدار کی تعلیم کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ محکمہ تعلیم کا حکم ہے، اور سختی سے اُس پر عمل بھی کرنا ہے کہ بچّے کو سائنس پڑھاؤ، ریاضی پڑھاؤ۔ روزی روٹی والے مضامین پڑھاؤ۔ اخلاقیات؟ کوئی ضروری نہیں۔ بڑوں کا ادب؟ بچّے گھر سے سیکھ کر آجائیں۔ پڑوسی کے حقوق؟ یہ بھی گھر ہی میں سکھائے جائیں۔ نئی تعلیمی پالیسی میں اسکول میں صرف ’روزی روٹی‘ کے مضامین ہی سکھائے جائیں ؟؟
یہ بھی پڑھئے: جس کی لاٹھی اس کی بھینس !کیا آج ہی کیلئے یہ کہاوت بنائی گئی تھی؟
اقدار کی تعلیمکیلئے چند سال قبل ہفتے میں ایک آدھ پر یڈ مختص کیا گیا تھا۔ پھر اُ سے ہٹا دیا گیا تا کہ’ روزی روٹی‘ والا کوئی مضمون اُس کی جگہ پر پڑھایا جائے۔ آج چند اسکولوں میں کچھ ذمہ دار انتظامیہ اور چند بیدار مغز اساتذہ کی بدولت اخلاقی اقدار کی کی تعلیم دی بھی جارہی ہے البتہ چپکے چپکے، کہ کہیں محکمہ تعلیم کوخبر ہوئی تو وہ اسکول کہیں بلیک لسٹ نہ ہو جائے لہٰذا چپکے سے ایک آدھ ڈرائنگ کا پریڈ یا ایک آدھ پی ٹی کا پریڈ حذف کر کے اس کی جگہ اخلاقی اقدار کی تعلیم دی جاتی ہے۔ البتہ ایسے اسکولوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ہمارے مفکرین آخر کب یہ احتساب کریں گے کہ جس تعلیمی نظام کا محور’ روزی روٹی‘ ہو اُس کی وجہ سے ۸؍دہائیوں میںکیا کچھ بُھگت چکے ہیں۔ انجینئر، ڈاکٹر اور پولیس افسران وغیرہ تویہ تعلیمی نظام پیدا کر رہا ہے مگر اس تعلیمی نظام میں ہم ایسا کچھ بھی نہیں دے رہے ہیں جس سے کم از کم ہرنر بھیّا اور ہر آصفہ محفوظ رہے، ایسا بھی کچھ نہیں دے رہے ہیں کہ جس سے ملک میں در دّھا آشرم یا اولڈ ایج ہوم کی بڑھتی تعداد کو ہم کم کر پائیں کیونکہ اس تعلیمی نظام میں ایک بھی درس ایسا شامل نہیں کیا گیا ہے جس میں یہ درج ہو کہ ماں باپ کی خدمت عبادت ہے۔ سیاستداں اقتدار کے نشے میں چور ہیں۔ اب گیند صرف والدین کے پالے میں ہے جو یہ نہ صرف اعلان کریں کہ وہ حکومت کی خوش کرنے والی پالیسیوں کا شکار ہونے اور ووٹ بینک بننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ سیاست دانوں کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اپنی مرضی سے ان کے بچّوں کے کورے ذہنوں پر کچھ لکھیں پھر چاہے اس کیلئے انہیں راستے پر آکر احتجاج کرنا پڑے اور اس بے روح تعلیمی نظام کو ایشو بنا کر الیکشن لڑا جائے؟ ساری حکومتی ایجنسیاں نیز عدلیہ بھی برسرِ اقتدار ٹولے نے اغوا کرلیا ہے، اُس کے باوجود ہمیں ہماری نسلوں کی بقا کیلئے برادرانِ ملک کے ساتھ مل کر ہرجمہوری احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینا ہے۔