ایران جنگ کے نتیجے میںدنیا ایک غیریقینی معاشی صورتحال یا بحران سے گزررہی ہے،اس سے ہندوستان بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔اسی تناظر میںآربی آئی نے کچھ اقدامات کا اعلان کیا ہے جو معیشت کوسہارا دینےکیلئےاہم ہیں۔
EPAPER
Updated: June 25, 2026, 4:03 PM IST | Abhijit Mukhopadhyay | Mumbai
ایران جنگ کے نتیجے میںدنیا ایک غیریقینی معاشی صورتحال یا بحران سے گزررہی ہے،اس سے ہندوستان بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔اسی تناظر میںآربی آئی نے کچھ اقدامات کا اعلان کیا ہے جو معیشت کوسہارا دینےکیلئےاہم ہیں۔
اس میں شبہ نہیں ہےکہ ہندوستانی معیشت نے جنوری تامارچ سہ ماہی میں ۷ء۸؍ فیصد کی نمو درج کی اور اس پورے مالی سا ل میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی)۷ء۷؍ فیصد رہی ۔ اس کے باوجود، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)نےاپنے تازہ ترین تخمینوں میں ۲۷-۲۰۲۶ء کیلئے اپنی جی ڈی پی کی شرح کی پیش گوئی کو کم کر کے ۶ء۶؍ فیصد کر دیا ہے۔توقع کی جارہی تھی کہ تخمینہ کم کیا جاسکتا ہے۔امریکہ اورایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کا معاہدہ توہوچکا ہے مگر آبنائے ہرمز میں تعطل ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے۔اس کے نتیجے میں، عالمی سپلائی نظام میں شدید خلل پڑا ہے، خاص طور پر تیل، گیس اور توانائی کے شعبوں میں جس سے عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے اورہندوستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ ہول سیل پرائس انڈیکس بڑھ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ یہ افراط زر مزید صارفین اور خردہ شعبوں تک پھیل سکتا ہے۔ کمزور کاروباری ماحول، ایکوئٹیز اور دیگر مالیاتی منڈیوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے اخراج کی عکاسی کر رہا ہے ۔ روپے کی گراوٹ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
ریزرو بینک نے اب نئے اقدامات کی ایک سیریز کا اعلان کیا ہے جس میں ٹیکس میں چھوٹ سے لے کر زیرو ہیجنگ(ایسی سرمایہ کاری جو مارکیٹ خطرات سے محفوظ نہ ہو لیکن یہ سرمایہ کاری نسبتاً ارزاں ہوتی ہےاورکاروبار اچھا ہونے پر بھاری منافع دے سکتی ہے) تک کو شامل کیا ہے جن کا بنیادی مقصد ہندوستانی ڈپازٹ اسکیموں اور بانڈز کو غیر ملکی سرمائےکیلئے زیادہ پُرکشش بنانا ہے۔ معیشت کو سرمائے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، ان اقدامات سے بین الاقوامی کرنسی منڈیوں میں روپے کو استحکام اور مضبوطی ملنےکی توقع ہے۔ ہندوستان کے پاس پالیسی سازی کی کافی گنجائش ، ادارہ جاتی اعتبار اور مائیکرو اکنامک سیفٹی نیٹ ہے۔ درست حکمت عملی استحکام پر مبنی ہونی چاہئے نہ کہ گھبرانے پر۔ توانائی کی حفاظت، قیمتوں کا نظم و ضبط، بیرونی فائنانسنگ اور مسلسل ترقی پر مبنی اصلاحات ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تیرا کیا ہوگا نیتن یاہو؟کچھ سوچا ہے؟
موجودہ خلل یا بحران ایک بیرونی جھٹکا ہے۔ اس میں توانائی و ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات، ترسیل کے مشکل حالات، سرمائے کے بہاؤ میں کمی اور روپے پر بڑھتا ہوا دباؤ شامل ہے۔ اس وقت بنیادی مقصد یہ ہونا چاہئے کہ افراط زر، تجارت اور مالیاتی منڈیوں پر اس بحران کے اثرات کو کم بلکہ منظم کیاجائے۔ ہندوستان کے حالیہ پالیسی ردعمل، خاص طور پر سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور بازاروں میں نظم و نسق برقرار رکھنے کیلئے ریزرو بینک نےجو اقدامات کئے ہیں،ان سے یہی اشارے ملتے ہیں ۔ توانائی کا استحکام بہت ضروری ہے کیونکہ تیل وہ بنیادی ذریعہ ہے جس سے براہ راست گھریلو معیشت متاثر ہوسکتی ہے۔ لہٰذا پالیسی سازوں کیلئے اسٹراٹیجک ذخائر میں اضافہ کرنا، درآمدی ذرائع کومتنوع بنانا اور ضرورت پڑنے پر ایندھن کی قیمتوں میں مرحلہ وار ایڈجسٹمنٹ کرنا اہم ہے۔ قیمت میں مناسب اضافہ توانائی کی کارکردگی کو فروغ دیتا ہے اوردور رس نتائج کے طورپر دیکھیں تو یہ ایندھن کےضیاع کو بھی کم کرتا ہے۔
