آج کے دور میں ہر خوشی، غم اور ہر کامیابی کی تصویر ایک کلک پر منظرِ عام پر آجاتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے محنت کو کس انداز میں ضبط کیا؟
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 4:54 PM IST | Hafiz Bilal Basheer | Mumbai
آج کے دور میں ہر خوشی، غم اور ہر کامیابی کی تصویر ایک کلک پر منظرِ عام پر آجاتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے محنت کو کس انداز میں ضبط کیا؟
آج کے دور میں ہر خوشی، غم اور ہر کامیابی کی تصویر ایک کلک پر منظرِ عام پر آجاتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے محنت کو کس انداز میں ضبط کیا؟ وہ نوجوان نسل جو جنریشن زی کے نام سے جانی جاتی ہے، اس تیزی سے بدلتی دنیا میں پیدا ہوئی ہے جہاں علم اور شواہد تک رسائی کا مطلب اکثر محنت کی قدیم تعریف کو کم تر سمجھ لیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول، ہنر سیکھنے اور خود نمائی کے طریقے بدل دیے ہیں، مگر کیا اسی تبدیلی نے محنت کے تجربے، صبر اور تسلسل کے تصور کو کمزور نہیں کر دیا؟
سوشل میڈیا صرف فیس بک یا ٹک ٹاک نہیں بلکہ یہ وہ تکنیکی و سماجی ڈھانچہ ہے جو یوزرس کو مواد بنانے، شیئر کرنے اور فوراً رائے پانے کا موقع دیتا ہے اور اسی تیزی نے محنت کے روایتی تصورات پر اثر چھوڑا ہے۔
صرف پندرہ بیس سال پہلے تک زیادہ تر معلومات کا حصول کتابوں، اساتذہ اور تجربات سے وابستہ تھا، مگر ۲۰۰۰ء کی دہائی کے وسط سے سوشل میڈیا نے انفارمیشن کی رسائی کو جتنی تیز رفتار اور سستا بنایا، اتنا ہی اس نے فوری نتیجہ پانےکی اُمید اور توقع کو بھی جنم دیا۔
یہ بھی پڑھئے: عید ایک روشن صبح
ویڈیوز، مختصر ٹیوٹوریلز، لائیو سیگمنٹس اور سرچ انجنوں نے کسی ہنر یا نظریے کو چند سیکنڈ میں قابلِ رسائی بنا دیا۔ اس تبدیلی نے مثبت پہلو بھی دئیے۔ علم کی دائرہ بندی وسیع ہوئی، آوازیں اجاگر ہوئیں، مگر ساتھ ہی محنت میں کمی، جلدی تشہیر، اور دو سے تین قدم میں کامیابی کا خواب (دیکھ لینے کے رجحان ) میں اضافہ ہوا۔
سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی زندگی میں جتنی گہرائی تک رسائی حاصل کر لی ہے، شاید کسی اور ذریعے نے اس قدر نہیں کی ہوگی۔ آج کا نوجوان صبح اُٹھتے ہی سب سے پہلے موبائل فون دیکھتا ہے، اور سونے سے پہلے بھی۔ اس عادت نے رفتہ رفتہ ان کے ذہنوں میں ایک ایسا تغیر پیدا کر دیا ہے جس نے محنت، صبر، مستقل مزاجی اور تدریجی ترقی کے تصور کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیا ہے۔ دن بھر کے کاموں میں بھی یہی ڈیجیٹل اسکرین ان کے ہاتھ، ذہن اور احساسات کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔ چاہے وہ پڑھائی کا وقت ہو، ملازمت کی ذمے داری ہو، گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے کا وقت ہو۔ وہ دیواریں، روشنی، چہرے اور رشتے دیکھنا بھول کر بٹنوں اور آئیکانس کی دنیا میں رہنے لگا ہے۔ اصل زندگی پیچھے رہ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ نتیجہ چمکتا ہوا دکھاتا ہے اور محنت کا پس منظر دھندلا۔ جب نتیجہ اتنا چمک دار ہو اور سفر اتنا مخفی، تو نوجوان کیوں نہ یہ سمجھیں کہ محنت اب پرانی بات ہو چکی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ محنت نے کبھی اپنی اہمیت نہیں کھوئی۔ اس کیلئے وقت چاہئے، جو سوشل میڈیا نے چرالیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ملازمت: امانت کا عہداور ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا ہے
آج گھنٹوں کی اسکرولنگ انہیں یہ احساس ہی نہیں ہونے دیتی کہ وقت کس تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ دو منٹ کے لئے فون کھولنے والا نوجوان جب ہوش میں آتا ہے تو ایک نہیں بلکہ دو، تین گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں۔ یہ گھنٹے زندگی کے وہ گھنٹے ہیں جو کبھی واپس نہیں آتے کیونکہ کون نہیں جانتا کہ گیا وقت واپس نہیں آتا۔
پہلے کامیاب وہ تھا جو علم، کردار، اخلاق اور کام میں طاق ہو۔ آج کامیاب وہ ہے جس کے فالورس زیادہ اور آواز اونچی ہو۔ یہ تبدیلی تربیت کے پورے ڈھانچے کو شکست دے رہی ہے۔ تربیت جو اب کتابوں، اساتذہ اور بزرگوں سے نہیں بلکہ انفلوئنسر سے ہو رہی ہے۔ ادب کی تربیت میمز سے، اخلاق کی ٹرینڈز سے، اور خود اعتمادی کی تربیت سیلفیز سے ہو رہی ہے۔ گزشتہ ادوار میں بچوں کی تربیت کا مرکز والدین کی آغوش اور اساتذہ کی بھرپور رہنمائی تھے لیکن آج وقت بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا، یہی وجہ ہے کہ آج نوجوانوں کے پاس خیالات تو ہیں، مگر علم اور تجربہ نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ربّ کی معرفت کا ذریعہ
نوجوا ن کس راستے پر چلنا چاہتے ہیں؟ یہ فیصلہ ان کو خو د کرنا ہوگا ۔وہ راستہ جہاں دکھاوا ہے، مگر انجام کھوکھلا ہے،یا وہ راستہ جہاں محنت ہے مگر مستقبل روشن ہے۔ آج کے نوجوان کے پاس یہ اختیار ہے کہ اپنے وقت کو بچا ئے، اپنی صلاحیتوں پر توجہ دے، مستقبل کیلئے وہ راستہ چنے جو اسےطاقتوربنائے۔ اپنی زندگی کا کنٹرول خود سنبھالیں تو بے شمار کامیابیاں سمیٹیں گے۔ نوجوانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ قدیم و جدید علوم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل دنیا میں رہنمائی، اخلاقی معیارات اور عملی پالیسیوں پر عمل کریں، مزید یہ کہ اس سفر میں قرآن و سنت کی روشنی میں جدید مسائل کا حل تلاش کریں۔ یہ بھی لازم ہے کہ ایسا فکری و اخلاقی فریم ورک تیار کریں جو حق، عدل کو ایک ساتھ رواں رکھے۔