اس کی ایک عملی مثال ٹرانسپورٹ اور صنعتی ایندھن کی کارکردگی کو مضبوط کر نے سےمتعلق اقدامات کی پیش کی جاسکتی ہے جبکہ اسٹراٹیجک ذخائر میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ معیشت کو صرف قیمتوں میں اضافے کے ذریعے ہی نہیںبلکہ کم کھپت کے ذریعے بھی پے درپے جھٹکوں سےبچایا جا سکے ۔مہنگائی پر کنٹرول بھی ضروری ہے۔ جب درآمد شدہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات مال برداری، خوراک، کھاد اور تیار سامان کی نقل وحمل پرپڑتے ہیں۔ لہٰذا، لاجسٹک، اسٹوریج انتظام اور کاروبار وپیداوار کو وسعت دینے کی پالیسی پر بروقت کارروائی انتہائی اہم ہو جاتی ہے۔ ریزرو بینک کی موجودہ پالیسی اسی نقطہ نظر سے مطابقت رکھتی ہے اور افراط زر نیز معاشی نمو پر قریب سے نگرانی رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بہار :اعلیٰ تعلیم اور’معینہ مدت اساتذہ‘
کمزور روپیہ ہمیشہ معاشی کمزوری کی علامت نہیں ہوتا۔عالمی جھٹکوں کے دوران کچھ ایڈجسٹمنٹ فطری طورپرہوتا ہے ۔ بنیادی مقصدیہ ہونا چاہئے کہ بے ترتیب اتار چڑھاؤ کو روکا جائے۔ آر بی آئی نے پہلے ہی اشارہ دیا ہے کہ وہ ایک مقررہ زر مبادلہ کو نشانہ بنائے بغیر ضرورت سے زیادہ اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کیلئے مداخلت کرنے والا ہے ۔ حالیہ پیکیج کے تحت طویل مدتی حکومتی سیکوریٹیز تک رسائی کو بڑھادیاگیا ہے اور کچھ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری کی پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔ ان اقدامات سےقومی معیشت میں سرمائےکے بہاؤ میں اضافہ ہوسکتاہے۔ حکومت کا غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سوداور سرکاری سیکوریٹیز سے ہونے و الی مجموعی آمدنی پر ٹیکس سے راحت دینے کا فیصلہ بھی ہندوستانی قرض بازار کو مزید پُرکشش بناتا ہے۔اجتماعی طور پر یہ اقدامات ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم کرنے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کو کم کرنے اور روپے سے متعین اثاثوں پر اعتماد بڑھانے میں مدد کر سکتے ہیں ۔ اگربحران کے نتیجے میںعالمی معیشت میںکمزوری آتی ہے تو مضبوط گھریلو طلب،مستحکم سرمایہ کاری اور برآمدات سے شرح نمو کو سہارا دینے کی ضرورت ہوگی۔ سب سے مؤثر حکمت عملی یہ ہے کہ پبلک کیپٹل ایکسپینڈیچر( عوامی پروجیکٹوں پر اخراجات) کو جاری رکھا جائے، خاص طور پر لاجسٹک، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ریل، بندرگاہوں اور اسٹوریج کے شعبوں میں۔(اس سے ملک پیداواری صلاحیت بڑھتی ہے اور اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں)۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف مستقبل کے خطرات کو کم کرتی ہے بلکہ قلیل مدتی کساد بازاری سے نمٹنے سے بھی موثرثابت ہوتی۔ پالیسی ساز واضح پیغام رسانی، پیشگوئی کے اصولوں اورمسلسل اصلاحات پر مبنی نقطہ نظر کے ذریعے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ ہندوستان ایک کھلی، مستحکم اور سرمایہ کاری کے قابل معیشت ہے۔ آنے والی سہ ماہیوں کیلئے حکمت عملی تین پہلوؤں پر مبنی ہونی چاہئے۔ سب سے پہلے، ایندھن کی حفاظت، ذخائر اور مارکیٹ مینجمنٹ کے ذریعے معاشی جھٹکوںکو برداشت کرنا۔ دوسرا، سپلائی سائیڈ یا پیداواری کارکردگی اورٹارگٹڈ سپورٹ کے ذریعے افراط زر کے اثرات کو محدودکرنا، تیسرا، سرمایہ کاری، برآمدات اور کیپٹل مارکیٹ میں اصلاحات کے ذریعے شرح نمو کو بڑھانا۔ ہندوستان نے ماضی کے عالمی بحران کے وقتوںمیں یہ ثابت کیا ہے کہ ادارہ جاتی تال میل، معاون ومتوازن پالیسیاںمائیکرواکنامک استحکام کو یقینی بناتے ہوئے ترقی کی رفتار کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